Daily Mashriq


جمال خاشقجی کی لاش کو بھٹی میں جلا کر ٹھکانے لگانے کا انکشاف، الجزیرہ کا دعویٰ

جمال خاشقجی کی لاش کو بھٹی میں جلا کر ٹھکانے لگانے کا انکشاف، الجزیرہ کا دعویٰ

ترکی میں سعودی قونصل خانے میں قتل ہونے والے صحافی جمال خاشقجی کی لاش کے ٹکڑوں کو سعودی قونصل جنرل کی رہائش گاہ میں بھٹی میں جلانے کا انکشاف ہوا ہے۔

قطری نشریاتی ادارے 'الجزیرہ' کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ادارے کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق یہ بات سامنے آئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ترک حکام کو یہ معلوم ہوا ہے کہ سعودی قونصل جنرل کے گھر میں موجود بھٹی میں جلائے جانے والے پلاسٹک کے تھیلوں میں ممکنہ طور پر جمال خاشقجی کے جسم کے اعضا تھے، جو انہیں قتل کرنے کے بعد یہاں منتقل کیے گئے تھے۔

اس حوالے سے الجزیرہ نے سعودی قونصل جنرل کے گھر میں موجود بھٹی کی تعمیر کرنے والے مزدور کا انٹرویو کیا، یہ بھٹی ایک ہزار ڈگری سینٹی گریڈ کی حرارت پیدا کرنے کے لیے کافی ہے جس میں دھات کو بھی پگھلایا جاسکتا ہے۔

ترک حکام کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ سعودی صحافی کے قتل کے بعد سعودی قونصل جنرل کے گھر پر باربی کیو کیا گیا جس کے لیے بڑے پیمانے پر گوشت کا آرڈر بھی کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ترک حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ جمال خاشقجی کے جسم کے ٹکڑوں کو جلانے کے لیے تین دن لگے۔

ترک تفتیش کاروں کو یہ بھی معلوم ہوا کہ جب سعودی قونصل خانے کی دیوار پر موجود نئے رنگ کو اتارا گیا تو اس کے اندر جمال خاشقجی کے خون کے نشان بھی دیکھے گئے تھے اور دیواروں کو یقینی طور پر خاشقجی کے قتل کے بعد ہی رنگ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ قطری ٹی وی کا کہنا ہے کہ ان کی یہ رپورٹ سیکیورٹی حکام، سیاست دانوں اور جمال خاشقجی کے کچھ ترک دوستوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت پر مشتمل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ترک انٹیلی جنس چیف حکان فدان وہ پہلے ترک عہدیدار تھے جنہوں نے سعودی عرب سے جمال خاشقجی کے لاپتہ ہونے سے متعلق رابطہ کیا تھا۔

جمال خاشقجی قتل

سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی 2 اکتوبر 2018 کو اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں کی زینت بنے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل تو ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا۔

صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا۔

تاہم ترک حکام نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ سعودی صحافی اور سعودی ریاست پر تنقید کرنے والے جمال خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا۔

سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔

تاہم 12 اکتوبر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر آواز اٹھانے والے 5 شاہی خاندان کے افراد گزشتہ ہفتے سے غائب ہیں۔

اس کے بعد جمال خاشقجی کے ایک دوست نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی صحافی شاہی خاندان کی کرپشن اور ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے براہِ راست ملاقات بھی کی تھی۔

17 اکتوبر کو جمال خاشقجی کی گمشدگی کے بارے میں نیا انکشاف سامنے آیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ ہی ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا۔

دریں اثنا 20 اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کے اندر جھگڑے کے دوران قتل کردیا گیا۔

علاوہ ازیں گزشتہ ماہ امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کی جانب سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل طاقتور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر ہوا۔

مزید برآں دسمبر میں امریکی سینیٹ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے سے متعلق قرارداد منظور کی جس میں سعودی حکومت سے جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ داران کا احتساب کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں