Daily Mashriq


سیاست بند گلی میں اور شرائط پر نہیں ہوتی

سیاست بند گلی میں اور شرائط پر نہیں ہوتی

جناب نواز شریف کہتے ہیں '' آصف زرداری کسی کو خوش کرنے کے لئے میرے خلاف بیانات دے رہے ہیں'' ان لمحوں میں بھی وہ ''کسی'' کا طعنہ دینے سے نہیں چوکے۔ کبھی انہوں نے اسی ''کسی'' کے حکم پر آصف زرداری سے طے شدہ ملاقات اور کھانے کی دعوت منسوخ کردی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب زرداری نے ٹی وی چینلوں پر ملاقات اور کھانے کی دعوت دونوں کی منسوخی کی خبریں دیکھ کر جناب نو از شریف کو فون کیا تو انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔ اب ان کے کہنے پر خواجہ آصف نے تین بار فون کیا مگر زرداری نے بات کرنے سے انکار کردیا۔ معاف کیجئے گا یہ بچوں والی کٹی کٹی نہیں ایک نے جنرل راحیل شریف کی بات مانی اور ملاقات و دعوت منسوخ کردی دوسرے کامعاملہ اس کی سیاسی ضرورتوں سے جڑا ہوا ہے۔ نواز شریف' گیلانی کی نا اہلی کے وقت چیخ چیخ کر کہتے تھے'' یہ ملک ہے جنگل نہیں ہے ہم کسی کو اسے جنگل نہیں بنا نے دیں گے''۔ اسی سپریم کورٹ نے گیلانی کو نا اہل کیا تھا تو عرض کیا تھا کہ یہ سودا مہنگا پڑے گا۔ جناب نواز شریف کو کل جب وہ 'تگڑم'' کے زیر عتاب آ ئیں گے تو تنہا کھڑے ہوں گے۔ وقت پلٹا ہے۔ البتہ نواز شریف اس پلٹے ہوئے وقت اور معاملات کو سمجھنے کی شعوری کوشش نہیں کر رہے۔ کیا انہیں احساس ہوا کہ'' کسی'' کو خوش کرنے کے لئے پرویز رشید کی قربانی نہیں دینا چاہئے تھی۔ انہیں پرویز رشید کی قربانی دینے سے قبل اپنی صف میں کھڑے مخبروں کو کان سے پکڑ کر کابینہ سے نکالنا چاہئے تھا۔ مشاہد اللہ کو وزارت سے ہٹا کر انہوں نے غلطی کی ویسی ہی غلطی پرویز رشید کے معاملے میں دہرائی۔ اپنے دور اقتدار میں وہ سیاسی مکالمے اور روابط دونوں کو حقارت بھری نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ بہت ادب سے کہوں گا انہوں نے اب بھی کچھ نہیں سیکھا۔ ہاں یہ زعم ہے کہ بالا دست اشرافیہ میں پنجاب کی پوزیشن مضبوط ہے۔ یہ زعم ایک طرح سے درست بھی ہے وہ پنجابی نہ ہوتے تو کون جانے کیا ہو چکا ہوتا۔ سیاست بند گلی میں نہیں ہوتی نہ کرائے پر کروائے گئے ٹی وی تجزیوں سے اس کے مردہ تن میں جان پڑتی ہے۔ وہ دیوتا نہیں ایک کاروباری آدمی ہیں دایاں دکھا کر بائیں ہاتھ مارنے کے شوقین۔ ایک بار پھر وہ اے آرڈی کی طرز کا اتحاد چاہتے ہیں تاکہ اپنے لئے محفوظ راستہ نکال سکیں۔ ان کے برادر خورد اب بھی اندرون کھاتے یقین دہانیاں کرواتے پھرتے ہیں کہ '' بھائی جان باقی عمر لندن میں گزارنا چاہتے ہیں'' چھوٹے بڑے شہروں کے کاروباری طبقوں اور ان سے بندھے لوگوں کی جماعت ہے نو ن لیگ خالصتاً سرمایہ دارانہ مفادات کی محافظ۔ انہیں پہلے طے کرنا ہوگا کہ وہ سیاست کریں گے۔ راستہ تلاش کریں گے؟ سیاست کرنی ہے تو پھر اس سچ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ان سے مالی بے ضابطگیاں بھی ہوئیں اور سیاسی بلنڈر بھی۔ ان پر قائم مقدمات اگر سو فیصد درست نہیں تو سو فیصد غلط بھی ہر گز نہیں۔ ان کے سمدھی اسحاق ڈار کے والد کی اندرون لاہور میں سائیکلوں کی ایک چھوٹی سی دکان تھی اور اب اربوں ڈالر کے اثاثے ہیں۔ یہ سمدھی کا حال ہے باقی خواتین و حضرات بارے کیا کہا اور لکھا جائے۔ جناب نواز شریف کو بطور وزیر اعظم جن لوگوں کو احتساب کے دائرے میں لانا چاہئے تھا ان کے نخرے اٹھاتے رہے۔ پارلیمان سے پوچھے بغیر سی پیک کی آمدنی ایک ادارے کو دینے کاحکم دیا۔ وہ کونسا معاملہ ہے کہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ہوں تو گردن میں سریا آجاتا ہے۔ کاروباری مفادات کی بنیاد پر معاملات کرتے ہیں لیکن ایوان اقتدار سے نکالے جانے کے بعد جمہوریت کا رونا رونا شروع کردیتے ہیں۔ جناب نواز شریف کا خاندان 1984ء سے سیاست میں پچھلے 33برسوں کے د وران ان کے خاندانی کاروبار اور ذاتی اثاثوں سے جس قدر ترقی کی کیا وجہ ہے کہ پاکستانی معیشت اس سے 90فیصد کم بھی ترقی نہیں کرسکی؟ پچھلے 9سالوں سے پورے پنجاب کے وسائل یہاں تک بلدیاتی اداروں کے ملازمین کا جی پی فنڈ بھی لاہور کے میٹرو ' اورنج اور دوسروں منصوبوں پر پھونک دیاگیا۔ اب انہیں عوام اور جمہوریت یاد آرہے ہیں ۔ اچھی بات ہے مگر عوام اور جمہوریت سے وہ ساڑھے چار سال فاصلے پر کیوں رہے؟ انہیں تگڑم کی سازشوں کا دکھ ہے لیکن تگڑم کو یہ راستہ کس نے دکھایا؟ نواز شریف کہتے ہیں میں تو این آر او نہیں کروں گا۔ این آر او پیپلز پارٹی نے مشرف سے کیا تھا۔ بجا بالکل کیا اور اس این آر او کی وجہ سے ہی نواز شریف اور ان کا خاندان سعودی عرب کے دبائو پر وطن واپس آیا۔ ویسے ان کی لغت میں مقدمات کے خاتمے کے لئے لکھا گیا معافی نامہ اور دس سالہ معاہدہ جلا وطنی کیا کہلاتا ہے؟ یہی وہ معاملہ ہے جو ان کی حیثیت اور سیاسی فہم کے ساتھ کھوکھلے نعروں کو مشوک بناتا ہے۔ وہ تو معافی مانگ کر ملک سے چلے گئے تھے پلٹے تو پیپلز پارٹی کے خلاف کیانی چودھری اتحاد کے ترجمان بن گئے۔ جن اداروں پر وہ آج انگلیاں اٹھا رہے ہیں ان کا اتحاد انہوں نے ہی بنوایا تھا۔ کیا انہیں یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ یہ نواز شریف ہی تھے جنہوں نے میمو گیٹ سکینڈل کے بعد کیانی اور افتخار چودھری کی ملاقات کروائی تھی۔ اب اگر جانشینوں کے درمیان پرانا اتحاد قائم ہے تو رونا کس بات پر؟ یہ عرض کردوں کہ طالب علم فقط سیاستدانوں کو خرابیوں کا ذمہ دار نہیں سمجھتا البتہ بہت مشکل ہے سیاست کاروں کو سیاست دان تسلیم کرنا۔ ایک فون اور ایک پیغام پر وہ راولپنڈی کے کچہری چوک میں اپنی ریلی کو چھوڑ چھاڑ کر 120 کلو میٹر کی سپیڈ سے نکل گئے۔ اب کیا گارنٹی ہے کہ وہ معافی نہیں مانگیں گے۔ جلا وطنی کا معاہدہ نہیں کریں گے 120 کلو میٹر کی سپیڈ پر نکل نہیں جائیں گے؟ افسوس کہ انہوں نے اپنی جماعت کے وزیر قانون اور قومی اسمبلی و سینٹ کی خصوصی کمیٹیوں کے لیگی ارکان سے ہی جواب طلب نہیں کر پائے کہ انہوں نے اداروں کو دائرہ احتساب میں لانے کی پیپلز پارٹی والی تجویز پر آئیں بائیں شائیں کیوں کی۔ حرف آخر یہ ہے کہ انہیں اپنی سیاسی غلطیوں اور اداروں کی محبت پر قوم سے معافی مانگنی چاہئے۔

متعلقہ خبریں