Daily Mashriq

نیشنل ایکشن پلان، عملدرآمد کا ایک مرتبہ پھر عزم

نیشنل ایکشن پلان، عملدرآمد کا ایک مرتبہ پھر عزم

حکومت کی جانب سے ملک میں شدت پسند اور عسکری تنظیموں کیخلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے آغاز کا فیصلہ کرنے کے حوالے سے قبل ازیں بی بی سی کو انٹرویو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عندیہ دیا تھا علاوہ ازیں انتہا پسند تنظیموں کیخلاف کارروائی کی تصدیق وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں بھی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت تمام عسکری تنظیموں کیخلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے21 فروری کو ہونے والے اجلاس میں کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، اس کیساتھ جماعت الدعوۃ اور فلاحِ انسانیت پر دوبارہ پابندی لگانے کا بھی حکم دیا گیا تھا۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے معاشرے سے انتہاپسندی اور عسکریت پسندی کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست کو شدت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں ہونے دیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی اتفاق رائے پاکستان کو مثبت سمت گامزن کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کارروائی سے فنانشل ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے اُٹھائے گئے ان مسائل سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی جن کی گزشتہ ماہ ہونے والے اجلاس میں دوبارہ نشاندہی کی گئی تھی۔ بریفنگ میں عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ جیشِ محمد، جماعت الدعوۃ اور فلاحِ انسانیت کیخلاف کارروائی ہوسکتی ہے، اس موقع پر ہونے والی گفتگو سے یہ بات واضح تھی کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی جانب سے جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر پر پابندی لگانے کے موقف پر بھی نظرثانی کرے گا۔ جہاں تک عندیہ دینے اور اصولی فیصلہ کرنے کا سوال ہے اگر دیکھا جائے تو 2014 میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا گیا تھا گوکہ اس قسم کے اقدامات کیلئے وقت درکار ہوتا ہے لیکن کافی وقت گزرنے کے باوجود اس فیصلے پر عملدرآمد میں وہ سنجیدگی سامنے نہیں آئی تھی جس کی ضرورت تھی۔ شاید اس کی سب سے بڑی وجہ ملک میں سیاسی حالات اور انتخابات تھے جس کے بعد بھی ملک میں سیاسی استحکام اور سب سے بڑھ کر معاشی معاملات پر حکومت کی پوری توجہ رہی۔ اب حالات نے ملک کو ایک ایسے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جس میں ایک مرتبہ پھر وہ فیصلہ دہرایا جائے جو2014ء میں کیا گیا تھا۔ بہرحال دیرآید درست آید کے مصداق اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی قیادت کے متفقہ فیصلے کے تحت جو نیشنل ایکشن پلان تشکیل دے کر اہم فیصلوں پر اتفاق کیا گیا تھا ان پر عملدرآمد میں اب تاخیر نہ ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کالعدم تنظیموں اور شدت پسند عناصر کے خفتہ کمین گاہوں اور ان کے فلاحی اداروں کے چھتری تلے چلنے والے فلاحی اداروں اور سکولوں سبھی کے معاملات کا جائزہ لینے اور نمٹانے کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات ہی اہم اور عملدرآمد کے متقاضی تھے۔ بہرحال وقت اور حالات کے تناظر میں ان تحفظات کو دور کرنے میں تعجیل کی ضرورت ہے جس پر فنانشل ٹاسک فورس اور بعض ممالک کے زیادہ تحفظات ہیں۔ اس امر پر بحث ہوسکتی ہے کہ مطالبہ کرنے والوں کے مطالبات مفروضوں پر مبنی اور دبائو کے حربے ہیں لیکن جہاں خود ہمارے دو اہم وفاقی وزراء از خود عندیہ دے رہے ہیں اور وزیراعظم بھی اس کے خواہاں ہیں تو اسے اعتراف ہی گردانا جائے گا جس کے بعد سنجیدہ اور نظر آنے والے اقدامات میں تاخیر کی گنجائش نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جن تنظیموں کی باقاعدہ نام لیکر نشاندہی ہوتی ہے ان تنظیموں کے وہ معاملات جس کا بعض بیرونی ممالک بار بار تذکرہ کرکے تحفظات کااظہار کرتے ہیں اس کا نہ تو کوئی ثبوت دیا جاتا ہے اور نہ ہی اس قسم کی سرگرمیوں کے حوالے سے وثوق سے کچھ کہنا ممکن ہے۔ جہاں تک علاوہ ازیں کی سرگرمیوں کا سوال ہے وہ ان تنظیموں کا ایک ایسا نافع اور مثبت چہرہ ہے جو واضح نظر بھی آتا ہے اور معاشرے کو اس سے فوائد بھی مل رہے ہیں لیکن چونکہ معاملات پر شکوک و شبہات کے باعث پاکستان کو عالمی سطح پر مطعون کیاجارہا ہے لہٰذا ان جملہ مراکز کی بندش اور کارروائی مجبوری بن گئی ہے۔ ایسے میں مثبت راستہ یہی نظر آتا ہے کہ وہ ٹرسٹ اور اس کے زیر اہتمام فلاحی وتعلیمی صحت کے شعبے اور قدرتی آفات کے موقع پر جو سریع الحرکت اور موثر نیٹ ورک ہے اسے حکومت کی سرپرستی میں اس طرح سے لیا جائے کہ ان کی کارکردگی متاثر نہ ہو، اس پر اعتراض کی بھی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ اب جبکہ مکرر فیصلہ کیا جا چکا ہے اور حالات ، حکمت اور بصیرت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ حیلے بہانے کے وہ تمام راستے اور مواقع ختم کئے جائیں جو بار بار عالمی سطح پرہمارے لئے مشکلات کا باعث بن رہے ہیں۔ جہاں تک پڑوسی ملک کے پروپیگنڈے کا تعلق ہے حیرت انگیز امر یہ ہے کہ وہ دعویٰ تو بلند و بانگ کرتا ہے مگر جب ڈوزیئر دینے اور شواہد و ثبوت پیش کرنے کا وقت آتا ہے تو ان الزامات کی کوئی حقیقت سامنے نہیں لائی جاتی اور معاملات الزام تراشی کے گرداب میں پھنس کر تحلیل ہوجاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں