Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

عثمانؓ عرب میں سب سے زیادہ دولت مند تھے۔ اس کے ساتھ اللہ نے فیاض طبع بھی بنایا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی فیاضی‘ اپنے مال و دولت سے اس وقت اسلام کو فائدہ پہنچایا جب اس امت میں کوئی دوسرا ان کا ہمسر موجود نہ تھا۔ مدینہ میں تمام کنویں کھا رے تھے‘ صرف بئر رومہ جو ایک یہودی کی ملکیت میں تھا شیریں تھا۔ حضرت عثمانﷺ نے رفاہ عام کے خیال سے اس کو بیس ہزار درہم میں خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف کردیا۔ اسی طرح جب مسلمانوں کی کثرت ہوئی اور مسجد نبوی میں جگہ کی تنگی کے باعث نمازیوں کو تکلیف ہونے لگی تو حضرت عثمانؓ نے ایک گراں قدر رقم صرف کرکے اس کی توسیع کرائی۔ آپؓ کی فیاضی کا سب سے زیادہ نمایاں کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے غزوہ تبوک کے موقع پر ہزاروں روپے کے مصرف سے مجاہدین کو آراستہ کیا۔ یہ فیاضی ایسے وقت میں ظاہر ہوئی جبکہ عام طور پر مسلمانوں کو عسرت اور تنگی نے پریشان کر رکھا تھا ۔

مذکورہ بالا فیاضیوں کے علاوہ روزانہ جو دو کرم اور صدقات وخیرات کا سلسلہ جاری رہتا۔ ہر جمعہ کو ایک غلام آزاد کرتے تھے۔ بیوائوں اور یتیموں کی خبر گیری کرتے تھے۔ مسلمانوں کی عسرت و تنگ حالی سے ان کو دلی صدمہ ہوتا تھا۔ایک دفعہ ایک جہاد میں ناداری اور مفلسی کے باعث مسلمانوں کے چہرے اداس اور اہل نفاق‘ ہشاش ہر طرف اکڑے پھرتے تھے۔ اسی وقت چودہ اونٹوں پر سامان خوردونوش بار کرکے آنحضرتؐ کے پاس بھیجا کہ اس کو مسلمانوں میں تقسیم کرادیں۔(بحوالہ طبری)

حضرت ابو برزہ سلمیٰؓ کو حق تعالیٰ نے بہت کچھ دے رکھا تھا لیکن خود وہ زاہدانہ زندگی بسر کرتے تھے‘ زندگی بھر کبھی پر تکلف کھانا نہ کھایا‘ نہ قیمتی لباس پہنا‘ گھوڑے کی سواری بھی نہیں کرتے تھے۔ ان کے ساتھی ایک صحابی حضرت عائذ ؓ تھے‘ وہ عمدہ کپڑے پہنتے تھے اور گھوڑے کی سواری کے بھی شوقین تھے۔ ایک شخص نے دونوں میں پھوٹ ڈالنے کا پروگرام بنایا۔ پہلے وہ حضرت عائذؓ کے پاس گیا اور ان سے کہا: ابو برزہؓ نے تو بس آپ کی مخالفت پر کمر باندھ رکھی ہے‘ نہ قیمتی کپڑا پہنتے ہیں ‘ نہ گھوڑے پرسواری کرتے ہیں جبکہ آپ قیمتی کپڑے بھی پہنتے ہیں اور گھوڑے کی سواری بھی کرتے ہیں‘ گویاوہ آپ کے مقابلے میں پرہیز گار بنتے ہیں۔

یہ سن کر حضرت عائذؓ نے فرمایا:حق تعالیٰ ابو برزہؓ پر رحم فرمائے‘ آج کون ہے جو ان کی برابری کرسکے۔ ان کے اس جواب سے مایوس ہو کر وہ شخص ابو برزہﷺ کے پاس گیا اور ان سے کہا: آپ دیکھتے ہیں‘ عائذؓ کتنے ٹھاٹھ باٹ سے زندگی گزار رہے ہیں‘ قیمتی لباس پہنتے ہیں‘ گھوڑے کی سواری کرتے ہیں‘ ہر وقت آپ کو نیچا دکھانے کی فکر میں رہتے ہیں۔

ابو برزہﷺ نے اس کی بات سن کر کہا: حق تعالیٰ عائذؓ پر رحم فرمائے! آج ہم میں ان کے مرتبے کا کون ہے بھلا! یوں وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ حضرت ابو برزہؓ نے 65ھ میں وفات پائی۔

متعلقہ خبریں