حال بد گفتنی نہیں‘ لیکن۔۔۔۔

حال بد گفتنی نہیں‘ لیکن۔۔۔۔

اسے کیا نام دیا جائے‘ بے اصولی کی سیاست‘ آئین سے مذاق یا پھر قانون سے چشم پوشی۔ اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب اسلام آباد میں تحریک انصاف اور علامہ طاہر القادری نے دھرنے دئیے اور تحریک کے ممبران اسمبلی نے استعفے دے کر حکومت کو گرانے کی کوشش کی۔ تب پشتو زبان کے ایک روز مرہ یا محاورہ جو بھی آپ سمجھ لیں کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی نے معاملے کو ’’پائوں پانی میں کرتے ہوئے‘‘ تحریک کے ممبران کو اپنے استعفوں کی تصدیق کے لئے سپیکر چیمبر میں آکر ملاقات کرنے کی شرط عاید کی حالانکہ ماہرین آئین و قانون کے علاوہ سیاسی تجزیہ نگاروں کی جو آرا اس وقت الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر سامنے آتی رہیں ان آراء کے مطابق سپیکر کو یہ تمام استعفے الیکشن کمیشن کے پاس بھیج کر بال ادھر کے کورٹ میں ڈال دینا چاہئے تھا۔ مگر اس بے اصولی یا آئین و قانون سے ماوراء اقدام نے ہماری پارلیمانی سیاست میں ایک نیا در کھول دیا۔ حیرت تو اس بات پر بھی ہے کہ بعد میں نہ صرف تحریک کے ممبران نے بھی اس صورتحال پر خاموشی اختیار کرلی بلکہ اتنی مدت کی تنخواہیں بھی شیر مادر سمجھ کر وصول کرلیں۔ خدا جانے اس صورتحال پر غالب سے رجوع کیاجاسکتا ہے یا نہیں جنہوں نے کہا تھا ’’ شرم تم کو مگر نہیں آتی‘‘ کیونکہ تحریک کے دیگر ممبران تو اسمبلیوں میں واپس آگئے۔ حکومت پر دبائو بھی ختم تو نہیں مگر کم ضرور ہوا اور سید خورشید شاہ کو بار بار کہنا پڑا کہ تب حکومت کو ہم نے بچایا‘ کیونکہ اگر ایک جانب سپیکر قومی اسمبلی نے اپنی نرالی منطق سے استعفوں کی تصدیق کا پنڈورہ باکس کھولا تو حزب اختلاف کے رہنما بھی اس پر خاموش رہے بلکہ بعض دیگر جماعتوں کے اکابرین بھی تحریک کے ممبران کو پارلیمنٹ میں لانے کے لئے کوشاں رہے اور سپیکر سے استعفے منظور نہ کرنے کی سفارشیں (برملا )کرتے رہے‘ گویا پارلیمانی سیاست میں نیا (غیر آئینی‘ غیر قانونی بلکہ غیر اخلاقی) طرز ایجاد کرنے میں اہم کردار بھی ادا کیا جس میں آئین کی دھجیاں بکھیرتی دکھائی دے رہی تھیں۔ انہی جا بجا بکھری ہوئی دھجیوں کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اسمبلی سے مسلسل غیر حاضر رہ کر ہوا میں اچھالتے رہے۔ انہی بے اصولیوں اور آئین و قانون سے کھلواڑ کی صورتحال ان دنوں ایک اور شکل میں دکھائی دے رہی ہے ۔ حالیہ سینیٹ انتخابات میں گھوڑوں کے پورے پورے اصطبل جس طرح ادھر سے ادھر ہوگئے اور خود تحریک انصاف کے سربراہ نے اپنی ہی جماعت کے ارکان پر فروخت ہونے کے الزامات لگا کر انہیں شو کاز نوٹس تک جاری کردئیے ہیں اور رد عمل کے طور پر جوابی الزامات کی نہ صرف بھرمار ہو چکی ہے بلکہ بعض افراد نے تو عدالتوں سے رجوع کرنے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔ اس سے صوبائی حکومت کے لئے ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو چکا ہے اور وہ ہے صوبائی بجٹ جو نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن کی شکل اختیار کرتے ہوئے سانپ کے منہ میں چھپکلی بن گیا ہے۔ بجٹ پاس ہونے یا نہ ہونے کے خوف میں مبتلا صوبائی حکومت کو یہ سمجھ نہیں آرہی ہے کہ وہ بجٹ اسمبلی سے پاس کرا بھی سکے گی یا نہیں۔ اگرچہ جماعت اسلامی نے بھی اسمبلیوں کی مدت ختم ہونے سے تقریباً تین ہفتے قبل ہی حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے کے ہنگام یہ اعلان ضرور کیا ہے کہ وہ حکومت کو گرنے نہیں دے گی۔ تاہم مسئلہ ان گھوڑوں کا ہے جنہیں فروخت شدہ قرار دے کر تحریک انصاف نے مخالف کیمپ میں دھکیل دیا ہے اور اب ایک جانب خیبر پختونخوا اسمبلی میں حکومت حزب اختلاف سے روابط استوار کرکے بجٹ کی منظوری کے لئے کوششیں کر رہی ہے تو د وسری جانب وہی ’’گریاں نہیں تو یاں سے نکالے ہوئے تو ہیں‘‘ کے جھومر ماتھوں پر سجانے والوں نے گورنر خیبر پختونخوا سے تحریری طور پر استدعا کی ہے کہ وہ صوبائی وزیر اعلیٰ سے کہہ کر اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا مطالبہ کریں۔ ایسی ہی ڈیمانڈ اے این پی کی جانب سے بھی سامنے آئی ہے کہ وزیر اعلیٰ اسمبلی میں اپنی برتری کھو چکے ہیں اس لئے گورنر ان سے اسمبلی میں اعتماد لینے کا حکم جاری کریں جبکہ تا دم تحریر گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے ان مطالبات کی پذیرائی کی کوئی خبر سامنے نہیں آئی اور عین ممکن ہے کہ ان سطور کے شائع ہونے تک جناب گورنر اپنے آئینی کردار کو بروئے کار لاتے ہوئے وزیر اعلیٰ کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ چکے ہوں۔ تاہم ابھی تک ایسی کوئی خبر یا اطلاع سامنے نہیں آئی او اگر صورتحال یہی رہی( جس میں تبدیلی کے امکانات موجود ہیں) تو یہ بعینہٖ وہی رویہ ہوگا جو سپیکر قومی اسمبلی نے اسلام آباد دھرنے کے دنوں میں تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے اجتماعی استعفوں کے حوالے سے اختیار کیا تھا اور پارلیمانی سیاست میں ایک نئے اور زریں باب کااضافہ کرکے آئین کی دھجیاں اڑائی تھیں۔ بہر حال ضروری نہیں کہ جناب گورنر بھی آئین کے مطابق اپنے اختیارات استعمال کرنے سے (خدانخواستہ) گریز کی راہ اختیار کریں اور وزیر اعلیٰ سے باوجود یہ کہ آئینی تقاضے کے مطابق اعتماد کا ووٹ لینے کی ضرورت کے باوجود معاملے سے آنکھیں بند کریں۔ یعنی بقول شاعر
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب
آئو نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی
سو اب ٹیسٹ کیس کے طور پر یہ دیکھنا ہے کہ صوبائی بجٹ پیش ہوتا ہے یا اس سے راہ فرار اختیار کی جاتی ہے اور اسی سے صوبائی اسمبلی کے مستقبل کا فیصلہ ہو جائے گا۔ بقول میرؔ
حال بد گفتنی نہیں‘ لیکن
تم نے پوچھا تو مہربانی کی

اداریہ