سیاست میں مداخلت کی شکایت بھی اور۔۔۔۔

سیاست میں مداخلت کی شکایت بھی اور۔۔۔۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ 2013 کے انتخابات میں نواز شریف کو فوج کی مدد حاصل تھی۔ اگر روایتی سیاست کرتا تو ہماری پارٹی تو اوپر ہی نہیں آ سکتی تھی۔2013کے انتخابات میں ایک بریگیڈیئر نے پنجاب میں پوری طرح نواز شریف کی مدد کی،چیئرمین تحریک انصاف کاکہنا تھا کہ میڈیا نے، عدلیہ نے اور فوج نے ہمیشہ نواز شریف کی مدد کی، فوج نے 90 میں نواز شریف کو پیسے دلوائے، 96 میں نواز شریف نے فوج کی مدد سے بے نظیر کی حکومت گرا دی اور پھر 2013 کے الیکشن میں فوج نے ان کی مدد کی۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ملٹری آپریشن کی مخالفت کی تو مجھے طالبان خان کہا گیا، 2004 سے بار بار کہتا رہا کہ قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج کو کسی صورت نہ بھجوایا جائے۔انہوں نے کہا کہ آج پی ٹی ایم والے پاکستانی فوج کو برا بھلا کہہ رہے ہیں لیکن جب فوج کو کسی علاقے میں بھیجا جاتا ہے تو وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں، آپریشن کی وجہ سے آدھے قبائلی لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی، ان کے کاروبار تباہ اور مویشی مر گئے۔ان کا کہنا تھا کہ یہاں تک تو پی ٹی ایم والوں سے اتفاق کرتا ہوں کہ ان کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوا لیکن دوسری چیز یہ ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے؟ کیا آپ دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلنا چاہتے ہیں؟عمران خان نے کہا کہ پی ٹی ایم والوں کے تحفظات کے حوالے سے جنرل قمر جاوید باجوہ سے بات کرنے کے لیے تیار ہوں کیونکہ یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں آپریشن کرنا فوج کا قصور نہیں لیکن جس نے امریکا کے کہنے پر فوج کو وہاں بھیجا اس کا قصور ہے، 250 لوگوں کے پیچھے فوج کو وہاں بھیج کر ہم نے زبردستی اپنے لوگوں کو عذاب میں ڈالا۔جس دن ہماری آرمی کمزور ہو گئی تو اس کا مطلب ہے کہ ملک ٹوٹ گیا۔تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی نجی ٹیلی ویژن چینل اور میڈیا گروپ سے صلح کے بعد معروف اینکر کو انٹرویو دیتے ہوئے فوج پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اقتدار دلوانے‘ قبائلی علاقہ جات میں فوجی آپریشن پر تنقید اور قبائلی علاقوں میں آپریشن کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزی جیسے معاملات پر کھل کر اظہار خیال ایک سیاستدان کے خیالات تو ہوسکتے ہیں لیکن اس قسم کے خیالات سے فوج کے وقار کا سوال پیداہونا اپنی جگہ لمحہ فکریہ امر ہے۔ فوج کے گرد گھومتے اس انٹرویو میں فوج کو سیاست پر پوری طرح اثر انداز ظاہر کرنا سیاست میں فوج کی مداخلت کی تصدیق کے مترادف ہے۔ معروضی حقائق کیاہیں کیا نہیں اس کی تفریق آسان نہیں لیکن وطن عزیز کی سیاست کا عوام کی بجائے فوج کے گرد گھمانے کا رویہ قابل توجہ ہے ۔ اس سے فوج کا پیشہ ورانہ وقار متاثر ہونا فطری امر ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود جلسوں سے لے کر پریس کانفرنسز اور انٹرویوز میں اشارتاً کنایتاً اور اب اعلانیہ اسے زیر بحث لایا جاتا ہے جسے سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا اور جس پر چپ سادھ لی جاتی ہے۔ ایک جمہوری حکومت میں انتظامیہ‘ مقننہ‘ عدلیہ اور فوج کا اپنا اپنا آئینی کردار متعین ہوتا ہے جس سے پھرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ آنے والے عام انتخابات کے دوران بھی مداخلت اور خلائی مخلوق کا تذکرہ ابھی سے چھڑ گیاہے جس سے قبل از وقت ہی انتخابی عمل کی وقعت کا سوال اٹھ رہا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس امر کا عدالت میں اعتراف بھی سامنے آیا ہے کہ ادارہ جاتی تو نہیں لیکن ذیلی سطح پر سیاسی عناصر میں رقم کی تقسیم اوراتحادوں کی تشکیل میں کردار ادا کیا گیا ہے جس کی کسی طور گنجائش نہیں تھی۔ ان حقائق کی روشنی میں تحریک انصاف کے چیئر مین کے خیالات خلاف حقیقت نہیں لیکن خلاف مصلحت ضرور ہیں۔ صرف نواز شریف ہی چھتری تلے نہیں رہے خود عمران خان کے بھی زیر عصا ہونے کے الزامات ملکی سیاست کی کھلی حقیقت ہیں۔ نواز شریف اپنے سابق حلیفوں کے حوالے سے حقائق منظر عام پر لانے اور سینے کے دفن راز افشاء کرنے تک کی دھمکی دے رہے ہیں۔ وہ اس امر پر بھی مصر ہیں کہ وہ 2014ء کے دھرنے کے بارے میں انکشاف کریں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب اس قسم کی صورتحال کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔ اس سے سوائے الجھائو ‘ دوریوں اور منفی جذبات کے کوئی مثبت امکان نہیں۔ ملکی سیاست کی عجیب بات یہ ہے کہ خود جو بھی کیا جائے وہ سیاست اور مخالف وہی کچھ کرنے پر آجائے تو واویلا مچتا ہے۔ جب تک اس کیفیت کاخاتمہ نہیں ہو سیاسی نظام اور جمہوریت کی بہتر نشوونما کا امکان نہیں۔ جہاں تک قبائلی علاقہ جات میں ملٹری آپریشن اور لوگوں کے متاثر ہونے کا سوال ہے یہ نہایت ناگزیر حالات ہی میں کیاگیا اور اس کی حمایت قومی سطح پر کی گئی تھی۔ جہاں تک دوران آپریشن پیش آنے والے حالات کا تعلق ہے اس سے انکار ممکن نہیں اور نہ ہی اس سے بچنا ممکن ہوتا ہے یہ صرف ہمارے ہاں نہیں ہوا بلکہ پوری دنیا میں جہاں بھی غیر معمولی حالات میں فوج کو کردار دیاگیا اس طرح کے حالات پیش آئے۔ تحریک انصاف کے چیئر مین نے کسی ملک کی آرمی کے کمزور ہونے کا مطلب ملک کے ٹوٹنے کے مترادف گردان کر اس نازک موقع پر درست استدلال پیش کیا ہے۔ اس بارے دو رائے نہیں کہ عوام کو اور خاص طور پر قبائلی عوام کو خاصی سنجیدہ شکایات ہیں مگر اس کی آڑ میں جس قسم کی قوتیں سامنے آرہی ہیں اس کے پیش نظر ان شکایات کو برقرار رکھتے ہوئے یا پھر پس پشت ڈالتے ہوئے ہر دو صورتوں میں من حیث القوم یکجہتی اور قومی اتحاد کا مظاہرہ وقت کا اہم تقاضا ہے۔ سیاستدان اور ملکی ادارے کو اپنے اپنے دائرہ کار میں رہیں اور ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت سے گریز کریں تو یہ سب سے بڑی قومی خدمت ہوگی۔ ماضی میں اگر غلطیاں ہوئی ہیں تو اس سے سبق سیکھا جائے نہ کہ اس کااعادہ کیا جائے۔

اداریہ