Daily Mashriq


خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ضرورت

خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ضرورت

انصاف کی اتحادی جماعت کا 59ماہ5دن تک حکومت کے مزے لوٹنے کے بعد دم رخصت 25دن کے لئے حکومت سے الگ ہونے کے تکلف کے ساتھ حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان اصولی علیحدگی نہیں بلکہ نظروں میںدھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ جماعت اسلامی کے جن رہنمائوں نے پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ سے ہاتھ ملا کر گرمجوشی سے رخصت لی خود ان کی جانب سے کئی مرتبہ دھواں دھار قسم کی دھمکیاں دی گئیں۔ امیر جماعت اسلامی نے بھی دم آخر اپنی مفاہمانہ سیاست کابھانڈا ایک زور دار متنازعہ بیان سے پھوڑنے کی سعی کی مگر اس کے باوجود جماعت اسلامی حزب اختلاف کی جماعت بننے کے لئے اب بھی تیار نہیں جو جماعت اسلامی جیسی اصولی سمجھے جانے والی جماعت کے وابستگان کے لئے تکلیف دہ امر ہونا چاہئے۔ ہر سیاسی جماعت کی منزل حصول اقتدار ہی ہوتی ہے مگر اقتدار سے والہانہ محبت کی ایم ایم اے کی دو بڑی جماعتیں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلامِ(ف) نے مثالیں قائم کی ہیں وہ صوبے میں اے این پی اور قومی وطن پارٹی جیسی جماعتوں کے حصے میں بھی نہیں آئیں۔ اس قسم کی جماعتوں کا اتحاد میں پرو جانا کتنا موثر ہوگا اور عوام اس کو کس نظر سے دیکھیں گے اس کا اندازہ انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی ہوسکے گا۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے پاس اب کسی طور بھی اسمبلی میں اکثریت نہیں رہی۔ ان کا یہ کہنا کہ وہ اسمبلی میں عددی اکثریت ختم ہونے پر بھی سب کچھ کرسکتے ہیں یا تو اصولی سیاست سے انحراف ہے یا پھر اسے پچیس دنوں کے لئے ضرورت پڑنے پر ہارس ٹریڈنگ کاعندیہ ہے لیکن اس کا امکان کم ہی ہے۔ اگرآخری پچیس دن پی ٹی آئی کے پاس اسمبلی میں اکثریت نہیں رہ گئی ہے تو اصول کا تقاضا یہ ہے کہ حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی جائے۔ خیبر پختونخوا حکومت کی پوزیشن یہ ہوگئی ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرنے کی سکت محسوس نہیں ہوتی۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کے مطالبے پر گورنرکی وزیر اعلیٰ کو اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت اب آئینی اور قانونی تقاضا بن گیا ہے جس سے گریز کی صورت دکھائی دے رہی ہے۔ یہ اس قسم کی بظاہر مخالفت اور درپردہ مفاہمت کارویہ ہے جو عوام کاسیاسی جماعتوں اور حکمرانوں سے اعتبار اٹھ جانے کا باعث بن رہا ہے۔ بہتر ہوگا کہ تبدیل شدہ حالات میں قانونی اور آئینی تقاضوں کو پس پشت ڈالنے کی بجائے اس کے تقاضوں کو پورا کیاجائے۔ گورنر خیبر پختونخوا کو چاہئے کہ وہ اسمبلی کا اجلاس فوری طلب کریں تاکہ ایوان میں اکثریت کامعاملہ طے پا جائے اور بجٹ پیش کرنے اور منظوری کی راہ ہموار ہو یا پھر دوسری صورتحال سامنے آنے پر آئین کے مطابق معاملات کو آگے بڑھایا جاسکے۔

بی آر ٹی منصوبہ‘ بلا جوازعجلت

صوبائی حکومت کی جانب سے کابینہ کی سفارش پر بی آر ٹی اہداف کے حصول میں ناکامی کے الزام میں چیف ایگزیکٹو آفیسر کو فارغ کرنے کااقدام طویلے کی بلا بندر کے سرڈالنے کے مترادف امر ہے۔ قبل ازیں محکمہ ٹرانسپورٹ کے اعلیٰ حکام کے بھی بی آر ٹی منصوبے پر حکومت کی حسب خواہش کام نہ کرنے پر تبادلے کئے جا چکے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیںکہ صوبائی حکومت کا بی آر ٹی منصوبہ اپنی جگہ لائق تحسین ضرور ہے اور شہریوں کو تمام تر مشکلات کے باوجود اس کی تکمیل کا شدت سے انتظار بھی ہے۔ اس منصوبے کو صوبائی حکومت تاخیر سے شروع کرنے کے بعد جس عجلت میں مکمل کرنے کی خواہاں ہے وہ نا ممکن ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے بسوں کی خریداری اور بسیں جلد سے جلد پشاور پہنچا کر ان کی نمائش کرنے کی کوشش کی تکمیل شاید اس کے سی ای او کے بس سے باہر معاملہ تھا یا پھر اس میں قانونی معاملات حائل تھے یا پھر وہ اس غیر ضروری عجلت کے حق میں نہ تھے۔ بہر حال کوئی نہ کوئی ایسی سنجیدہ وجہ ضرور ہوگی جس کے باعث وہ صوبائی حکومت کو خوش نہ رکھے سکے جس کی پاداش میں ان کو عہدے سے ہٹا دیاگیا۔ ایسالگتا ہے کہ اعلان کے باوجود کسی کاریڈور پر بھی نمائشی بسیں چلانے کااہتمام ممکن نہ رہا۔ اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں۔ بی آر ٹی منصوبے پرکام کی رفتار تیز ضرور کی جائے مگر ہڑبونگ کی نوبت نہیں آنی چاہئے۔

متعلقہ خبریں