Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

امیر عبدالرحمن افغانستان کے ایک ولی صفت حکمران تھے۔ وہ انیسویں صدی کے آخر میں تخت نشین ہوئے تھے۔ امیر عبدالرحمن نے جب حکومت کی باگ ڈور سنبھالی تو انہوں نے اپنی دیانتداری اور سیاسی حکمت عملی سے افغانستان کو عدل وانصاف کا مرکز بنایا اور مثالی امن قائم کیا۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے امیر عبدالرحمن کا انتہائی عجیب واقعہ بیان فرمایا ہے۔ افغانستان کا یہ بادشاہ حضرت تھانوی کا تقریباً ہم عصر تھا۔ غالباً ان کا انتقال 1901ء میں ہوا ہے اور یہی وہ سال ہے جس میں حضرت تھانویؒ نے دارالعلوم دیوبند سے درس نظامی کی تکمیل کر کے تدریس وتبلیغ کا کام شروع کیا تھا۔ فرماتے ہیں کہ اگر خوف آخرت دل میں ہو تو پھر عدل وانصاف (اور سب معاملات) خود بخود ہونے لگتے ہیں۔ یہاں سرے سے جڑ ہی مفقود ہے۔ پھر عدل وانصاف کی اُمید ہی لاحاصل ہے۔ فرمایا: ایک ثقہ شخص مجھ سے امیر عبدالرحمن کے زمانے کا حکومت کابل کا ایک واقعہ بیان کرتے تھے۔ ان کی بیوی نے کسی قصور پر ایک نوکرانی کو پستول سے مار ڈالا۔ مقتول کے ورثاء نے حکومت میں دعویٰ دائر کیا۔ امیر عبدالرحمن خان کو معلوم ہوا تو سخت پریشان ہوئے اور سوچنے لگے کہ اس قتل کا قصاص لینا ضروری ہے۔ ورنہ آخرت میں میری پکڑ ہوگی۔ انہیں اندیشہ ہوا کہ لڑکے ماں کی محبت میں کوئی گڑبڑ نہ کریں، چنانچہ انہوں نے بیوی کو ایک تنہا مکان میں بند کرا دیا اور قاضی کے یہاں مقدمہ بھیج کر کہہ دیا کہ اس معاملے میں یہ رعایت نہ کی جائے کہ وہ کس کی بیوی ہے اور کن کی ماں ہے۔ شرعی قانون کے تحت عدالتی کارروائی بغیر کسی رعایت کے مکمل کی جائے چنانچہ مقدمہ عدالت میں گیا۔ قاضی نے شرعی قوانین کے تحت کارروائی کی اور قصاص کا فیصلہ صادر کر دیا۔ امیر عبدالرحمن کے بیٹوں کو معلوم ہوا تو والد کے پاس آئے اور عرض کیا: ہماری والدہ کیلئے بھی ایسی کارروائی ہوگی؟ فرمایا: جو شریعت کا حکم ہوگا، اسی پر عمل کیا جائے گا۔ افسوس تم کو اپنی والدہ پر تو رحم آتا ہے جبکہ وہ مجرم ہے اور اپنے بوڑھے باپ پر رحم نہیں آتا کہ اگر عدل وانصاف کیخلاف عمل ہوا تو قیامت کے روز فرشتے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھینچے کھینچے پھریں گے۔ رسوائی اور ذلت کا سامنا ہوگا، جہنم کا کندہ بنا دیا جاؤں گا۔ کیا تم کو باپ کی اتنی بڑی تکلیف گوارا ہے؟ صاحبزادوں نے عرض کیا کہ اگر ہم ورثاء کو راضی کر لیں اور وہ معاف کر دیں تو والد ہ کی زندگی بچ سکے گی۔ فرمایا: ہاں، اگر ان پر حکومت کی طرف سے کوئی دباؤ نہ ڈالا جائے اور وہ راضی ہو جائیں اور اپنے دل کی خوشی سے معاف کر دیں پھر کچھ حرج نہیں چنانچہ ورثاء کو راضی کر کے معافی ہوگئی اور ملکہ کی جان بچ گئی۔ یہ شان ہوتی ہے اسلام اور ایمان والوں کی۔ دیکھ لیجئے ایک حکومت یہ بھی تھی۔

(ملفوظات حکیم الامت، جلد، 6ص، 271)

متعلقہ خبریں