Daily Mashriq

دھرنوں اور احتجاج کے خاتمے کے بعد

دھرنوں اور احتجاج کے خاتمے کے بعد

سپریم کورٹ کے فیصلے کی رو سے توہین رسالت کے مقدمے میں آسیہ مسیح کی رہائی کے خلاف تحریک لبیک کی کال پر ملک بھر میں جگہ جگہ جو احتجاج ہوئے جن میں اطلاعات ہیں کہ بعض شہریوںکی جانیں بھی گئیں ‘ کئی زخمی بھی ہوئے‘ املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا‘ راستے بند کیے گئے ‘ بازار بند رہے ‘ کاروبار معطل رہا‘ شہریوںکو مشکلات پیش آئیں‘ خوف و ہراس پھیلا اور حکومت کو اربوں روپے کے محاصل کا نقصان پہنچا‘ حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان معاہدے کی رو سے تین دن میں ختم ہو گیا۔ دھرنے سمیٹ لیے گئے اور احتجاجی واپس چلے گئے۔ لیکن اب اس معاہدے کی تشریح میں اختلاف سامنے آ رہا ہے اور ایک بار پھر احتجاج کی کال دینے کی دھمکیاں سنائی دے رہی ہیں جو باعث تشویش ہے۔ اس پانچ نکاتی معاہدے کی رو سے حکومت فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل پر کوئی اعتراض نہیںکرے گی۔ یہ شق حکومت پر شک پر مبنی ہے۔ کیونکہ نظر ثانی کی اپیل دائر کرنا کسی کا بھی حق ہے اور حکومت اس پر اعتراض نہیںکر سکتی۔ اس شق کے شامل کرنے کی وجہ ہی یہ نظر آتی ہے کہ تحریک لبیک حکومت سے بے جا مخالفت کی توقع رکھتی ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد اس پر نظرِ ثانی کی درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔ لیکن تحریک لبیک نے یہ قانونی راستہ اختیار کرنے کی بجائے احتجاج کی کال دی جس سے یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ تحریک لبیک کوئی قانونی راستہ اختیار کرنے کی بجائے حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرنے کو ترجیح دے رہی تھی۔ معاہدے میںیہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت آسیہ مسیح کانام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کے لیے قانونی کارروائی شروع کرے گی۔ یہ اختیار بھی اب عدالت کا ہے تاہم حکومت یہ کارروائی کر سکتی ہے۔ حکومت نے تحریک لبیک کی قیادت کو یہ بتا دیا تھا کہ وہ احتجاج کے دوران جن شہریوںکو جان سے مار دیا گیا اور جن اہل کاروں کو زخمی کیا گیا ان کے ملزموں کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی لیکن دوسرے گرفتار ہونے والوںکو رہا کر دے گی۔ اس کے مقابلے میں تحریک لبیک نے ان شہریوں سے معذرت کا اعلان کیاتھا جنہیں احتجاج کے دوران مشکلات پیش آئیں۔ دھرنا ختم کرنے کے بعد رات گئے تحریک لبیک کے قائدین میر افضل قادری اور علامہ خادم حسین رضوی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بعض اور باتوں پر بھی اتفاق ہوا تھا جن کا ذکر معاہدے میںنہیںکیا گیا۔ مثال کے طور پر نظر ثانی کی اپیل سپریم کورٹ کا ایسا بنچ کرے گا جس میں حالیہ فیصلہ سنانے والے جج نہیںہوں گے۔ حالانکہ حکومت ایسا کوئی ذمہ نہیںلے سکتی جس پر اس کا اختیار ہی نہیں۔ بنچ تشکیل دینا سپریم کورٹ کا کام ہے اور حکومت سپریم کورٹ کو ایسی ڈکٹیشن نہیںدے سکتی۔ فیصلہ کے بارے میں پریس کانفرنس میںکہا گیا کہ اسے سارے ملک نے مسترد کر دیا ہے۔حالانکہ مسترد کر نے کا اختیار کسی کو حاصل نہیں۔ معاہدے میںکہا گیا تھا کہ توڑپھوڑ اور املاک کو نقصان پہنچانے والے کا تحریک لبیک اور احتجاج سے کوئی تعلق نہیں لیکن پریس کانفرنس میں علامہ خادم حسین رضوی نے کہا ہے کہ تمام گرفتار شدگان جن میں وہ بھی شامل ہیں جن پر مقدمات قائم کیے گئے ہیں فوری طور پر رہا کیے جائیں ۔اگر حکومت نے کسی گرفتار شدہ احتجاجی کے خلاف کوئی کارروائی کی تو ہمیں معلوم ہے کس طرح اس کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ کہ تمام احتجاج کرنے والے ناموس رسالت کا دفاع کر رہے تھے۔ ایک طرف یہ کہا گیا ہے کہ توڑ پھوڑ اور غیر قانونی کارروائیاں کرنے والوں کا تحریک لبیک کی کال سے کوئی تعلق نہیں دوسری طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ تمام گرفتار شد گان کو فوری رہا کیا جائے کیوں کہ ان میںسے ہر ایک اور تمام احتجاج کرنے والے ناموس ِ رسالت کا دفاع کر رہے تھے۔ یہاں پنجاب کے وزیر اوقاف‘ مذہبی امور پیر سعید الحسنات کا بیان بھی قابلِ غور ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’حکومت نے دائیں بازو کی جماعتوں کے لیڈروں سے مذاکرات کے کئی دور کیے کیونکہ یہ حساس معاملہ ہے۔ حکومت نے وقت حاصل کیا ہے تاکہ ملک میں فتنہ فساد برپا نہ ہو اور عوام کی جا ن و مال کا تحفظ ہو سکے۔‘‘ اس منظر نامے میں کئی اہم سوال ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ مثال کے طور پر کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کوئی شخص یا گروہ حق بجانب ہو گا کہ وہ کسی حساس دینی معاملے پر خود اٹھ کھڑا ہو اور لوگوںکو احتجاج اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرے یا اسے اس حوالے سے قانونی اور اجتماعی رائے حاصل کرنی چاہیے۔ کیا اسے ایسی حالت پیدا کرنے کی طرف بڑھنے کی اجازت ہونی چاہیے جسے پیر سعید الحسنات نے فتنہ اور فساد کہا ہے۔ کسی ایسے حساس معاملے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا موقف متفقہ ہونا چاہیے۔ اندرون ملک بھی بیرون ملک بھی ایسے معاملے پر نہ صرف حکومت بلکہ امت مسلمہ کا موقف اور طرزِ عمل ایک ہی ہونا چاہیے۔ کسی کے کسی سے زیادہ دیندار ہونے کا دعویٰ امت مسلمہ کے اتحاد کے تقاضوں کے منافی سمجھا جانا چاہیے۔ دھرنے کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے دھرنے والوںکا ساتھ نہ دے کر قابلِ تحسین رویئے کا مظاہرہ کیا ہے۔ لیکن اس کے بعد اب یہ کہا جا رہا ہے کہ حکومت ریاست کی رٹ ثابت کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ ایسی باتیں بعض ٹی وی مبصرین بھی کہہ رہے ہیں جن سے حکومت کے خلاف طعن طرازی کا تاثر قائم ہوتا ہے۔ رٹ عمومی اتفاقِ رائے سے تشکیل پاتی ہے۔ بنیادی امور پر اتفاقِ رائے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ایسے امور پر عمومی اتفاقِ رائے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے رویہ اختیار کیاجائے۔ اگر ان بیانات میں رٹ قائم کرنے سے یہ مراد ہے کہ حکومت کشت و خوںکا بازار گرم کردیتی اور اپنے ہی عوام پر اپنے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت کارروائی کی ہدایت کر دیتی تو اس سے ریاست پر حرف آتا۔ حکومت کے مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرنے کو قابلِ تحسین سمجھا جانا چاہیے کہ اس طرح فتنہ فساد سے بچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ایک اور سوال تحریک لبیک کے قائد افضل قادری کے اس بیان سے پیدا ہونے والے خدشات کی صورت میں سامنے آتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر آسیہ مسیح کو بیرونِ ملک بھیجا جاتا ہے تو فوری طور پر ملک میں جنگ شروع ہو جائے گی‘ انقلاب کی کال دی جائے گی اور احتجاج کرنے والے واپس اپنے مقامات پر آ جائیں گے۔ یہ عدالت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش شمار کی جا سکتی ہے جس کے سامنے نظرِ ثانی کی اپیل سماعت کے لیے آئے گی۔ نظرِ ثانی کی اپیل کب سماعت کے لیے منظور ہو گی یا نہیںہو گی یہ عدالت کا معاملہ ہے۔ اس اپیل میں آیا سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی استدعا کی جائے گی جس میں یہ کہا جا چکا ہے کہ استغاثہ اپنا مقدمہ ثابت کرنے میںناکام رہا ہے ۔ یا(قانونی معاملات سے نابلند ہونے کے اعتراف کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ) سپریم کورٹ مقدمہ واپس ٹرائل کورٹ کو بھیج دے گی یا خود ٹرائل کورٹ کے طور پر اس مقدمہ کی سماعت کرے گی۔ یہ سوال بھی زیرِ غور ہونا چاہیے کہ آیا نظرِ ثانی کی اپیل میں از سر نو ٹرائل کی درخواست کی استدعا کی جاتی ہے یا نہیں۔ ایک اور اہم سوال جو ریاست کے تینوں اداروں اور بالغ نظر شہریوں کے لیے قابلِ غور ہونا چاہیے یہ ہے کہ آیا عدم ثبوت پر مقدمہ خارج ہونے سے انصاف کے تقاضے پورے ہو جاتے ہیں یا محض استغاثہ اپنا موقف ثابت کرنے میں ناکام ثابت ہو جاتا ہے۔ ایسے کئی واقعات اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں جن میں قتل کا ملزم سالہا سال کال کوٹھڑی میں رہنے کے بعد بڑی عدالت سے عدم ثبوت کی بنا پر بری ہو گیا۔ کیا اس کے لیے یہ بریت ہی کافی ہے۔ جو عرصہ اس نے اذیت میں گزار اس کا ذمہ دار کون ہے۔ دوسری طرف مقتول اور اس کے ورثاء محض اس بنا پر انصاف سے محروم ہو گئے کہ استغاثہ اپنا موقف ثابت کرنے میںناکام رہا۔ ذمہ دار ایف آئی آر لکھنے والا وکیل ‘ کم فہم منصف ‘پیش ہونے والے گواہوں میں سے کوئی یا سب ہیں۔ ہمارا نظام عدل شاید انتظار کرتا ہے کہ کوئی ان کے خلاف چارہ جوئی اور کرے اور عمر عزیز کاایک حصہ اس کی پیروی میں گزار دے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہونی چاہیے کہ یہ معاملہ عالمی پیمانے پر دین اسلام کے خلاف ایک مہم کاحصہ ہے۔ یورپ میں ناروا خاکے شائع کیے جاتے ہیںیا ایساہی کوئی واقعہ ہوتا ہے اور سارے عالمِ اسلام میں آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ لوگ احتجاج کرتے ہیں‘ کشت و خون ہوتا ہے ‘ توڑ پھوڑ ہوتی ہے اور مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی جانوں کا اتلاف تک ہوتا ہے۔ اس کے اثرات یورپ اور امریکہ تک بھی جاتے ہیں اور مسلمانوں کے اس رویہ کو دینِ رحمت کے خلاف پراپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہو سکتا ہے کہ ایسے واقعات سے پہلے یورپ اور امریکہ میں جس تیزی سے اسلام کی طرف لوگ راغب ہو رہے تھے اب ان کی تعداد کم ہو گئی ہے کیونکہ حجاب پر پابندی ایسے قوانین کے ذریعے اسلام کو سماجی ناپسندیدگی کا ہدف بنایا جاتا ہے ۔ اس تناظر میں یہ معاملہ کسی ایک مسلمان یا مسلمان ملک کا نہیںرہتا بلکہ اسلامی اُمہ کا معاملہ ہو جاتا ہے کیوں کہ رسول پاک ﷺ کی حرمت ہر مسلمان کا جزو ایمان ہے۔ بلکہ دین متین تو تمام ادیان کے مقدسین اور اکابرین کے احترام کا تقاضا کرتا ہے۔ اس لیے اس معاملے میں رویہ نہ صرف انفرادی سطح پر بلکہ ملکی اور امہ کی سطح پر یکساں طور پر مضبوط اور مؤثر ہونا چاہیے۔ اس پر اجماع امت ہے اس کا اظہار رویہ اور قوانین میںبھی ہونا ضروری ہے‘ کسی عالم دین کو اس سے اختلاف نہیں ہو سکتا ۔ اس موضوع پر تمام عالم اسلام کے علماء کا اتفاقِ رائے عام معلومات کا حصہ اور رویہ کا محرک ہونا چاہیے تاکہ جہاںکہیں ایسا کوئی واقعہ رونما ہو اس کے خلاف کارروائی اجماع امت کی روشنی میں ہو اور کسی کو یہ ضرورت پیش نہ آئے کہ وہ از خود یا چند لوگوں کی مدد سے اپنے آپ کو زیادہ دیندار اور دیگر مسلمانوںکو کم دین دار ثابت کرنے کی کوشش کرے۔ اس اہم معاملے پر مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا نہیںہونا چاہیے۔ اس سے حرمت رسول پاکؐ کے بارے میں جو اجماع امت ہے وہ کمزور ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں