عمران خان کے گیارہ نکات

عمران خان کے گیارہ نکات

عمران خان نے اپریل 1996ء میں جب تحریک کی بنیاد رکھی وہ اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ 29اپریل کو مینار پاکستان تلے ہونے والے عظیم الشان جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے اپنے گیارہ نکات قوم کے سامنے رکھے۔ ان نکات کی اہمیت کو زیرِ بحث لانے سے پہلے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ الیکشن سے بہت پہلے عمران خان نے اپنا ایجنڈا قوم کے سامنے پیش کیوں کیا۔ عمران خان کو قدرت نے یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ دلیری کیساتھ فیصلہ کرتا ہے اور اپنے سامنے واضح نصب العین رکھتا ہے۔ جلسے سے خطاب کے دوران خان صاحب نے اس جانب اشارہ کرنا ضروری سمجھا کہ وہ سیاست میں کیوں آئے۔ پاکستان کو تبدیل کرنے کا یہ واضح نصب العین ہی تھا جس نے عمران خان کو متحرک رکھا اور نامساعد حالات کے باوجود عمران خان کے پایۂ استقلال میں لغزش نہ آئی۔ یار لوگوں نے اس پر کیا کیا فقرے چست نہ کئے‘ تانگا پارٹی سے لے کر ایک سیٹ کی جماعت تک کے طعنے عمران خان نے سنے اور برداشت کئے۔ آج تانگہ پارٹی کہنے والے عمران خان کے عطا کردہ ووٹوں کے محتاج ہیں اور اپنے آپ کو بڑے سورما سمجھنے والے عمران خان کی جماعت کے گوشۂ عافیت میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ لاہور جلسے میں عمران خان جذباتی تھے اور انہیں جذباتی ہونا بھی چاہئے تھا کہ ان کی 22سالہ محنت رنگ لانے کو ہے۔ آج تحریک انصاف بلاشبہ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بن چکی ہے اور 2018ء کے انتخابات میں اس کی کامیابی نوشتہ دیوار ہے۔ اس کامیابی کی نوید عمران خان کے گیارہ نکات ہیں جو مستقبل کے سربراہ کی حیثیت سے عمران خان نے قوم کے سامنے پیش کئے۔ پاکستان تحریک انصاف نے 2013ء کے الیکشن سے قبل بھی یہ ایکسر سائز کی تھی‘ اس وقت مختلف پالیسیاں پیش کی گئیں اور قوم کو باور کرایا گیا کہ کامیابی کی صورت میں اس کی تعلیمی‘ معاشی اور لوکل گورنمنٹ پالیسیاں کیا ہوں گی۔ آج عمران خان نے جو نکات پیش کئے ہیں وہ ایک طرف تو ان پالیسیوں کا تسلسل ہیں جبکہ دوسرا پہلو قوم کو یہ پیغام دینا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت اقتدار ملنے کی صورت میں فوری طور پر عوام کو ریلیف دینے اور ان کی مشکلات کے خاتمے کیلئے پروگرام دینے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔
گزشتہ عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے نہایت مہارت سے ایک کارڈ استعمال کیا اور وہ یہ تھا کہ مسلم لیگ ن کے پاس تجربہ کار لوگوں کی ایک ٹیم موجود ہے چنانچہ انہیں اقتدار ملا تو وہ اپنے تجربے کی بنیاد پر عوام کو فوری طور پر ڈیلیور کریں گے۔ مسلم لیگ ن کی اس تجربہ کار ٹیم نے بعد ازاں کیا گُل کھلائے اس کا ایک ہلکا سا نمونہ عمران خان نے اپنے خطاب میں قوم کے سامنے پیش کیا ہے۔ 2013ء سے لے کر 2018ء تک مسلم لیگ ن کی حکومت نے چودہ ہزار ارب روپے کا قرض حاصل کیا جو 2013ء سے قبل لئے جانے والے قرضوں (13ہزار ارب روپے) سے زیادہ ہے۔ یہ وہ مسلم لیگ ن ہے جو قرض اُتارو ملک سنوارو کا نعرہ لگایا کرتی تھی۔ عمران خان نے اس ڈنگ ٹپاؤ پالیسی کے مقابلے میں جو گیارہ نکاتی ایجنڈا پیش کیا ہے وہ اس لئے بھی بہت اہم ہے کہ اُس میں ان تمام مسائل کا پائیدار اور ٹھوس حل تجویز کیا گیا ہے۔
عمران خان نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے لوگوں سے روپیہ اکٹھا کریں گے اور قرضوں کی دلدل میں نہیں پھنسیں گے۔ قوم جانتی ہے کہ عمران خان یہ کام کر سکتے ہیں کیونکہ پاکستانی قوم ان پر اعتماد کرتی ہے۔ اپنے پرائے سب ایک بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ عمران خان کرپٹ نہیں ہیں۔ شوکت خانم اور نمل جیسے اداروں کیلئے فنڈز کولیکشن اور اس کا صاف وشفاف آمدن واخراجات کا میزانیہ عمران خان کے مسٹر کلین ہونے کا بین ثبوت ہے۔ تعلیمی پالیسی کے ضمن میں عمران خان کی سوچ ہمیشہ یکساں تعلیم پر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے ’’دو نہیں۔۔ ایک پاکستان‘‘ کا نعرہ لگایا ہے۔ دوسری جماعتوں کے برعکس عمران خان نے عوام کو پیغام دیا ہے کہ وہ برسر اقتدار آئے تو بجلی‘ گیس اور پیٹرول پر ٹیکس کم کر کے عوام کو ریلیف فراہم کریں گے۔ روزگار کی فراہمی کیلئے ایک قابل عمل پروگرام بھی ان گیارہ نکات کا حصہ ہے۔
زراعت کے فروغ کیلئے کسان کو خوشحال بنانا بھی عمران خان کی ترجیح بن کر سامنے آیا ہے۔ سیر وسیاحت پر آج تک کسی حکومت نے توجہ نہیں دی ہے جبکہ ہمارا پاکستان دنیا کے خوبصورت ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ مقام اطمینان ہے کہ یہ اہم شعبہ بھی عمران خان کی نگاہ کا مرکز بنا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور اس کے خوبصورت علاقوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میری رائے رہی ہے کہ اگر پاکستان راہداری اور ٹورازم پر فوکس کرلے تو یہ دو شعبے پاکستان کا مکمل بوجھ اُٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ فیڈریشن کی مضبوطی اورکرپشن کا خاتمہ‘ انصاف کی فراہمی اور عوام کیلئے مفت علاج کی سہولتیں جیسے اہم کام بھی عمران خان نے اپنے گیارہ نکات میں پیش کئے ہیں۔ الغرض عمران خان نے ایک جامع پروگرام دے کر واضح الفاظ میں اپنی حکومت کی ترجیحات کا تعین کر دیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ عمران خان کے پیش نظر حکومت کی جو شکل ہے وہ ریاست مدینہ کی ہے اور یہی بانی پاکستان کا خواب بھی تھا۔

اداریہ