Daily Mashriq


صنفی امتیاز کے الزام کی تحقیقات کی ضرورت

صنفی امتیاز کے الزام کی تحقیقات کی ضرورت

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی اسسٹنٹ پروفیسر کی مبینہ طور پر سینئر ڈاکٹر کے مبینہ غیر شائستہ روئیے پر استعفیٰ سے ان سے ہمدردی کے جذبات اپنی جگہ لیکن دوسری جانب جس پروفیسر سے ان کو شکایت تھی انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ خاتون ڈاکٹر کو دبئی میں نوکری ملنے کے بعد طویل چھٹی نہ ملنے کا رنج تھا۔ اگر اس بات میں حقیقت ہے تو پھر اس سے صنفی امتیاز کا الزام متوازن ہو جاتا ہے لیکن بہر حال اس الزام کو اس لئے سراسر غلط قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اگر خاتون اسسٹنٹ پروفیسر کو ہراساں نہ کیا گیا تو محض چھٹی نہ ملنے کے ادارہ جاتی فیصلے پروہ یوں اپنے سینئر کو الزام نہ دیتیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مذکورہ خاتون ڈاکٹر کے لئے ملازمت کو دشوار سے دشوار تر بنایا گیا ہے جس کے باعث ان کو د وسری ملازمت کے لئے تگ و دو کرنی پڑی۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے بورڈ آف گورنر ز کو حقیقی صورتحال کا علم ہوگا کہ محولہ سینئر ڈاکٹر اور خاتون ڈاکٹر میں سے کس نے کب کس کی کیا شکایت کی تھی اور اگر ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں تو زبانی طور پر کیا اس امتیازی سلوک کو انتظامیہ کے علم میں لایاگیا تھا۔ اگر ایسا ہے تو پھر کیا کارروائی کی گئی اور اگر اس طرح کی کوئی صورتحال نہ تھی تو پھر اسے معمول کی نوک جھونک ہی گردانا جائے گا اور دم رخصت محض حساب برابر کرنے کا اقدام ٹھہرے گا ۔ اس صورتحال کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر آنے کے بعد لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ماحول کے حوالے سے منفی تاثرات بلا وجہ نہیں ہیں ہسپتال انتظامیہ معلوم نہیں کس کو جوابدہ ہے یا پھر اس سے جواب طلبی بھی خاص وجوہات کی بناء پر ہو بھی سکتی ہے یا نہیں اس سے قطع نظر اس معاملے کے اصل حقائق کو سامنے لانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ صوبے کے سب سے بڑے تدریسی ہسپتال میں سینکڑوں لیڈی ڈاکٹرز اور نرسنگ سٹاف کے ساتھ دیگر خواتین عملہ متعین ہے جن کے لواحقین میں تشویش فطری امر ہے۔ نیز ایک اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے کی خاتون ڈاکٹر کے ساتھ معاندانہ سلوک پر جونیئرز کا سہم جانا اور خود کو غیر محفوظ تصور کرنا بھی نا ممکن نہیں۔ عدم تحفظ کے اس احساس اور عزیز و اقارب کی تشویش کو دور کرنے کے لئے اس واقعے کی انکوائری اور حقیقت کو سامنے لانا ضروری ہے۔ چونکہ اب تک خاتون ڈاکٹر ہسپتال سے باقاعدہ طور پر رخصت نہیں ہوئیں اس لئے ان سے تفصیلی معلومات اور الزام کے حامل سینئر ڈاکٹر سے پوچھ گچھ کی ضرورت ہے تاکہ حقیقت سامنے آئے اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ماحول کے حوالے سے چہ میگوئیوں کا خاتمہ ہو اس میں اس امر کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت ہے کہ عموماً خواتین پوری حقیقت بتانے سے کتراتی ہیں اگر یہ صورتحال نہ بھی ہو تب بھی خاتون ڈاکٹر نے جو صورتحال بتائی ہے اس سے بھی کسی اچھی صورتحال کی نشاندہی نہیں ہوتی۔ صوبے کے ہسپتالوں میں خواتین ڈاکٹروں اور نرسنگ و مدد گار خواتین سٹاف کے تحفظ اور ان کو ساز گار ماحول کی فراہمی میں حکومت کو تغافل کا مظاہرہ کرنے کی بجائے اس معاملے کو ٹیسٹ کیس گردان کر اس سلسلے میں اقدامات کرنے اور جملہ ہسپتالوں میں تحفظ و اعتماد کا ماحول پیدا کرنے کی سعی کرنی چاہئے تاکہ خواتین عملہ محفوظ ماحول میں مریضوں کی خدمت اور علاج پر بہتر توجہ دے سکے۔

متعلقہ خبریں