Daily Mashriq

ملتان سب سے پہلے باہر ہوگیا، مسئلہ آخر کیا تھا؟

ملتان سب سے پہلے باہر ہوگیا، مسئلہ آخر کیا تھا؟

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چوتھے سیزن کے مقابلے اپنے اصل وطن لوٹنے سے پہلے آخری پڑاؤ یعنی ابوظہبی پہنچ چکے ہیں۔ 4 سالوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ ابوظہبی کے شیخ زاید اسٹیڈیم کو پی ایس ایل کی میزبانی کا شرف ملا ہے۔ یہاں 2 دن قیام کے بعد لیگ روشنیوں کے شہر کراچی منتقل ہوجائے گی کہ جہاں فائنل سمیت 8 مقابلوں کے لیے تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں۔

پہلے مرحلے کے اختتامی لمحات چل رہے ہیں اور اب ایک، ایک کرکے طے ہو رہا ہے کہ کون اگلے مرحلے تک پہنچے گا اور کون باہر ہوگا؟ پچھلے سال کی طرح اس سال بھی سب سے پہلے ملتان سلطانز کو باہر کا دروازہ دیکھنا پڑا ہے۔ بہت مایوس کن کارکردگی اور اعزاز کی دوڑ سے باہر!

نسبتاً نئی ٹیم، نئے کھلاڑی اور نئی انتظامیہ بلکہ ’سائیں‘ جیسا خوبصورت میسکوٹ بھی ملتان کی قسمت نہ بدل سکا۔ 9 میچز میں سے صرف 2 میں کامیابی نصیب ہوئی جو دونوں حیران کن طور پر دفاعی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف تھیں۔ باقی تمام میچز میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا یہاں تک کہ کوئٹہ کے خلاف ایک میچ میں 160، پشاور کے خلاف 172 اور لاہور کے خلاف تو 200 رنز بنا کر بھی شکست ہی ملی۔

کراچی اور ملتان کے درمیان ہونے والے آخری میچ کو اس سیزن میں سب سے بُری کارکردگی پیش کرنے والی 2 ٹیموں کا مقابلہ کہا جاسکتا ہے کہ جس میں ’فاتح‘ ملتان رہا، مطلب یہ کہ بدترین ٹیم کا مقابلہ جیت لیا، کراچی سے ہار کر۔ بلاشبہ اس مقابلے میں کراچی کے عثمان شنواری نے بہت عمدہ باؤلنگ کی اور نوجوان عمر خان نے بھی خوب کمالات دکھائے لیکن اسکور بورڈ پر صرف 118 رنز اکٹھے کرنا ملتان کا ایسا 'جرم' تھا جس کی سزا بہت ضروری تھی اور فوراً مل بھی گئی، ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کی صورت میں۔

اس شرمناک کارکردگی پر سوال بالکل اٹھے گا کہ آخر ملتان سلطانز کے ساتھ مسئلہ کیا تھا؟ مسئلہ نہیں بلکہ مسائل تھے اور یہی وجہ ہے کہ میدان عمل میں وہ نتائج نہ مل سکے جن کی توقع تھی۔

اہم کھلاڑیوں کی عدم موجودگی

مسئلہ نمبر ایک رہا اہم کھلاڑیوں کی عدم موجودگی۔ ملتان سلطانز کی مہم کو پہلا دھچکا تو اس وقت پہنچا جب اسٹیو اسمتھ نے پی ایس ایل میں شرکت سے معذرت کرلی۔ بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کے دوران زخمی ہونے کی وجہ سے سابق آسٹریلوی کپتان کے لیے پہلی بار پی ایس ایل کھیلنا ممکن نہیں رہا تھا۔ بہت سے ماہرین نے اسے ملتان کے لیے ایک اچھا موقع قرار دیا کہ وہ اسمتھ کی جگہ کسی مزید اچھے کھلاڑی کا انتخاب کرے اور ملتان نے کیا بھی، یعنی آندرے رسل کا انتخاب، جو اسلام آباد یونائیٹڈ کے 2 مرتبہ چیمپئن بننے میں اہم کردار ادا کرچکے تھے لیکن وہ 5 میچز ہی کھیل پائے کہ ویسٹ انڈیز سے ان کا بلاوا آگیا۔

علاوہ ازیں، انگلینڈ کے جو ڈینلی بھی اس سال پی ایس ایل نہیں کھیلے، جن کی عدم موجودگی سے بیٹنگ کا شعبہ مزید کمزور ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیم کا توازن ایسا بگڑا کہ جب بیٹسمین کھیلے تو باؤلرز نے چلنے سے انکار کردیا اور جس میں باؤلرز نے اچھی کارکردگی دکھائی، وہاں بیٹسمینوں کی ایک نہ چلی۔ یوں ملتان پورے سیزن میں 'لنگڑی پالا' کھیلتا ہی نظر آیا۔

قیادت کا مسئلہ

جس طرح پاکستان کے کوچ مکی آرتھر کی کوچنگ پی ایس ایل میں نہیں چلتی، بالکل اسی طرح شعیب ملک کی کپتانی بھی چل کر نہیں دیتی۔ ملک صاحب کی انفرادی کارکردگی ہمیشہ اچھی رہتی ہے لیکن وہ ٹیم کو اٹھانے میں ہمیشہ ناکام رہے ہیں۔ پی ایس ایل کے پہلے سیزن میں کراچی کنگز ان کی وجہ سے شدید مسئلے سے دوچار ہوئی کیونکہ انہوں نے پے در پے شکستوں کے بعد سیزن کے دوران ہی قیادت چھوڑ دی تھی۔ تیسرے سیزن میں ملتان نے انہیں قیادت سونپی تو ابتدائی 6 میچز میں صرف ایک ناکامی پانے کے باوجود ملتان اہم ترین مقابلوں میں شکست کھا کر باہر ہوگیا۔ اس سال بھی نتیجہ مختلف نہیں رہا یعنی شعیب ملک کی ٹیم ہمیشہ کی طرح پی ایس ایل میں مشکلات سے دوچار ہی نظر آئی۔

قسمت کی خرابی

اس سیزن میں قسمت بھی ملتان کے ساتھ نہیں دکھائی دی، بالکل پچھلے سال کی طرح۔ ویسے بھی ہمیں پی ایس ایل 4 میں قسمت کا عمل دخل کافی نظر آیا ہے کیونکہ زیادہ تر میچز وہی ٹیمیں جیتی ہیں جنہوں نے ٹاس جیتا۔ یہ تو آپ نے دیکھا ہی ہوگا کہ ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا رحجان دیکھا جا رہا ہے۔ سیزن میں اب تک 24 میں سے صرف 3 میچز ایسے ہوئے ہیں کہ جن میں ٹاس جیتنے والی ٹیم ہاری، باقی تمام میچز اسی نے جیتے جس نے ٹاس جیتا۔ اب ملتان سلطانز کی بدقسمتی دیکھیں کہ سیزن میں اب تک کھیلے گئے 9 میچز میں سے اس نے صرف 2 میں ٹاس جیتا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دونوں میچز جیتا بھی۔ باقی ساتوں مقابلوں میں ملتان نے ٹاس کے ساتھ ساتھ میچ بھی ہارا۔

کارکردگی میں 'تسلسل'

پاکستان سپر لیگ میں اتنے تسلسل کے ساتھ کارکردگی کسی ٹیم نے نہیں دکھائی، جتنی ملتان سلطانز نے پیش کی، جی ہاں! بُری کارکردگی میں تسلسل۔ یہاں تک کہ متعدد بار جیت کے بہت قریب پہنچنے کے باوجود ملتان نے فتح کو گلے لگانے سے انکار کردیا۔ کراچی کنگز کے خلاف پہلا مقابلہ ملتان کو جیتنا چاہیے تھا کیونکہ کنگز کے ہاتھ پیر پھول چکے تھے لیکن یہ صرف 7 رنز سے ہار گئے۔

