Daily Mashriq


یہ تو آسیب ہیں

یہ تو آسیب ہیں

میں گزشتہ کئی روز سے سوچ رہی ہوں کہ اس ملک کے ساتھ جو ظلم ہمارے حکمران کرتے رہتے ہیں اس کا کبھی کیا کوئی سد باب ہو بھی سکے گا یا نہیں ۔ کیونکہ کئی ظلم توا یسے ہیں جس کا ہمیں آج اندازہ ہی نہیں ۔ یہ تو اس وقت معلوم ہونا شروع ہوگا جب ہم ان نقصانات کا شکار ہونے لگیں گے ۔ جب وہ چر کے جن کا آج بندوبست کیا گیا وہ ہمارے جسموں پر زخموں کی صورت میں ظاہر ہونا شروع ہونگے ۔ تب میں اور آپ بھول جائینگے کہ حکومت نے ہمارے لیے کیسے کسیے نامور وں کا بندوبست کیا تھا ۔ ہم اس ملک میں رہتے ہیں ۔ اس سے محبت کرتے ہیں ۔ اس سے اپنا مستبقل وابستہ کیے بیٹھے ہیں لیکن اس ملک میں حکومت کرنے والے ، جو ہمارے ہی ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں ہمارے لیے کیا سودے کیا کرتے ہیں ۔ غصہ ہے ، افسوس ہے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے ناسور بن جانے کا قلق ۔ قلم میں سے لفظ ادا نہیں ہورہے یوں لگتا ہے کہ زیادہ لکھوں گی تو سیاہی خون آلود ہو جائیگی ۔ میں ایک ماں ہوں ، کیسے برداشت کر لوں کہ اس ملک میں حکومت کرنے والوں نے ہمارے سروں کی قیمت تو وصول کی ، ساتھ ہی ہمارے بچوں کی جانوں کا سودا بھی کر لیا ۔ اس ملک میں سی پیک کے نام سے ترقی کے جو خواب دکھائے گئے ۔ ہم نے اپنے اپنے حصے کی کہانیاں سنیں ۔ ان پر یقین بھی کیا ۔ سوچا کہ شاید اس میں ہماری کوئی بھلائی بھی ہو ہی جائے گی لیکن ہم سمجھ ہی نہ سکے اور اس سب میںہماری اولاد وں کی زندگیوں میں ہم نے اپنے ہی ہاتھوں سے زہر گھولا۔ سی پیک کی باتیں کرنے والے وزیروں کو بھی گریباں سے پکڑلینے کو دل کرتا ہے ۔ جنہوں نے اس ملک میں تیرہ کوئلے سے بجلی بنانے والے کارخانوں کے معاہدے کیئے ۔ جن میں سے ایک بڑی تعداد شہروں میں لگائی جائیگی کیا کوئی جواب دے سکتا ہے کہ اوکاڑہ اور ساہیوال میں کوئلے سے چلنے والے ، بجلی بنانے کے کارخانے آبادیوں کے درمیان لگنے سے ان علاقوں کے لوگ کیسی مصیبتوں کا شکار ہونگے ۔ ابھی تک ہم لاہور میں ہر سال بڑھنے والی اسموگ (SMOG)کے بارے میں کوئی تحقیق نہیں کر سکے ۔ یہ اسموگ لوگوں کے لیے کس قدر خطرناک ہے ۔ اس کا لوگوں کی زندگیوں پر کیا اثر پڑرہا ہے ۔ کہیں اس کی بڑھوتری کی ایک بڑی وجہ لاہور میں ہونے والے مسلسل ترقیاتی کام تو نہیں ۔ کہیں اس میں اضافہ اس لیے بھی تو نہیں ہورہا ہے کہ لاہور میں درخت نام کی کوئی شئے ہی باقی نہیں رہی ۔ کہیں اس کے باعث ، لوگوں میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ تو نہیں ہوا ۔ اوکاڑہ اور ساہیوال میں کیا ہونے والا ہے ۔ لوگ جن خدشات کا اظہار کررہے ہیں ان میں کس حد تک حقیقت ہے ۔ کیا ایسا تو نہیں کہ ان شہروں میں لگنے والے یہ کارخانے واقعی چین کے پرانے استعمال شدہ اور جان چھڑائے ہوئے Equipmentپر مبنی ہیں اور یہ مزید ہمارے لئے صحت اور جان کا خطرہ ثابت ہونگے ۔ ان کارخانوں کے لگائے جانے کے بعد ملک میں کاربن کی کثافت میں کس قدر اضافہ ہوگا ۔ اس سے ماحولیاتی آلودگی پر کیا اثرات مرتب ہونگے لوگوں کی صحت کس حد تک اور کس کس طرح متاثر ہوگی ۔ اور چونکہ اثرات ایک عام آدمی پر ، غریب آدمی پر زیادہ ہونگے تو ان کا حکومت کے خزانے پر کیا اثر ہوگا ۔ صحت کی حد میں اخراجات میں کس قدر اضافہ ہوگا ۔ اور کیا آنے والی حکومت اس سب کے لیے تیار ہے ۔ میںتو کئی بار ، کئی وزراء سے ، کئی افسران سے یہ بات پوچھتی رہی کہ ذرا بتایئے تو سہی ، سی پیک کے اثرات کے حوالے سے کیااندازے لگائے گئے ہیں ۔ ایک ملک ، ایک دوسرے ملک کے ساتھ ایک نئے رشتے میں منسلک ہونے جارہا ہے ۔ اس سب کے حوالے سے کوئی سروے ، کیا گیا ہوگا ۔ معلومات اکٹھی کی گئی ہونگی ۔ کئی ذہن مطمئن لوگ سرجوڑ کر بیٹھے ہونگے کہ اس سب کا کیا اثر ہوگا اس کا کیا فائدہ ہوگا اور اگر اس قسم کے نقصانات کا احتمال ہو تو اس کا سدباب کیسے ہوگا ۔ میں کوئی خاطر خواہ جواب کہیں سے نہ پا سکی اور بالآخر ہی بات سمجھ میں آئی کہ شاید کسی قسم کا کوئی سروے نہیں کیا گیا ۔ کوئی اندازے نہیں لگائے گئے ۔ ملک میں کتنی گاڑیوں ، کتنے ٹرکوں کی آمد ورفت ہوگی ، اس کا بھی کوئی حساب کتاب نہ ہوا ۔ لوگوں کی زندگیوں کے ساتھ جو بھی کھیل کھیلا جانا تھا اس کا نہ کسی نے کوئی بوجھ محسوس کیا نہ ہی اس حوالے سے دل میں کسی قسم کی فکر مندی محسوس کی ۔ سب اپنے اپنے مفادات اور انتخابات کے جھنڈے بنانے میں مگن رہے ۔ بائیس کروڑ عوام کے لیے کبھی کینسر اور کبھی صحت کے اور مسائل کا فیصلہ ہوتا رہا اور کسی کے لہجے میں ملال کی کوئی جھلک تک محسوس نہ ہوئی ۔ غریب کے لیے موت کے پروانے پر دستخط کرتے ہوئے ان کے دل ایک بار بھی نہیں کانپتے ۔ ان کی انگلیوں میں کبھی کوئی لرزش نہیں ہوتی ۔ یہ مسلسل اپنے لیے سوچتے ہیں ۔ اپنے لیے فیصلے کرتے ہیں ۔ اپنا ہی سوچتے ہیں ۔ لیکن کوئی انہیں پوچھتا بھی نہیں کیونکہ انہیں پوچھنے والا بھی نہیں ۔ کوئی کیسے پوچھے کیونکہ ہمیں تو خود کچھ معلوم ہی نہیں ۔ ہم اور آپ کل اس حکومت کے نام کا خون تھوک تھوک کر مریں گے اور ہمیں معلوم تک نہ ہوگا ۔ افسوس ہے کہ ہم خود اس بھنور کی آنکھ میں ہیں ۔ میں سوچتی ہوں تو خون کھولنے لگتا ہے اور جملوں کا ربطہ بگڑ جاتا ہے ۔ یہ سیاست دان نہیں ، یہ آسیب ہیں اور ہمیں کسی بات کا کوئی اندازہ ہی نہیں ۔

متعلقہ خبریں