Daily Mashriq


خیرات میں دے آیا ہوں جیتی ہوئی بازی

خیرات میں دے آیا ہوں جیتی ہوئی بازی

دنیا یہ سمجھتی ہے کہ میں ہار گیا ہوں

پشاورکے اُبھرتے ہوئے شاعر ڈاکٹراسحاق وردگ اس وقت اپنی شاعری کے پاور پلے میں شعر کہہ رہا ہے۔ اس کا یہ شعر مجھے پہلے بھی اچھا لگتا تھا لیکن بھارتی پائلٹ ابی نندن کی واپسی کے بعد کی صورتحال کے تناظر میں اس شعر کی معنویت اور ادبی مقام مزید اونچا ہوا ہے۔ اس موجودہ منظرنامے میں اس شعر میں پاکستان کا مؤقف بڑا واضح دکھائی دے رہا ہے۔ پلوا مہ ’’وقوعہ‘‘ کے بعد تاحال جو منظرنامہ بنا ہے اس موجودہ وقت تک تو پاکستان کا ہر حوالے سے پلڑا بھاری دکھائی دے رہا ہے۔ قوم اور عسکری وسیاسی قیادت سب ایک پیج پر دکھائی دے رہے ہیں۔ کوئی کسی کو غدار نہیں کہہ رہا بلکہ ایک ہی بیانیہ سب کے لبوں پر ہے اور پاکستان ہی سب کی ترجیح دکھائی دیتی ہے۔ اس کے برعکس سوشل میڈیا کے ذریعے انڈین چینلز تک جو رسائی حاصل ہورہی ہے اس سے تو بھارتی سسٹم کی قلعی واضح طور پر کھلتی دکھائی دے رہی ہے۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ پورا ہندوستان حکمران سیاسی جماعت کے ہاتھوں یرغمال دکھائی دیتا ہے۔ جس میں ہندوستان کا بڑا میڈیا حکمران جماعت کا ترجمان دکھائی دے رہا ہے جو پلوامہ کے وقوعے کی خبر ہونے کیساتھ ہی اس کا الزام پاکستان پر دھر رہا ہے۔ ہندوستانی میڈیا کو دیکھ کر اپنے میڈیا کو سلام کرنے کو جی چاہ رہا ہے۔ بھلے سے ہمارے الیکٹرانک میڈیا ہاؤسز کی مختلف سیاسی پارٹیوں سے وابستگی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے لیکن پاک بھارت کشیدگی کے جاری اس ایونٹ کو پاکستانی ٹی وی نے جس طریقے سے رپورٹ کیا وہ خوش آئند ہے کہ کسی قسم کی کوئی غلیظ رپورٹنگ نہیں کی گئی جو سرحد کے اس پار کے چینلوں میں دکھائی دے رہی ہے۔ خود انڈیا کے سنجیدہ صحافی بھارتی میڈیا کو ’’گٹر میڈیا‘‘ پکار رہے ہیں۔ جن کا مقصد جنگ کی چنگاری کو بھڑکانا ہے۔ خداجانے بھارتی میڈیا ’ہندوتوا‘ کے خوف سے ایسا کر رہا ہے یا پھر اس کے پیچھے لفافہ کلچر کا فروغ ہے، جو بھی ہے اس وقت بھارتی میڈیا ایک بھیانک کردار ادا کر رہا ہے۔ اگر موجوہ صورتحال میںکوئی برا ہوتا ہے تو میں اس کا الزام اسی گٹر میڈیا کو دوں گا۔ دراصل بھارت کی فلم انڈسٹری کی سائیکی پوری قوم میں اس طرح سرائیت کرچکی ہے کہ وہاں ٹی وی چینل بھی بالی ووڈ کے انداز کو اپنے اندر سے ختم نہیں کرسکے۔ سنسنی خیزی، سسپنس، ماردھاڑ، خیخ وپکار، ہیروازم، بھونڈی وطن پرستی اور تعصب وغیرہ سب بالی ووڈ کی شان رہے ہیں۔ بھلے سے بالی ووڈ میں تارے زمین جیسی اکا دکا موضوعاتی فلم بنتی ہے لیکن وہاں زیادہ تر فلمیںفینٹسی کے موضوعات پر بنتی ہیں جہاں ایک رجنی کانت کسی ملک کی فوج سے اکیلا لڑ لیتا ہے اور لوگ ہال میں تالیاں پیٹتے ہیں۔ ہمارے ہاں کلاشنکوف اور گنڈاسا سے لیس پشتو اور پنجابی فلموں کی ایک خاص مارکیٹ رہی ہے لیکن اب مار دھاڑ والی وہ فلمیں ہی مفقود اہوگئی ہیں جبکہ انڈیا میں باہو بھلی جیسی محیرالعقول واقعات سے بھری فلم ’’باہو بھلی‘‘ اربوں کا بزنس کر لیتی ہے۔ بھارتی اینکر اسی بالی ووڈ کے اثر میں گرفتار دکھائی دیتے ہیں۔ وہاں ریٹنگ حاصل کرنے کا شاید یہی ایک واحد ذریعہ دکھائی دے رہا ہے۔ کم ازکم ایک سیکولر ملک تو اس قسم کے میڈیا کا متحمل ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ ایک سیکولر ملک میں کہ جہاں کثیرالمذاہب اور کثیراللسان اور کثیرالنسل لوگ بستے ہوں وہاں اس کثرت کے مفادات کا ٹکراؤ بھی سامنے آتا رہتا ہے اور یہی ٹکراؤ اسی صورت میں روکا جاسکتا ہے جب صحت مند مکالمے کا رجحان موجود ہو جبکہ بھارتی میڈیا اتنا شورزدہ ہو چکا ہے کہ وہاں مکالمہ ہوہی نہیں سکتا بس ایک چیخم دھاڑ ہے۔ کوئی اچھی بات سنائی ہی نہیں دیتی۔ بلاشبہ بھارت ایک ہندو سٹیٹ بن چکی ہے جہاں اقلیتوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ اگر کوئی ہندو نہیں تو اسے اپنے ہندوستانی ہونے کا ثبوت فراہم کرنا پڑتا ہے۔ بھارتی میڈیا کو ایک بات ضرور سمجھ لینی چاہئے کہ بھارتی عوام نے یقیناً دیوالی، شب برات یا شادی بیاہ میں پٹاخوں کی دھمک سنی ہوگی لیکن پاکستانی قوم نے تو گزشتہ برسوں میں سچ مچ کے دھماکوں کی دھمک کو دل کے کانوں سے سنا ہے۔ جس کے بعد جنازے بھی اُٹھائے ہیں اس لئے پاکستان اور پاکستانی عوام جانتی ہے کہ جنگ کیا ہے اور جنگ کا بارود کیا کیا کہانی اور انہونیاں کرجاتا ہے۔ اسی لئے پاکستان اور ہندوستان کا مائنڈ سیٹ متضاد دکھائی دیتا ہے ہم پاکستانی تو ایک حالت جنگ میں ہیں ایک نئی جنگ کے مسلط ہونے سے ہمیں کوئی اچنبھا نہیں ہوگا۔ جنگ میں سب سے پُرخطر چیز خوف ہے۔ ہم پاکستانی تو پہلے سے ہی اس خوف سے نکل چکے ہیں۔ کیا بھارتی اس خوف پر قابو پالیں گے؟ ایک ایسی قوم جو ہندو سوچ سے خوفزدہ ہے جو بال ٹھاکرے قسم کے ایلیمنٹ کیخلاف آواز حق نہ اُٹھا سکے وہ بھلا جنگ کی ہولناکیوں کے خوف سے کیسے نکل سکتے ہیں۔ اسکے برعکس اس سارے بحران میں پاکستانی قیادت نے جو سنجیدہ رویہ اپنائے رکھا وہ نہ صرف پاکستانی قوم بلکہ ہندوستانی قوم پر بھی احسان کرگیا۔ یہ بحران ہمارے لئے بھی بہت سے سوال چھوڑ گیا اور خود ہندوستان واسیوں کیلئے بھی۔ وہ سوال کہ جن کے جوابات ہم ہی نے سوچنے ہیں دو ہمسائے اب روایتی ہمسائے نہیں رہے۔ ان کا کوئی غلط فیصلہ پوری دنیا کو بھسم کرسکتا ہے۔ مجھے اس ساری صورتحال سے بس اتنی خوشی ضرور ملی ہے کہ ہماری قیادت نے کوئی ایسا فیصلہ یا حرکت نہیں کی کہ جس سے دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہوتی جبکہ اس کے برعکس ہندوستانیوں نے دنیا کو خود پر ہنسانے کے کئی ایک مواقع فراہم کئے۔ اس ساری صورتحال میں بحیثیت پاکستانی ہمیں یہ ضرور سوچنا ہے کہ ہم نے آئندہ کیا کرنا ہے۔ ہماری اکانومی کی ترقی ہی ہمارا سہارا ہے۔ اکانومی کو بہتر بناکر ہی ہم ایک باوقار مستقبل کا سوچ سکتے ہیں۔ اکانومی کو بہترین منصوبہ سازی اور محنت سے ہی بہتر کیا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں