Daily Mashriq


آمدن سے زائد اثاثے: علیم خان کو جیل بھیجنے کا حکم

آمدن سے زائد اثاثے: علیم خان کو جیل بھیجنے کا حکم

لاہور کی احتساب عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علیم خان کو 14 روز کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔لاہور کی احتساب عدالت میں علیم خان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں اور آف شور کمپنیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

اس موقع پر نیب نے جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر سخت سیکیورٹی میں علیم خان کو عدالت میں پیش کیا۔

دوران سماعت نیب کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ علیم خان سے مزید تفتیش درکار ہے اور استدعا کی کہ عدالت ان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کرے۔

ادھر علیم خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں، ان کے موکل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جائے۔

بعد ازاں عدالت نے نیب کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر کے علیم خان کو 14 روز کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

واضح رہے کہ علیم خان کی پیشی کے موقع پر پی ٹی آئی کارکنوں کی کثیر تعداد احتساب عدالت کے باہر موجود تھی۔

علیم خان کی گرفتاری

خیال رہے کہ 6 فروری کو نیب نے پی ٹی آئی رہنما اور اس وقت کے وزیر علیم خان کو نیب آفس میں پیشی کے بعد گرفتار کرلیا تھا۔

نیب کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ قومی احتساب بیورو نے پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان کو مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

اس اعلامیے میں ملزم عبدالعلیم خان کی گرفتاری کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ملزم کی جانب سے مبینہ طور پر پارک ویو کو آپریٹنگ ہاؤسنگ سوسائٹی کے بطور سیکریٹری اور ممبر صوبائی اسمبلی کے طور پر اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور اسی کی بدولت پاکستان اور بیرون ملک مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثے بنائے۔

اعلامیے میں تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ ملزم عبدالعلیم خان نے ریئل اسٹیٹ کاروبار کا آغاز کرتے ہوئے اس کاروبار میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی جبکہ ملزم نے لاہور اور مضافات میں اپنی کمپنی میسرز اے اینڈ اے پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام مبینہ طور پر 900 کینال زمین خریدی جبکہ 600 کینال کی مزید زمین کی خریداری کے لیے بیانیہ بھی ادا کی گیا، تاہم علیم خان اس زمین کی خریداری کے لیے موجود وسائل کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔

نیب لاہور کے مطابق ملزم علیم خان نے مبینہ طور پر ملک میں موجود اپنے اثاثوں کے علاوہ 2005 اور 2006 کے دوران متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں متعدد آف شور کمپنیاں بھی قائم کیں تھیں جبکہ ملزم کے نام موجود اثاثوں سے کہی زیادہ اثاثے خریدے گئے جس کے بارے میں بھی تحقیقات جاری ہیں۔

اس اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ ملزم کی جانب سے مبینہ طور پر ریکارڈ میں ردوبدل کے پیش نظر ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

خیال رہے کہ آمدن سے زائد اثاثے، پاناما پیپز میں آف شور کمپنی کے ظاہر ہونے اور ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق عبدالعلیم خان کے خلاف نیب تحقیقات کررہا تھا اور وہ 3 مرتبہ پہلے بھی نیب کے سامنے پیش ہوچکے تھے۔

متعلقہ خبریں