Daily Mashriq


کابینہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری نہ دے

کابینہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری نہ دے

وفاقی حکومت ایک مرتبہ پھر پیٹرولیم مصنوعات میں جو اضافہ کرنے جا رہی ہے یہ آخری نہیں بلکہ ماہوار اضافے کا تسلسل ہے جس کا سلسلہ نجانے کب تک جاری رہے گا۔ المیہ یہ ہے کہ حکومت پٹرولیم کی قیمتوں پر حکومتی ٹیکس دوگنا کر رہی ہے جو پچھلے اٹھارہ سالوں سے دس فیصد سے اوپر نہیں گئی۔ حکومت اس سے چار سو پچاس ارب روپے بجٹ خسارہ اور ریونیو شارٹ فال پوری کرنے کی کوشش کررہی ہے جو عوام کا خون نچوڑنے کے مترادف ہے۔حکومت پٹرولیم مصنوعات پر چھتیس روپے فی لٹر ٹیکس لے رہی ہے اور قیمتوں میں اضافہ دراضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس وقت ملک کی معاشی صورتحال دیکھ کر اور عوام کی حالت زار کو سامنے رکھتے ہوئے ساری باتیں اور ساری مشکلات کو ایک طرف رکھ کر انجام گلستاں کیا ہوگا کا سوال اُٹھتا ہے۔ یہ ایک ایسا مشکل سوال ہے جس کا جواب صرف حکمرانوں کے پاس ہی نہیں بلکہ معیشت دانوں اور ماہرین سمیت کسی کے پاس بھی نہیں۔ حکومت نے کفایت شعاری وسادگی کے جو بھاشن دیئے تھے ان کی حقیقت بھی آشکار ہو چکی ہے اب عوام کو مزید نہ تو چوروں اور ڈاکوؤں کو کوس کر بہلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی بلند وبانگ دعوؤں پر عوام یقین کرنے کو تیار ہیں۔ اس صورتحال میں عوام سنجیدہ احتجاج بھی نہیں کرسکتے کہ اس کا بھی منفی اثر رہے سہے روزگار دیہاڑی اور کاروبار پر پڑتا ہے۔ صورتحال نہ جائے ماندن اور نہ پائے رفتن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اب عوام غربت مکاؤ کی سطح پر نہیں غریب مکاؤ پروگرام شروع کرنے کی حالت میں آچکے ہیں۔ اس صورتحال میں زیریں اور متوسط طبقے تو خط غربت سے نیچے اور بہت نیچے چلے گئے ہیں بلکہ متوسطہ طبقہ تو اب باقی ہی نہیں رہا۔ عوام جس حکومت کو تبدیلی اور اپنے مسائل کے یقینی حل کی قوی امید پر ان کے وعدوں اور دعوؤں پر اعتبار کر کے لائے تھے آج وہ سارے دعوے الٹ ثابت ہو رہے ہیں۔ نجانے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کے بعد کا عالم کیا ہوگا۔ حکومت سے اس امر کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی کہ وہ کابینہ کے اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات پر اضافے کو یکسر مسترد کردے۔ رمضان کی آمد الگ سے مہنگائی کا سبب بنتی ہے۔ رمضان اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشاہ اضافہ کا اکٹھ غریب عوام کیلئے نہایت پریشان کن اور ناقابل برداشت ہے نجانے یہ سلسلہ کب تک رہے گا۔

ابتر سے ابتر ہوئی صورتحال

شہریوں کو بیمار اور لاغر جانوروں کا گوشت کھلانا اور چھیچڑوں کا قیمہ بنا کر کھلانا مسئلہ نہیں، خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں فوڈ اتھارٹی اور متعلقہ حکام کے چھاپوں میں فریزر میں بجلی جانے سے ہونے والا خراب گوشت، صفائی کا بدترین ناقص انتظام جیسے معاملات سے واقف کوئی شخص اب باہر کھانا کھانے پر شاید ہی تیار ہوگا۔ آئے روز کی کوششوں کے باوجود اس امر کی روک تھام نہیں ہو پا رہی۔ مردہ مرغیوں کی سپلائی، دودھ میں ملاوٹ مصالحہ جات اور اشیائے خوردنی میں ملاوٹ وجعلسازی سنگین مسائل بن چکے ہیں جن پر قابو پانے کیلئے مزید اقدامات کیساتھ ساتھ قید اور جرمانہ کی سزائیں بڑھانے کیلئے قانون میں ترامیم کی بھی ضرورت ہے۔ صحت کے حوالے سے ہر شخص کا محتاط ہونا فطری امر ہے جس طرح کی صورتحال آئے روز سامنے آرہی ہے اس فضا میں کسی بھی چیز کو ہاتھ لگاتے ہوئے وسوسے ذہن میں آتے ہیں۔ فوڈ اتھارٹی کی مختلف کاوشیں اپنی جگہ اطمینان کا باعث ضرور ہیں لیکن ابتدائی کارروائی کے بعد یہ معلوم نہیں ہوتا کہ عوام کو اس کارروائی کے بعد ان کے حفظان صحت کو درپیش ان خطرات سے محفوظ بنایا گیا ہے کہ نہیں جس کا متعلقہ حکام نے نوٹس لیکر کارروائی کی تھی۔ ان حالات میں فوڈ اتھارٹی کے حکام کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہوا ہے جس پر توجہ دینے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے پہلے سے زیادہ کوشاں رہنے کی ضرورت ہے۔

سوات موٹروے کے کھلنے کی خوشخبری

حکومت خیبر پختونخوا کے وسائل اور مساعی سے کرنل شیر خان شہید انٹرچینج صوابی سے چکدرہ تک تعمیر ہونے والے موٹروے کا مئی کے اختتام تک چھوٹی گاڑیوں کے سفر کے قابل بنائے جانے کا اعلان خوش آئند ہے جس کے علاقے کے عوام شدت سے منتظر تھے۔ سوات موٹر وے نہ صرف ملاکنڈ ڈویژن کے سیاحتی مقامات تک باآسانی بسہولت اور تیزتر رسائی کا باعث ہوگا اور فاصلہ کم ہوگا بلکہ اس موٹر وے سے اسی کلو میٹر کے اسی پورے علاقے میں خاص طور پر اور پورے ملاکنڈ ڈویژن میں بالعموم ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ سڑکوں کی بہتری کے باعث سیاحوں کی اس پرکشش خطے کی طرف آمد میں اضافہ ہونے سے پورے علاقے کے عوام کو کاروبارو روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔

متعلقہ خبریں