Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت احمد حرب کے پڑوس میں ایک آتش پرست رہتا تھا ، اس کانام بہر ام تھا ۔ اس نے اپنا مال تجارت کیلئے بھیجا تھا ، راستے میں ڈاکوئوں نے لوٹ لیا ۔ حضرت احمد حرب کو پتہ چلا تو آپ نے اپنے دوستوں سے فرمایا : ''ہمارے پڑوسی پر یہ واقعہ گزرا ہے ۔ آئو اس کی دل جوئی و غمخواری کے لیے اس کے پاس چلیں ۔ ''

چنانچہ حضرت احمد اپنے دوستوں سمیت بہرام کے گھر پہنچے ۔ بہرام نے جب سنا کہ مسلمانوں کا ایک روحانی پیشوا میرے ہاں تشریف لایا ہے تو بڑا خوش ہوا اور استقبال کے لیے دروازے پر آیا ۔ حضرت نے فرمایا : بھئی ! تمہارا مال لوٹا گیا ہے ، ہم اس بات کے افسوس کے لیے آئے ہیں ۔ بہرام نے کہا '' ہاں ایسا ہی ہوا ہے ۔ لیکن میں اس کے سبب تین شکر کرتا ہوں ۔ ایک تو اس بات کا کہ دوسرے میرا مال لوٹ گئے ہیں ۔ میں دوسروں کامال لوٹ کر نہیں لایا ۔

دوسرا اس بات کا وہ آدھا مال لوٹ کر لئے گئے ہیں اور آدھا باقی ہے ۔ تیسرا اس بات کا کہ دنیا لوٹ کر لے گئے ہیں ۔ دین میرے پاس باقی ہے ۔ ''

حضرت نے فرمایا کہ '' بہرام یہ تو بتائو کہ تم آگ کی پرستش کس واسطے کرتے ہو؟ اس نے کہا ''اس لیے کہ کل قیامت کو یہ مجھے نہ جلائے حضرت نے یہ سن کر فرما یا کہ ''تم بڑی غلطی میں پڑے ہو ، کیوں کہ آگ ایک کمزور ناتواں شے ہے ذرا خیال کرو کہ اگر ایک چھوٹا سا لڑکا ایک چلو بھر پانی اس پر ڈال دے تو وہ بجھ جاتی ہے ، پس خیال کرنے کی بات ہے کہ جو ایسی ناتواں کمزور ہو ، قوی تک کیسے پہنچا سکتی ہے ؟ علاو ہ اس کے آگ جاہل بھی ہے کہ مشک و نجاست میں ذرا بھی تمیز نہیں کرتی ۔ فوراً دونوں کو جلا دیتی ہے ۔پھر یہ بھی کہ تم اس کے پجاری ہو ۔ مگر تم بھی اگر اس کے اندر ہاتھ ڈالو گے تو تمہارا بھی لحاظ نہ کرے گی ۔ ''

بہرام کے دل پر ان باتوں کا گہرا اثر ہوا اور کہنے لگا ''میرے کچھ سوال ہیں ، ان کا جواب دیجئے ۔ اگر آپ کے جواب صحیح تو میں مسلمان ہو جائو ں گا ۔ '' آپ نے فرمایا : پوچھو ، کیا پوچھتے ہو ۔

بہرام نے کہا '' (1)حق تعالیٰ نے مخلوق کو کیوں پیدا کیا ؟(2)اور اگر پیدا کیا تو رزق کیوں دیا ؟ (3)اور اگر رزق دیا تو مارا کیوں ؟(4)اور اگر مارا تو پھر زندہ کیوں کرے گا ؟ ''حضرت نے جواب دیا کہ '' مخلوق کو اس لیے پیدا کیا کہ اس کی خالقیت کوپہچانیں ۔ اور رزق اس لیے دیا تاکہ اس کی رزاقی کو جانیں ۔ اور مارتا اس لیے ہے تاکہ اس کی قہاری کو پہچانیں ۔ اور پھر زندہ اس لیے کرے گا تاکہ اس کی قدرت کو جانیں ۔

پھر بہرام نے کہا ''اچھا اگر آگ نے آپ کو نہ جلایا تو میں مسلمان ہوجائوں گا۔ '' چنانچہ حضرت نے خدا کا نام لیکر اپنا ہاتھ آگ میں ڈال دیا اور دیر تک ڈالے رہے ۔ مگر آگ نے بالکل کوئی اثر نہ کیا ۔ یہ دیکھتے ہی بہرام کی زبان سے کلمہ شہادت جاری ہوگیا ۔

(مخزن اخلاق صفحہ 335)

متعلقہ خبریں