Daily Mashriq


مظلوم شوہر

مظلوم شوہر

شوہر ہمارے معاشرے کا ایک ایسا مظلوم کردار ہے جس کے بارے میں اب تک دفتروں کے دفتر لکھے جاچکے ہیںلیکن اس کی مظلومیت کی داستان ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی! اگر اماں حوا کی کوئی دختر نیک اختر ہمارے کالم کے پہلے جملے کو پڑھ کر ناک بھوں چڑھا رہی ہے یا غصے سے دانت پیس رہی ہے تو اسے دو باتیں ذہن میں ضرور رکھنی چاہئیں پہلی بات تو یہ ہے کہ ہماری ہر بات سے اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے نجانے ہم عالم جنوں میں کیا کچھ لکھتے رہتے ہیں؟ دوسری بات یہ کہ میری تمام قارئین کرام سے مودبانہ گزارش ہے کہ وہ کالم پڑھتے ہوئے کالم کے عنوان کو ضرور ذہن میں رکھیں کہ یہ کالم صرف اور صرف مظلوم شوہروں کے حوالے سے ہے اگر کوئی ظالم شوہر کے حوالے سے اپنے اقوال زریں پیش کرنا چاہے تو بسم اللہ کیجیے قلم اٹھائیے اور لکھ ڈالیے ایک عدد کالم، جس میں ظالم شوہروں کا سارا کچا چٹھا بیان کر دیجیے ! اور اگر آپ کے پاس کالم نگاری جیسے بے کار شغل کے لیے وقت نہ ہو تو ہمیں حکم دیجیے ہم ظالم شوہروں کے حوالے سے ایک عدد کالم داغ دیں گے۔ جہاں تک مخالفت کا تعلق ہے توایسا ہمارے ساتھ کئی مرتبہ ہوچکا ہے کہ ہم نے ظالم ڈاکٹروں کے خلاف کالم لکھا اور ڈاکٹر حضرات ہمارے خلاف لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اتر آئے ہوا کے دوش پر ایسے ایسے برقی پیغامات بھجوائے کہ ہمارے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ ایسے موقعوں پر ہمارے پاس ایک سکہ بند جملہ یقینا موجود ہوتا ہے کہ جناب یہ کالم ان ڈاکٹروں کے حوالے سے ہے جو غریب مریضوں کا خون چوستے ہیں، لیبارٹریوں سے کمیشن لیتے ہیں، میڈیکل نمائندوں سے تحفے تحائف اور بھاری رقوم وصول کرتے ہیں اگر آپ اس قسم کی حرکتوں میں ملوث نہیں ہیں تو آپ کو تو ناراض ہی نہیں ہوناچاہیے۔ پانچ انگلیاں ایک جیسی تو نہیں ہوتیں ہر طبقے میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں آپ ظالم ڈاکٹروں کا دفاع تو نہ کیجیے یہ تو وہ ڈاکٹرز ہیں جن کی وجہ سے آپ جیسے قابل احترام مسیحا بھی مفت میں بدنام ہورہے ہیں !آگے بڑھنے سے پہلے ہمیں یہ عرض کرنے دیجیے کہ ہمارے ذہن میں مظلوم شوہر کی حمایت کا خیال کیسے آیا؟کل دوستوں کی محفل میں ایک دل فگار شوہر نامدار اچانک کہنے لگے کہ جناب تین عدد بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرچکا ہوںاب بیٹے کی شادی کی تیاریاں زور شور سے ہو رہی ہیں فضول قسم کے رسم و رواج پیچھا نہیں چھوڑتے، لاکھوں روپے خرچ ہوچکے ہیں لیکن گھر میں کوئی بھی خوش نہیں ہے شریک حیات کی فرمائشیں ختم نہیں ہوتیں جب احتجاج کرتا ہوں تو وہ اپنی ناک کا پرزور حوالہ دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ معاشرے میں ناک تو نہیں کٹوانی!کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں قربانی کا وہ بیل ہوں جس کی بوٹیاں سب نوچ نوچ کر کھارہے ہیںچلیں یہ بھی گوارا تھا مگر شکریئے کے دو الفاظ بھی کسی کے پاس نہیں ہیںاب آپ خود انصاف کیجیے !