یہی نہیں لاہور قلندرز کے خلاف تو 200 رنز بنانے کے باوجود شکست کھائی۔ کراچی اور لاہور وہ ٹیمیں تھیں کہ جن کے خلاف کامیابی ملتان کے اگلے مرحلے تک پہنچنے کے امکانات کو روشن کرتی کیونکہ یہ نسبتاً کمزور ٹیمیں ہیں لیکن انہی کے ہاتھوں شکست کھا کر ملتان نے اپنے پیر پر خود کلہاڑی ماری۔ ٹی ٹوئنٹی لمحات کا کھیل ہے، کسی ایک لمحے میں میچ پر گرفت پائی ہے تو پھر اسے کھوتے نہیں کیونکہ یہی لمحات مل کر جیت یا ہار کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ملتان سلطانز کو ویسے تو کم مواقع ملے لیکن جو بھی ملے، ان سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا۔

 بنیادی کمزوری

ان تمام مسائل کے ساتھ ساتھ ملتان سلطانز کی بنیادی کمزوری ان کی بیٹنگ تھی۔ ٹی ٹوئنٹی بیٹسمینوں کا کھیل ہے اور جس کی بیٹنگ لائن مضبوط ہوتی ہے اس کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ پوری بیٹنگ لائن میں جیمز وِنس اور شعیب ملک کے علاوہ کوئی ایسا مستند بیٹسمین نہیں تھا کہ جس پر ہر میچ میں اعتبار کیا جاسکے۔ ان دونوں کے علاوہ جانسن چارلس نے بھی کچھ رنز بنا لیے لیکن اتنے نہیں کہ باؤلنگ لائن پر دباؤ کم ہوسکے۔

میچ کو 'فنش' کرنے کی صلاحیت رکھنے والے 2 کھلاڑی تھے، ایک شعیب ملک اور دوسرے شاہد آفریدی۔ شعیب تو ٹاپ آرڈر کی ناکامی کی وجہ سے شروع ہی میں آتے رہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاتھوں میچ کے خاتمے کا کام کم ہی ہوا۔ لیکن 'لالا' نے بہت مایوس کیا، بیٹنگ میں بھی اور باؤلنگ میں بھی۔ محمد عرفان، جنید خان اور شاہد آفریدی کی موجودگی کے باوجود ملتان سلطانز کی باؤلنگ بھی 'بے دانت کا شیر' ثابت ہوئی۔

'لالا' نے 7 میچز میں صرف 8 وکٹیں لیں اور رنز بھی صرف 49 بنائے۔ ایک ایسا کھلاڑی جسے 'فرق' ثابت ہونا چاہیے تھا، بالکل نہیں چلا۔ جس طرح شاہد آفریدی کھیل کے دونوں شعبوں میں نہیں چلے، ویسے ہی ملتان بھی نہیں چلا اور باہر ہو گیا۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز

آخر میں تھوڑی سی بات کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی بھی کرلیں۔ ایک طرف جہاں ملتان اگلے مرحلے تک پہنچنے کی دوڑ سے باہر ہوگیا ہے، کوئٹہ نے پشاور زلمی کو ایک مرتبہ پھر شکست دے کر پلے آف میں جگہ پالی ہے۔ پہلے مرحلے میں کوئٹہ کی کارکردگی ہمیشہ جاندار رہتی ہے اور ایک بار پھر ٹیم نمبر وَن ہے۔ لیکن اگلے مرحلے میں کیا ہوگا؟ یہ سوال زیادہ اہم ہے کیونکہ کبھی کوئٹہ کے ساتھ قسمت نہیں ہوتی اور کبھی کھلاڑی۔ کیا فتوحات کے اہم کردار شین واٹسن پلے آف مرحلہ کھیلنے کے لیے پاکستان آئیں گے؟ اگر اس سوال کا جواب 'ہاں' میں مل جائے تو کوئٹہ کی جیت کے امکانات روشن ہی روشن سمجھیے۔

متعلقہ خبریں