Daily Mashriq


سیاسی مخاصمت سے جمہوریت مضبوط ہوسکتی ہے؟

سیاسی مخاصمت سے جمہوریت مضبوط ہوسکتی ہے؟

حالات و واقعات اور بیانات سے اس امر کا عندیہ ملتا ہے کہ طن عزیز کی دو بڑی اور حریف جماعتیں میثاق جمہوریت کی طنابیں کاٹ کر ایک مرتبہ پھر حریف بننے کا تاثر دینے لگی ہیں لیکن سیاسی جماعتوں کے درمیان کبھی کبھار کی تنقید سے اس امر کا امکان ظاہر کرنا فی الوقت قبل از وقت ہوگا۔ بہر حال اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ وطن عزیز کی صرف یہ دو جماعتیں ہی نہیں بلکہ دیگر جماعتوں کا سیاسی کردار غیر سیاسی کرداروں کے اثرات سے پاک نہیں اور یہی وہ خرابی ہے جس کے باعث وطن عزیز میں جمہوریت مضبوط نہیں ہوتی اور سیاستدان پارلیمنٹ کے مقتدر ہونے کے باوجود غیر مقتدر ہونے اور حکومت و اقتدار کے باوجود بے اختیار ہونے کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اس امر کی تردید کی ہے کہ کوئی این آر او ہو رہا ہے۔ ماضی میں بھی پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی میں این آر او ہوا زرداری کسی اور کو خوش کرنے کے لئے ان کو گالیاں دے رہے ہیں۔ زرداری کچھ ایڈونچر کرنا چاہ رہے ہیں کسی کو خوش کرنا جمہوریت کے ساتھ مذاق نہیں ؟ دوسری جانب پیپلز پارٹی کا جواب ہے کہ نواز شریف نے کس کو خوش کرنے کے لئے آصف زرداری سے ملاقات منسوخ کی تھی۔ یہ مکافات عمل ہے ۔ قبل ازیں مسلم لیگ(ن) کی طرف سے آصف زرداری سے رابطے اور مفاہمت کی سعی بھی ناکام ہوچکے ہیں۔ آصف زرداری جلسوں میں بار بار یہی کہتے ہیں کہ اب کی بار کسی مشکل میں بھائی فون کریں گے تو ان کا فون نہیں اٹھایا جائے گا۔ مسلم لیگ(ن) کا این آر او نہ کرنے کا دعویٰ مکمل طور پر حقیقت نہیں، این آر او اور ڈیل کو اگر یکساں سمجھا جائے تو سابق وزیر اعظم نواز شریف کا دامن بھی اس الزام سے صاف نہیں کہ وہ صرف اپنے خاندان کو لے کر بیرون ملک چلے جانے کے لئے مشرف سے ڈیل کر گئے تھے۔ ہمارے تئیں ملک کی کسی سیاسی جماعت کے حوالے سے پورے یقین کے ساتھ اس رائے کااظہار نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا دامن کرپشن اور پالیسیاں مصلحتوں کی آمیزش سے صاف ہے۔ ہر سیاسی جماعت بقدر ضرورت کسی نہ کسی طور مقتدر قوتوں سے تعلق دار ہے اور اس کی صفوں میں بد عنوان عناصر کی اچھی خاصی تعداد نہ بھی ہو تو الزامات رکھنے والے افراد موجود ہیں اور ان الزامات کی حقیقت بھی غیر واضح نہیں۔ جو سیاسی جماعتیں ججوں اور جرنیلوں کے احتساب سے دستبردار ہوسکتی ہیں جو سیاسی جماعتیں ماضی میں اپنے خاندان کے تحفظ اور اپنی جماعت اور ساتھیوں کو بچانے کے لئے آمر وقت سے مفاہمت بلکہ سودے بازی کی مرتکب ہوچکی ہوں۔ اس سے قوم کو خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی بدعنوانیوں اور غیر سیاسی کردار ہی کے باعث غیر سیاسی عناصر کو ان پر غلبہ پانے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ سیاسی کھیل جب اقتدار کا حصول اور ہر قیمت پر اقتدار سے محروم کرنے کے لئے کھیلا جائے تو جمہوریت کے تابوت میں ایک اور مضبوط میخ کا گڑھ جانا فطری امر ٹھہرتا ہے۔ ہمیں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان جاری حالیہ کشمکش سے کوئی سروکار نہیں مگر افسوس اس بات کا ضرور ہے کہ ہر دو جماعتوں کی طرف سے ایک دوسرے پر وار کا موقع غنیمت سمجھنے کے رویے کے باعث ملک میں جمہوریت کو استحکام نصیب نہیں ہوتا۔ اگر جمہوریت پسندی کے فیشن کو ایک طرف رکھ کردیکھا جائے تو اس نظام نے ملک و قوم کو دیا کیاہے سوائے بدعنوان عناصر کے یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں کے جس میں عوام کی فلاح ملکی مسائل کے حل اور ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لئے سنجیدہ مساعی کی بجائے ملک کو مزید قرضوں میں جکڑ دینے ہی کا صلہ سامنے آتا رہا۔ عوام کا اس نظام سے اعتبار اٹھ چکا ہے مگر جاری نظام میں یکے بعد دیگرے چننے کے لئے ان کا انہی عناصر سے واسطہ پڑتا ہے۔ مارشل لاء کبھی ملکی مسائل کے حل کا باعث بن ہی نہیں سکتا اور نہ ہی اقتدار فوج کو سونپا جاسکتا ہے۔ فی الوقت جس ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام کی باز گشت چل رہی ہے اس کے امکانات اس وقت ہی پیدا ہوسکتے ہیں جب سیاسی جماعتیں دست و گریباں ہوجائیں۔ معاملات اس طرف بڑھ رہے ہیں یا نہیں اس کا درست اندازہ نہیں لیکن ہمارے تئیں یہ بھی مسئلے کا حل نہیں۔ مارشل لاء میں حکمرانوں کا دامن صاف نہیںر ہتا اور بعد ازاں ڈھٹائی سے سابق آمر اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں تو ٹیکنو کریٹ کونسے مسیحا اور فرشتہ ثابت ہوں گے۔ اگر صورتحال پر غور کیاجائے تو ہم ایک تنگ گھاٹی میں پھنس چکے ہیں جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ ہم گرداب کے پانی کی طرح ایک ہی جگہ چکر کھا رہے ہیں کہیں بھی روشنی کی کرن نظر نہیں آتی۔ اگریہ جمہوری حکومت مدت پوری کرتی ہے تو بھی صورتحال کم و بیش تبدیل نہیں ہوگی سوائے اس کے کہ مزید عدم استحکام کی صورت پیدا نہ ہوگی اور شاید اسی میں بہتری ہے کہ یکے بعد دیگرے سیاسی جماعتوں کاکردار و عمل سامنے آتا جائے اور قوم مایوس ہو کر بالآخر کوئی صحیح راستہ اپنائے۔

متعلقہ خبریں