Daily Mashriq


معلومات تک رسائی کا حق

معلومات تک رسائی کا حق

سنٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ (سی پی ڈی آئی) اور سماجی بہبود رابطہ کونسل کی جانب سے یورپی یونین کے پراجیکٹ ترقی یافتہ پاکستان کیلئے جمہوری مقامی طرز حکمرانی کے تحت ضلع صوابی میں صحافیوں کیلئے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقادکیا گیا تھاجس کا مقصد یہ تھا کہ صحافی برادری کو بتایا جائے کہ کس طرح حکومتی اور عوامی اداروں کے اعداد وشمار کی معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ کوئی بھی شہری حکومت کے کسی ادارے کے پاس موجود دستاویزات یا ریکارڈتک رسائی حاصل کرنے کیلئے درخواست دے سکتا ہے۔ حکومتی ادارہ قانون میں دیئے گئے مقررہ وقت میں مانگی گئی معلومات فراہم کرنے کا پابند ہے۔ حکومت کے پاس کسی بھی معلومات کو افشا سے مستثنیٰ قرار دینے کا حق ہے۔ تاہم اس استثنیٰ کو محدود ہونا چاہئے اور معلومات کو خفیہ قرار دینے کیلئے مناسب جواز موجود ہو۔ اگر ہم غور کریں تو بنیادی طور پر عوامی سرکاری اداروں میں دستیاب معلومات کے مالک عوام ہوتے ہیں کیونکہ عوام براہ راست یا بالواسطہ ٹیکس ادا کرتے ہیں اورغریب عوام کے خون پسینے سے حاصل شدہ ٹیکس سے حکومتی نظام چلتا ہے جبکہ سرکاری افسران ان معلومات کے محض محافظ ہوتے ہیں۔ اب تک پوری دنیا کے 100سے زیادہ ممالک نے معلومات تک رسائی کے قوانین کا نفاذ کیا ہے۔ پاکستان کے آئین میں شہریوں کو معلومات تک رسائی کے حق سے متعلق کوئی شق اس سے پہلے موجود نہیں تھی۔ اب آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت صرف آزادی اظہار رائے کو بنیادی انسانی حقوق کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔پاکستان میں معلومات تک رسائی سے متعلق مکمل اور جامع قانون سازی خیبر پختونخوا اسمبلی نے شفافیت اور معلومات تک رسائی کے قانون کی شکل میں13 اکتوبر2013 کو جو وفاقی حکومت 2002 کے قانون کی شکل میں اتنی جامع اور مکمل نہیں تھی جبکہ اس سلسلے میں پنجاب حکومت نے 12دسمبر 2013 کو سرکاری دستاویزات تک رسائی کا قانون منظور کیا۔

اس قانون کے تحت کوئی بھی شہری دستاویزات جیسے ریکارڈ، میمو، معاہدہ نقشہ، سرکلر، اکاؤنٹینسی، پریس ریلیز، رپورٹ، کتابچے، الیکٹرانک معلومات ای میلز، رپورٹ کسی بھی دستاویز کی سی ڈی، آڈیو ویڈیو سرکاری ریکارڈنگ، اعلانات، تصاویر، نیوز کٹنگ حاصل کر سکتا ہے۔ ایک عوامی ادارہ معلومات کی ایسی درخواست رد کر سکتا ہے جن کے قبل از وقت افشا کے نتیجے میں معیشت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہو۔ سیکشن 18 کے تحت ایک عوامی ادارہ ایسی معلومات فراہم کر نے کیلئے درخواست رد کر سکتا ہے جس کے افشا کر نے سے ایک عوامی ادارے میں آزادانہ مشاورت یا تبادلہ خیال کے ذریعے پالیسی مرتب کرنے کے عمل کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ اس طرح سیکشن 19 کے تحت ادارہ ایسی درخواست کو مسترد کر سکتا ہے جس سے کسی کی ذات کے بارے میں اطلاع لینی ہو۔ اطلاعات تک رسائی قانون کے مطابق اس قانون کے لاگو ہونے پر عوامی ادارہ 120دن کے اندر ایک آفیسر کی نامزدگی کا حکم جاری کرے گا جو اس قانون کے تحت انفارمیشن آفیسر کے طور پر کام کرے گا جس کے پاس معلومات کیلئے اس قانون کے تحت درخواست جمع کی جائے گی۔ اس کے آفیسر کی غیر موجودگی میں ادارے کا سربراہ پی آئی او تصور ہوگا۔ پی آئی او قانون کے مطابق معلومات دینے کا ذمہ دار ہوگا اور عمومی طور پر عوامی ادارہ اس قانون کے تحت اپنے فرائض کے بارے میں مکمل عمل درآمد کا پابند ہوگا۔ علاوہ ازیں ادارہ درخواست گزار کی مدد بھی کرے گا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ معلومات درخواست کی وصولی کے بعد 10 دن کے اندر فراہم کی جائیں گی۔ اگر عوامی ادارے یعنی سرکاری دفاتر، تیسری پارٹی سے معلومات لینی ہو تو اس صورت میں مزید 10 دن دیئے جائیں گے۔ پی آئی او درخواست گزار کو اس بات سے مطلع کرے گا کہ معلومات کے حصول کیلئے درخواست منظور یا مسترد کی گئی ہے اور نامزد افسر درخواست گزار کو اس کی وجوہات بتائے گا۔ درخواست کی کوئی فیس نہیں لی جاتی۔ اگر کوئی سرکاری اہلکار معلومات فراہم نہیں کرتا یا اس میں تاخیری حربوں سے کام لیتا ہے یا جان بوجھ کر معلومات روکنے کی کارروائی میں شامل ہوتا ہے تو انفارمیشن کمیشن جوچیف انفارمیشن آفیسر، سرکاری افسر جو کم سے کم گریڈ20 سے ریٹائر ہو۔ انفارمیشن کمشنر1، ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کا وکیل جو ہائی کورٹ کا جج بننے کا اہل ہو اور تیسرا انفارمیشن آفیسر 2، سول سوسائٹی کا فرد جس کا جرنلزم، تعلیم یا معلومات تک رسائی میں کام کرنے کا 15 سال تجربہ ہوپر مشتمل ہوتا ہے) انفارمیشن آفیسر پر 250 روپے یومیہ کے حساب سے جرمانہ عاید کر سکتا ہے جس کی زیادہ سے زیادہ حد ۲۵ ہزار روپے ہو سکتی ہے۔ اس قانون کے تحت آپ کسی بھی سرکاری ادارے اور اس کے آفیسر سے کوئی بھی معلومات لے سکتے ہیں۔ یہ ملک عوام کا ہے اور عوام کے ٹیکس پر سارے ادارے چلتے ہیں تو پھر یہ ضروری ہے کہ عوام کو ان اداروں کے بارے میں معلومات حاصل ہوں جو وہ لینا چاہتے ہیں۔ یہ عمل شفافیت اور جمہوریت کیلئے بہت ضروری ہے۔ جب سرکاری ادارے عوام کے سامنے جواب دہ ہوں تو پھر عوام کا حکومت کے اوپر اعتماد بڑھے گا اور عوام خوش بھی ہوںگے۔ یہ قانون جمہوریت کو موثر انداز میں چلانے کیلئے بہت ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں