Daily Mashriq


ترقی کے رہنماء اصول

ترقی کے رہنماء اصول

اگر ہم دنیا میں ترقی یافتہ اقوام کی کامیابی کا راز جاننے کی کوشش کریں تو وہ دو عناصر کی وجہ سے ہے۔ ایک تعلیم اور دوسری لیڈر شپ یعنی قیادت۔ اگر ہم جاپان، کوریا، امریکہ، بر طانیہ، چین اور دوسرے کئی ممالک کی ترقی دیکھیں تو ان کی کامیابیوں اور کامرانیوں کا راز تعلیم اور اچھی قیادت ہے۔ مثلاً آسٹریا میں شرح خواندگی 99 فیصد ہے جس کی وجہ سے وہاں فی کس آمدنی40 ہزار ڈالرز اور متوقع زندگی 82 سال ہے۔ اس طرح کینیڈا کی شرح خواندگی99 فیصد جبکہ اچھی تعلیم اور علم کی وجہ سے کینیڈا کی فی کس آمدنی41ہزار ڈالرز اور متوقع زندگی83 سال ہے۔ فرانس کی شرح خواندگی99 فیصد جبکہ فی کس آمدنی36 ہزار ڈالرز اور متوقع زندگی84 سال ہے جبکہ اس کے برعکس وہ ممالک جہاں شرح خواندگی اور تعلیم کم ہے وہاں پر فی کس آمدنی اور متوقع زندگی بہت کم ہے۔ مثلاًچاڈ کی خواندگی 35 فیصد ہے جس کی وجہ سے وہاں پر فی کس آمدنی1500 ڈالر ہے۔ اس طر ح ایتھوپیا کی شرح خواندگی36فیصد ہے جس کے نتیجے میںوہاں پر فی کس آمدنی 800 ڈالرز اور متوقع زندگی50 سال ہے۔ اگر ہم دنیا کے10 بہترین جمہوری ممالک کا تجزیہ کریں تو یہ ممالک تعلیم میں سب سے آگے ہیں، جس کی وجہ سے وہ دنیا میں ہر میدان اقتصادیات، سائنس اور ٹیکنالوجی اور دوسرے میدانوں یعنی قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے دن دوگنی رات چگنی ترقی کر رہے ہیں۔ ان میں بہت سارے عوامل کیساتھ ساتھ تعلیمی شعور اور قیادت کی کمی بھی ہے۔ اگر ہم قرآن مجید فرقان حمید پرغور وفکر کریں تو ان میں کئی آیات علم اور تعلیم سے متعلق ہیں۔ درحقیقت یہ کتاب بذات خود علم، عقل، فہم اور شعور کا سب سے بڑا سر چشمہ، خزانہ اور منبع ہے۔ علم نور ہے اور نور کے بغیر حق اور سچ میں فرق اور تمیز کرنا مشکل ہے۔ جہاں تک قیادت اور قائدانہ صلاحیتوں کا تعلق ہے تو یہ کسی ملک کی ترقی اورکامرانی میں آکسیجن کا کردار ادا کرتا ہے۔ سید ابواعلیٰ مودودی اور دوسرے بڑے سکالروں کے مطابق ایک اچھے مسلمان لیڈر میں 12 خصوصیات کا ہونا ضروری ہے۔ ان خصوصیات میں کسی لیڈرکا اسلامی عقائد پر عمل پیرا ہونا، صا دق امین کی خصوصیت، علم اور دانائی، حو صلہ اور مصمم ارادہ، باہمی مشاورت کا جذبہ ہونا، اتحاد اور اتفاق کا ہونا، اخلاقیات اور پرہیزگاری، دوسروں کو دلائل کے ذریعے قائل کرنا، انصاف عدل اور خدا ترسی، صبر برداشت اور تحمل، ارادے کا پکا ہونا اور مذہب کیلئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرنا، زندگی بھر اسلامی قدروںکیلئے کوشاں رہنا، اللہ کا شکر بجا لانا اور اس سے دعا مانگنا اور عصری علوم کا جاننا شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ سورۃ بقرہ میں ارشاد فرماتے ہیں ’’جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست اللہ ہے‘‘۔ کسی بھی لیڈر کو راسخ العقیدہ ہونا چاہئے اور جو دنیاوی، مذہبی اور عصری علوم کے بارے میں جانتا ہو۔ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے کوئی حاکم جو مسلمانوں کی حکومت کا کوئی منصب سنبھالے پھر اس کی ذمہ داریاں ادا کرنے کیلئے جان نہ لڑائے اور خلوص کیساتھ کام نہ کرے وہ مسلمانوں کیساتھ جنت میں قطعاً داخل نہیں ہوگا۔ سورۃ النساء میں ارشاد ہے اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیںاہل امانت کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کیساتھ کرو۔ نبیﷺ نے حضرت ابوذرؓ سے فرمایا: اے ابوذرؓ تم کمزور آدمی ہو اور حکومت کا منصب ایک امانت ہے۔ قیامت کے روز وہ رسوائی اور ندامت کا مؤجب ہوگا سوا اسی شخص کے جو اس کے حق کا پورا پورا لحا ظ کرے اور جو ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے اسے ٹھیک ٹھیک ادا کرے۔ حضرت ابوبکرؓ فرماتے ہیں جو شخص حکمران ہو اس کو سب سے زیادہ بھاری حساب دینا ہوگا اور وہ سب سے زیادہ سخت عذاب کے خطرے میں مبتلا ہوگا۔ ایک حکمران کی ذمہ داری کے بارے میں حضرت عمرؓ ارشاد فرماتے ہیں ’’دریائے فرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی اگر مر جائے تو مجھے ڈر لگتا ہے کہ اللہ مجھ سے باز پرس کرے گا‘‘۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد ہے ’’مسلمانوں کے فرمان روا پر یہ فر ض ہے کہ وہ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے کرے اور امانت ادا کرے پھر جب وہ اس طرح کام کر رہا ہو تو لوگوں پر یہ فرض ہے کہ اس کی سنیں اور مانیں اور جب ان کو پکارا جائے تو لبیک کہیں۔ حضورﷺ کاا رشاد ہے: بخدا ہم اپنی اس حکومت کا منصب کسی ایسے شخص کو نہیں دیتے جو ان کا طالب ہو یا اس کا حریص ہو۔ سورۃ الحج میں ارشاد ہے ’’یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکواۃ دیں گے اور نیکی کا حکم دیں گے اور بدی سے روکیں گے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر کسی ملک کی قائدانہ صلاحیتیں اچھی ہوں تو وہ ملک10 سال میں900 چند ترقی کر سکتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے کہ 100 بھیڑ ہو اور اس کی امامت شیر کے پاس ہو تو سب یعنی بھیڑ بھی شیر کی طرح ہونگے اور اگر100 شیر ہوں اور اس کی امامت بھیڑ کے پا س ہو تو وہ سب شیر بھیڑ کی طرح ہونگے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ وطن عزیز میں ایک نائب قاصد اور چپڑاسی کی تقرری کیلئے میٹرک تک تعلیم کیساتھ ساتھ مناسب تجربہ ضروری شرط ہے مگر بدقسمتی سے قانون ساز اداروں یعنی صوبائی اور قومی اسمبلی اور بلدیاتی امیدواروں کیلئے تعلیم کی کوئی شرط نہیں۔ اگر2018 کے عام انتخابات میں بھی قیادت نااہل، تعلیم اور قائدانہ صلاحیت سے محروم ہو تو ہم کیسے بحران سے نکلیں گے۔

متعلقہ خبریں