Daily Mashriq


سیاستدانوں کا عوام پر احسان

سیاستدانوں کا عوام پر احسان

ایک دفعہ روس کا صدر Joseph Stalinپارلیمنٹ میں ایک مرغا لے آیا اور سب کے سامنے اس کا ایک ایک پر نوچنے لگا، مرغا درد سے بلبلاتا رہا مگر Joseph Stalinنے ایک ایک کرکے اس کے سارے پر اُتار دیئے، پھر مرغے کو فرش پر پھینک دیا اور جیب سے کچھ دانے نکال کر مرغ کی طرف پھینک دیئے اور چلنے لگا، مرغا دانا کھاتے ہوئے Joesph Stalinکے پیچھے چلنے لگا، آخرکار مرغا اس کے پاؤں میں آن کھڑا ہوا، روسی صدر نے حاضرین کی طرف دیکھا اوراس کے بعد ایک تاریخی فقرہ بولا: سرمایہ دارانہ ریاستوں کے عوام اس مرغ کی طرح ہوتے ہیں ' ان کے حکمران پہلے عوام کا سب کچھ لوٹ کر انہیں اپاہج کر دیتے ہیں اور بعد میں معمولی سی خوراک دے کر خود کو مسیحا بنا دیتے ہیں اور چند سکوں ' چند نوٹوں کے عوض ' معاشی غلامی کا شکار اور اجتماعی شعور سے محروم عوام بھول جاتے ہیں کہ انہی انسان نما درندوں نے تو انہیں اس نہج پر لا کھڑا کیا تھا۔

مسلم لیگ کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کو عدالت عالیہ نے جب سے نااہل قرار دیا ہے تب سے انہیں پاکستان کے عوام کا درد کھائے جا رہا ہے' انہیں ووٹ کے تقدس کی فکر لاحق ہے اور وہ عوام کے وسیع تر مفاد میں اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر سڑکوں پر نکل آئے ہیں' جگہ جگہ جلسے جلوس اور ان میں عوام کے حقوق کی خاطر ہر حد سے گزر جانے کی باتیں سنائی دے رہی ہیں۔ حالانکہ یہی میاں نواز شریف تھے جن سے ان کے اپنے پارٹی کے ارکان اسمبلی کو بھی گلہ تھا کہ میاں نواز شریف اسمبلی میں نظر آتے ہیں اور نہ ہی وزیر اعظم ہاؤس میں ارکان سے ملنا گوارہ کرتے ہیں۔ ان تمام حقائق کے پیشِ نظر یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ اقتدار کا نشہ ہی میاں نواز شریف کو سڑکوں پر لایا ہے وگرنہ جولائی 2013ء سے لے کر 27جولائی 2017ء تک میاں نواز شریف ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنے رہے ، اب جب کہ عدالت نے انہیں نااہل قرار دیا ہے تو پھر بھی ان کی جماعت کی حکمرانی ہے جو درحقیقت انہی کی حکمرانی ہے پھر بھی میاں نواز شریف تصادم اور مخاصمت کی راہ اپنائے ہوئے ہیں۔ یہ صرف میاں نواز شریف کی ہی داستان نہیں ان سے پہلے بھی پاکستان کے جتنے حکمران آئے ہیں ان کی غالب اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل تھی جو اقتدار میں آئے تو خدمت کا نعرہ لگا کر لیکن انہوں نے ملک و قوم کے اثاثوں کو ذاتی جاگیر سمجھے رکھا اور اپنی آنے والی سات پشتوں کے لیے اثاثہ جات بنا کر گئے۔ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کی طرح ایسے لوگوں کی تعداد بھی خاصی ہے جو مفادات کو دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں۔ یہ سیاستدان اس قدر مہارت سے اپنی ترجیحات بدلتے ہیں کہ ان کی حب الوطنی پر کسی کو شک بھی نہیں ہوتا کیونکہ اپنا مؤقف بیان کرنے کے لیے ان کے پاس مضبوط دلائل ہیں ۔ یہی وہ طبقہ ہے جو ہر دور میں حکمرانی کے مزے بھی لیتا ہے اور اپوزیشن کے بھی۔ یہی وہ طبقہ ہے جو جمہوریت ہو یا آمریت اقتدار کا حصہ ہوتا ہے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں مشرف کے دور میں راتوں رات ق لیگ تشکیل دی گئی اور پھر آناً فاناً اسے اقتدار بھی دے دیا گیا۔ پھر یہی لوگ زرداری کے ساتھ اقتدار میں حصے دار رہے اور آج نواز شریف کے ساتھ بھی اقتدار میں پورے حصے دار ہیں۔

اگر کل کلاں کوئی دوسری پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو ان سیاستدانوں کی بڑی تعداد اس کے ساتھ بھی حصے دار ہو گی۔ یقینا یہ وہی طبقہ ہے جس کی روسی صدر نے نشاندہی کی ہے۔ میرے ایک دوست گاؤں میں رہتے ہیں ، ان سے ملنے گیا تو کہنے لگے کہ بجلی نہیں ہے، ایم این اے صاحب سے کہا ہے کہ ٹرانسفارمر لگوا دیں۔ میں نے حیرانی سے پوچھا ایم این اے کا ٹرانسفارمر سے کیا تعلق؟ آپ کو تو واپڈا والوں سے رابطہ کرنا چاہیے۔ مزید گفتگو سے پتا چلا کہ وہ اپنی زندگی میں آج تک اسی طرح کرتے آئے ہیں یعنی ہمیں پتا ہی نہیں کہ حق کیسے لینا ہے اور کہاں سے لینا ہے، بجلی کے جو بل ہم سے وصول کیے جاتے ہیں ان میں مرمت کے نام پر بھی صارفین سے اضافی چارج کیے جاتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر متعلقہ اداروں سے رابطہ کرنے پر مسئلہ حل کیا جانا چاہیے۔ تمام مہذب اقوام میں ایسے ہی ہوتا ہے کوئی بھی ٹرانسفارمر کے لیے ایم این ایز کے پاس نہیں جاتا ، عوام جب ایم این ایز کے پاس اپنا حق لینے کے لیے جاتے ہیں تو سیاستدان عوام کو انہی کا حق، انہی کے ٹیکس کے پیسوں سے دلا کر ایسا تاثر دیتے ہیں جیسے انہوں نے عوام پر احسان کیا ہو۔

ایم این ایز تو رہے اپنی جگہ پارٹی کے سربراہ میاں نواز شریف بھی ایسا ہی تاثر دیتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر میاں نواز شریف کی طرف سے یہ کہنا کہ ''میں نے موٹروے بنایا ' میں نے لوڈشیڈنگ ختم کر دی'' اب کوئی ان سے پوچھے کہ عوام کا پیسہ آپ نے عوامی منصوبوں پر لگایا ' جو درحقیقت آپ کا فریضہ بھی تھا، آپ نے اپنی جیب سے کیا لگایا ہے؟ روسی صدر نے بظاہرایک معمولی عمل سے بہت بڑی بات سمجھا دی ہے لیکن اس کا فائدہ اسی صورت ہو سکتا ہے جب عوام اس امر کو سمجھیں کہ سیاستدان اپنے مفادات کی خاطر ہمیں استعمال کرتے ہیں ' ہمارے ووٹ کی طاقت سے اقتدار حاصل کرتے ہیں اور پھر چند دانے دے کر ہم پر احسان جتلاتے ہیں، جس دن عوام کو یہ شعور آ گیا ہماری قسمت بدل جائے گی۔

متعلقہ خبریں