حکومت اور نجی تعلیمی ادارے‘ آمنے سامنے

05 مئی 2018

مہینے نجی تعلیمی ادارے بعض فیصلوں کے خلاف احتجاجاً بند رہے۔ یہ اس لحاظ سے بہت بڑی خبر تھی کہ صوبے کے ہزاروں لاکھوں بچوں کا تعلیمی نقصان ہوا۔صوبہ خیبر پختونخوا میں اس وقت تیس ہزار کے لگ بھگ نجی سکول ہیں اگرچہ یہ عدد تھوڑا سا مبالغہ آمیز ہے۔ لیکن پھر بھی حقیقت یہ ہے کہ ان نجی تعلیمی اداروں نے تعلیمی میدان میں حکومت کا بہت بڑا ہاتھ بٹایا ہے۔

جہاں تک حقائق کا تعلق ہے تو وہ کڑوے ہوتے ہیں۔ پہلے حکومت کی بات کرلیتے ہیں‘ حکومت سے کوئی پوچھے کہ قوم کے بچوں کو تعلیم یافتہ بنانا حکومت کی اولین اور بنیادی ذمہ داری ہے یا سرمایہ داروں کی۔ نجی شعبے کے ہاتھوںمیں تعلیم کا جانا فلاحی ریاستوں میں المیہ تصور ہوتا ہے۔ مغربی ملکوں میں اگر نجی شعبہ یہ فریضہ سر انجام دے رہا ہے تو وہاں تو نظام قانون کے مطابق اور فلاحی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں تو پرائیویٹ شعبے میں جو بھی کام شروع ہوتا ہے وہ یا تو حکومتی کوتاہی‘ نا اہلی اور نالائقی کے سبب ہوتا ہے یا حکومت کے کچھ لوگ اس میں شراکت دار یا ایجنٹ کے طور پر شریک ہوتے ہیں۔ حکومت عوام کو بجلی فراہم نہ کرسکی تو جنریٹر اور شمسی توانائی کے ذریعے بجلی حاصل کرنا تو فطری امر ہے۔ اب اگر یہ پابندی لگتی ہے کہ گیس سے جنریٹر چلانے والوں کوسزا ہوسکتی ہے تو حقیقت یہ ہے کہ اس میں وزن نہیں۔

حکومت کو چاہئے کہ نجی تعلیمی اداروں کو شروع دن سے یکساں نظام و نصاب کے ذریعے پابند کرکے ملک و قوم کے سامنے جواب دہ بناتی۔ لیکن چونکہ ہمارے ہاں دستور یہ ہے کہ جب پانی سر سے گزرنے لگ جائے تب ہم بیدار ہوتے ہیں اور پھر روا روی اور عجلت میں ایسے قوانین و ضابطے لاگو کرتے ہیں جن سے فائدے کے بجائے نقصان کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں۔

اس وقت نجی تعلیمی اداروں کے حوالے سے مختلف باتیں ضرب الامثال کی طرح زبان زد عام ہیں۔مثلاً عام طور پر کہا جاتا ہے کہ نجی تعلیمی ادارے ’’ مافیا‘‘ بن چکے ہیں۔ مجبور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ تعلیم کو عبادت کے بجائے تجارت بنا کر رکھ دیا ہے۔ اساتذہ کا استحصال کر رہے ہیں‘ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ پوری سچائی نہیں ہے۔

نجی تعلیمی اداروں میں بعض ادارے تعلیمی میدان میں ہر لحاظ سے ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ جہاں تک پیسہ کمانے کا تعلق ہے تو یہ بات نہ تو معیوب ہے اور نہ ناجائز ‘کیونکہ جو آدمی دن رات ایک کرکے سرمایہ لگا کر محنت کرتا ہے اس کے بال بچے‘ ضروریات اور زندگی کے معاملات ہوتے ہیں لہٰذا وہ کمائے گا بھی اور خرچ بھی کرے گا۔ یہ ادارے بے روز گاروں کو عارضی اور وقتی سہی روزگار فراہم کرتے ہیں اور یہ سارے ملازمین بالخصوص اساتذہ یہاں پڑھانے کاتجربہ حاصل کرکے سرکاری اداروں میں امتحانات کے ذریعے روز گار حاصل کرکے فوراً ان نجی اداروں کو چھوڑ جاتے ہیں۔ لہٰذا یہ دو طرفہ ٹریفک ہے۔اس میں شک نہیں کہ صرف نجی تعلیمی اداروں میں نہیں ہر نجی ادارے میں کام کے مقابلے میں تنخواہیں کم ہوتی ہیں اور اس میں سرمایہ دار کی لالچ کے علاوہ ’’گزارہ موافق‘‘ اساتذہ اور افراد کا بھی دخل ہوتا ہے۔ جہاں تک سرکاری اساتذہ کا تعلق ہے وہ تو بادشاہوں کے معاملات ہوتے ہیںان سے کون پوچھتا تھا‘ البتہ اب آئی ایم یو کے ذ ریعے بہتری ضرور آئی ہے۔ لیکن بہر حال یہ بات طے ہے کہ نجی تعلیمی اداروں میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔

اس وقت پرائیویٹ سکولوں کے مالکان کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ عدالتی فیصلے اور ایکٹ میں تضاد ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ اس تضاد کو ختم کرے ورنہ پرائیویٹ سکولوں کی ایسو سی ایشن کے عہدیدار عدالت جائیںگے۔

آخر میں یہ عرض کرتا چلوں کہ چونکہ اس وقت نجی تعلیمی ادارے اس اہم شعبے میں تقریباً پچاس فیصد شراکت دار یا سٹیک ہولڈرز ہیں لہٰذا ان کی شنوائی ضروری ہے ورنہ ان کی ناراضگی یا اس اہم کام سے دستبرداری حکومت اور عوام بالخصوص طلبہ کے لئے مشکلات کاباعث بن سکتی ہے۔ البتہ یہ بات بہت اہم ہے کہ حکومت ان تعلیمی اداروں کے لئے احتساب کا معقول نظام ضرور وضع کرے اور ان کو شتر بے مہار کی طرح نہ چھوڑا جائے۔ نجی تعلیمی اداروں کا بھی فرض ہے کہ طلبہ کے داخلہ کے وقت فارم اور پراسپیکٹس دیتے ہوئے ایک چیز واضح اور شفاف انداز میں والدین کے سامنے رکھی جائے اور غیر ضروری نصابی سرگرمیوں پراخراجات کرکے بچوں کے والدین پر بوجھ ڈالنے سے گریز کیا جائے۔ اپنی صفوں سے کالی بھیڑوں کو اس طرح الگ کیاجائے کہ نیک نام اور اچھی کارکردگی کے حامل ادارے اپنی کوئی ایسی تنظیم بنائیں کہ وہ اختلاف و نزاع کی صورت میں حکومت اور والدین کے ساتھ با معنی و با مقصد مذاکرات کے ذریعے

معاملات خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرلیا کریں۔

مزیدخبریں