Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

علامہ ابن اثیر جزریؒ متوفی630ھ تاتاریوں کے ظلم وستم کے متعلق نقل کرتے ہیں کہ یہ حادثہ اتنا ہولناک اور ناگوار ہے کہ میں کئی برس تک اس پس و پیش میں رہا کہ اس کا ذکر کروں یا نہ کروں ، اب بھی بڑے تردوتکلیف کے ساتھ اس کا ذکر کر رہا ہوں ، واقعہ بھی یہ ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کی موت کی خبر سنانا کس کو آسان ہے اور کس کا جگر ہے کہ ان کی ذلت ورسوائی کی داستان سنائے ؟ کاش میں نہ پیدا ہوا ہوتا، کاش میں اس واقعہ سے پہلے مرچکا ہوتا اور بھولا بسرا ہو جاتا ، لیکن مجھے بعض دوستوں نے اس واقعہ کے لکھنے پر آمادہ کیا ، پھر بھی مجھے ترددتھا ، لیکن میں نے دیکھا کہ نہ لکھنے سے کچھ فائدہ نہیں ۔ یہ وہ حادثہ عظمیٰ اور مصیبت کبریٰ ہے کہ دنیا کی تاریخ میں اس کی نظیر نہیںمل سکتی ۔ اس واقعہ کا تعلق تمام انسانوں سے ہے ، لیکن خاص طور پر مسلمانوں سے ہے ، اگر کوئی شخص دعویٰ کرے کہ حضرت آدمؑ کے زمانے سے لے کر اب تک ایسا واقعہ دنیا میں پیش نہیں آیا تو وہ کچھ غلط دعویٰ نہ ہوگا۔ اس لیے کہ تاریخوں میں اس واقعہ کے قریب قریب بھی کوئی واقعہ نہیں ملتا اور شاید دنیا قیامت تک(یا جوج ماجوج کے سوا) کبھی ایسا واقعہ نہ دیکھے، ان وحشیوں نے کسی پر رحم نہیں کھایا، انہوں نے عورتوں ، مردوں اوربچوں کو قتل کیا ،عورتوں کے پیٹ چاک کر دیئے اور پیٹ کے بچوں کو مارڈالا ، یہ حادثہ عالمگیر آشوب تھا ، ایک طوفان کی طرح اٹھا اور دیکھتے دیکھتے سارے عالم میں پھیل گیا ۔علامہ شیخ محمد بن البانی البزازؒ بیان کرتے ہیں: میں مکہ معظمہ میں مجاور تھا۔ ایک دن ایسا آیا کہ کھانے کے لئے کچھ نہ ملا اور میں بھوک سے نڈھال ہوگیا۔اسی حالت میں باہر نکلا تو راستے میں ایک تھیلی پڑی دیکھی ، اٹھا کر دیکھا تو ریشمی تھیلی تھی اور ریشم کی ڈور سے بندھی ہوئی تھی ۔ قیام گاہ پر لاکر کھولی تو دیکھا کہ اس میں نہایت قیمتی موتیوں کا ایک ہار ہے ، میں بازار میں نکلا، دیکھا کہ ایک شخص رومال ہاتھ میں لئے پکار رہاہے کہ میری تھیلی جس میں موتیوں کا ہار تھا گم ہوگئی ہے ، جو صاحب اس کا پتہ دیںگے ، ان کو شکریہ کے طور پر پانچ سو دینارانعام دوں گا، جو اس رومال میں بندھے ہیں ۔ میں اس شخص کو اپنے گھر لے آیا اور تھیلی نکال کر اس کے حوالے کی ، وہ شخص بڑا ممنون ہوا اور حسب وعدہ پانچ سو دینار پیش کئے ، لیکن میں نے لینے سے معذرت کی اور کہا کہ میں نے یہ کام رضائے الٰہی کی خاطر کیا ہے ، اجرت لے کر میں اپنا اجر ضائع نہیں کرنا چاہتا، تاہم اس شخص نے ان کو قبول کرنے پر بہت زور دیا ، لیکن میں برابر انکار کرتا رہا، یہاں تک کہ وہ تنگ آکر چلا گیا۔اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد میں نے مکہ معظمہ سے رخت سفر باندھا اور ایک سمندری جہاز پر سوار ہوگیا ، بد قسمتی سے راستے میں طوفان آگیا اور جہاز ایک چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہوگیا ۔ میرے سوا سب مسافر ڈوب گئے ۔ میرے بچنے کی یہ صورت ہوئی کہ تختہ میرے ہاتھ آگیا اور میں اس پر بیٹھ گیا ، بہتا بہتا ایک جزیرے کے ساحل تک پہنچ گیا ۔ (سنہرے واقعات)

متعلقہ خبریں