کیوں گردش مدام سے گھبر ا نہ جائے دل

انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں

ہم نے پریشان حال دوست کے سامنے ایک فلک شگاف قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ یار کوئی نئی بات بتاتے یہ تو سب کی کہانی ہے ہم سب کولہو کے بیل ہیں جب بچوں کی خدمت سے فارغ ہوتے ہیں تو پھر پوتوں نواسوں کی خدمت میں جت جاتے ہیںلگے رہو منا بھائی دل چھوٹا نہ کرو اسی کا نام زندگی ہے!ان کی تسلی کے لیے تو ہم نے دو چار جملے بول دیئے لیکن بعد میں سوچ رہے تھے کہ یار یہ تو کوئلوں کی سوداگری والی بات ہوئی جس میں ہاتھ اور منہ دونوں کالے ہو جاتے ہیں اور ہاتھ بھی کچھ نہیں آتا ! میاں بیوی کے اختیار کا جھگڑا بہت پرانا ہے۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سب کی اپنی اپنی کہانی ہوتی ہے جن کا واسطہ دبنگ قسم کی بیویوں سے پڑجاتا ہے وہ بیچارے ساری زندگی دبے رہتے ہیں ! ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے : شوہر نے آفس سے نکلتے ہوئے فیس بک پر یہ سٹیٹس دیا: پنچھی بن کر اڑتا پھروں مست ہوائوں میں! بیوی نے فوراًپوسٹ کا جواب دیا: ڈارلنگ! زمین پر آتے ہی پپو کے پیمپر، پیاز ، ٹماٹر ، دھنیہ اور ایک پائو دہی لیتے آنا ورنہ رات کا کھانا نہیں بن سکے گا۔ شوہر اگر کھانا کھاتے وقت بار بار کبھی اچار، سلاد، دہی یا نمک مانگے تو بیوی کو سمجھ جانا چاہیے کہ کھانے میں دم نہیں ہے!اور شوہر میں بھی یہ کہنے کا دم نہیں ہے!!شوہر: آج سبزی میں نمک زیادہ ہے۔بیوی: نمک پورا ہے آج سبزی کم تھی۔ سبق: بیوی کبھی غلط ہو ہی نہیں سکتی!میاں بیوی کا رشتہ واقعی بڑا عجیب ہے کامیاب شادی کے حوالے سے ہزاروں کی تعداد میں کتابیں شائع ہوچکی ہیں اور اب بھی دھڑا دھڑ چھپ رہی ہیں لیکن یہ رشتہ اب بھی اتنا ہی پیچیدہ ہے جتنا آج سے کئی صدیاں پہلے تھا۔ بیوی ہمیشہ خاوند کو موردالزام ٹھہراتی ہے دوسری طرف جب چند شوہر آپس میں مل بیٹھتے ہیں تو ایک دوسرے کا مذاق صرف اس حوالے سے اڑایا جاتا ہے کہ کون اپنی شریک حیات سے کتنا ڈرتا ہے ہم نے تو ایسے مظلوم شوہر بھی دیکھے ہیں جو اگر کبھی غلطی سے دوستوں کی محفل میں آبیٹھیں تو تھوڑی تھوڑی دیر بعد سیل فون پر گھر واپس آنے کا پیغام چمکتا رہتا ہے وہ اس قسم کے پیغامات تو دوستوں کے ساتھ شیئر کرکے اپنی بے عزتی نہیں کرنا چاہتے مگر سمجھدار شوہرجنہیں اس قسم کے پیغامات کا اچھا خاصا تجربہ ہوتا ہے ان کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اندازہ لگا لیتے ہیں کہ اس وقت صاحب پر کیا گزر رہی ہے!۔

متعلقہ خبریں