Daily Mashriq

18ویں ترمیم، نگاہیں کہیں نشانہ کہیں

18ویں ترمیم، نگاہیں کہیں نشانہ کہیں

وفاق میں چند حلقوں کی جانب سے18ویں آئینی ترمیم ختم کرنے کی خواہش کا زور و شور سے پرچار کیا جا رہا ہے مگر ابھی بھی واضح نہیں ہے کہ شور درحقیقت ہے کس بارے میں۔18ویں ترمیم کے ذریعے آئین میں تقریباً100ترامیم کی گئیں اور یہ واضح ہے کہ تمام پریشان کن بھی نہیں ہیں۔18ویں ترمیم کی مخالفت وفاقی سطح کے کھلاڑیوں کی طرف سے آتی محسوس ہوتی ہے۔ پھر یہ مفروضہ کہ وفاق جو کام کرنا چاہتا ہے اس کام کو انجام دینے میں18ویں ترمیم وفاقیت کی صلاحیت پر اثرانداز ہو رہی ہے۔2جگہیں ایسی ہیں جہاں مسئلہ محسوس ہوتا ہے۔ ایک تو اختیارات کی صوبوں کو منتقلی ہے اور دوسرا مسئلہ اس سے متعلقہ مگر علیحدہ ہے اور وہ ہے وفاق اور صوبوں کے درمیان فنڈز کی تقسیم، یعنی نیشنل فنانس کمیشن(این ایف سی) کے فارمولے کا عمودی حصہ۔این ایف سی فارمولے کے عمودی حصے کے متعلق کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وفاق نے اپنا حصہ بہت کم کرلیا ہے۔ کچھ کا تو یہ بھی کہنا ہے وفاق کے سامنے موجود حالیہ مالیاتی خسارے کی ایک بڑی وجہ این ایف سی کا یہ عمودی بندوبست ہے۔ چونکہ وفاق خود بہت کم رکھتا ہے جبکہ اس کے اخراجات کی ضروریات اور اس کی ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں، اس لیے اس کا خسارے میں جانا لازمی ہے۔ اگر این ایف سی کی بنیاد پر دوبارہ غور کیا جاسکے تو خسارے کے اس مسئلے کو حل کرنا آسان ہوگا۔وسائل کی تقسیم اختیارات کی منتقلی سے بھی منسلک ہے۔ عدم مرکزیت اور اختیارات کی نیچے تک منتقلی کے تصور کو زیادہ تر لوگ تسلیم کرتے ہیں کیونکہ جو خدمات مقامی طور پر فراہم کی جاسکتی ہیں ان کے لیے وفاقی یا صوبائی سطح پر فیصلے کیوں لیے جائیں؟ مرکزیت نہ صرف غیر جمہوری بھی ہے بلکہ یہ غیر موثر ہے اور اس سے کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ خاص طور پر یہ خدمات کی فراہمی کے لیے بہت اہم ہے۔اسکول یا مقامی صحت مرکز کہاں ہونا چاہیے، اسے کون اور کیسے چلائے گا اور اسے کیسے مانیٹر کیا جائے گا، یہ مقامی مسائل ہیں اور ان کا حل بااختیار مقامی حکومتوں اور برادریوں کو کرنا چاہیے۔ کچھ چیزوں میں رابطہ کاری کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ مرکزیت سے ان کی کارکردگی بہتر ہو(نصاب، امتحانی نظام، کتابوں کی چھپائی، سامان کی خریداری) مگر زیادہ تر انتظامی اور گورننس سے متعلق فیصلہ سازی کا مقامی سطح پر ہونا قابلِ فہم ہے۔پاکستان کے زیادہ تر لوگ عدم مرکزیت اور اختیارات کی منتقلی کے بنیادی اصول سے متفق ہوتے ہیں۔مثلاً نصاب وغیرہ کے بارے میں کچھ بحث ہوسکتی ہے مگر اسے رابطہ کاری کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے اور یہ مرکزیت کے حق میں دلائل نہ ہوسکتے ہیں اور نہ ہیں۔چنانچہ اگر عدم مرکزیت معقول ہے اور کم از کم خدمات کی فراہمی کے لیے تو یہ معقول ہی ہے، تو پھر یہ18ویں ترمیم کا متنازع مسئلہ کیوں ہے؟ وجہ ایک بار پھر مالیاتی ہے۔ خدمات کی فراہمی مہنگی ہے۔ اگر صوبوں کو مقامی سطح پر خدمات، خصوصاً صحت، تعلیم، پانی، نکاسی آب و صفائی اور سماجی بہبود آئین میں کیے گئے وعدوں کے مطابق فراہم کرنی ہیں یا پھر ان معاہدوں کے مطابق جن پر ہم نے دستخط کیے ہیں(پائیدار ترقی کے اہداف یا ایس ڈی جی)تو پھر انہیں وسائل چاہیے ہوں گے۔ محصولات اکٹھے کرنے کے ہمارے نظام کو دیکھتے ہوئے اس کام کے لیے وفاق سے صوبوں کی جانب اہم منتقیلوںکی ضرورت ہوگی۔یہ سچ ہے کہ کم سے کم معیارِ تعلیم اور نصاب کے کچھ حصوں پر اتفاقِ رائے کے لیے باتیں ہوئی ہیں مگر یہ مسائل مرکزیت کا جواز نہیں فراہم کرسکتے۔ یہ رابطہ کاری اور مذاکرات کے لیے وجوہات فراہم کرسکتے ہیں مگر مرکزیت کے لیے نہیں۔ کیونکہ آخر مذاکرات کے ذریعے اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے برعکس کسی غیر متفقہ چیز کا نفاذ کیسے زیادہ بہتر ہوسکتا ہے؟بالآخر یہی محسوس ہوتا ہے کہ سارا مسئلہ پیسے کا ہے اور مسئلہ این ایف سی یا18ویں ترمیم نہیں ہے۔ مسئلہ یہ حقیقت ہے کہ ہمارا ٹیکس نظام خراب انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے اور خراب کارکردگی کا حامل ہے۔ تمام بڑے ٹیکس وفاق کے پاس ہیں، ٹیکس کا دائرہ کار بہت چھوٹا ہے اور عملدرآمد بہت ہی کم ہے۔ اس کے علاوہ ایڈ ہاک اور ایڈوانس کٹوتیوں پر بہت زیادہ انحصار کیا جاتا ہے اور صوبوں کے پاس اپنے سورس ٹیکس نہیں ہیں یا وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔چنانچہ صوبوں کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے18ویں ترمیم کے تحت این ایف سی سے ملنے والی رقم پر انحصار کرنا پڑتا ہے اور وفاق کو لگتا ہے کہ اس کے پاس بہت کم پیسے رہ گئے ہیں۔ لیکن اگر ہم18ویں ترمیم یا پھر ترمیم میں اختیارات کی منتقلی اور این ایف سی سے متعلق شقوں کو ختم بھی کردیں تو اس سے مالیاتی مسائل کیسے حل ہوں گے؟ ہمیں تب بھی صحت، تعلیم اور دیگر خدمات پر اگر زیادہ نہیں تو اتنا ہی خرچ کرنا پڑے گا۔ یہ وفاق ہوگا جسے یہ اخراجات کرنے ہوں گے، اس سے خسارے کم کرنے یا پھر وفاق کو زیادہ مالیاتی آزادی دینے کا مقصد کیسے حاصل ہوگا؟18ویں ترمیم اور آخری این ایف سی معاہدے میں اس حوالے سے کچھ مفروضے تھے کہ وفاقی سطح پر محصولات اکٹھا کرنے کا نظام کس طرح ارتقا پائے گا۔ اس میں مجموعی قومی پیداوار(جی ڈی پی)کی ایک مخصوص شرحِ اضافہ، ٹیکس کی وصولی اور ٹیکس و جی ڈی پی کے تناسب میں بہتری کو فرض کیا گیا تھا۔ مگر یہ سب ہوا نہیں۔ یہی بنیادی وجہ ہے کہ وفاق کو اضافی د با ئو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔موجودہ محصولات کو وفاق اور صوبوں کے درمیان مختلف انداز میں بانٹنے سے ملک کو لاحق مالیاتی مسائل کو حل نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ایسا ہے کہ وفاق کے پاس اگر صحت اور تعلیم وغیرہ پر خرچ کرنے کا اختیار ہوتا تو یہ خدمات کی فراہمی پر اخراجات میں کمی کرسکتا تھا۔ نہ ہی خدمات کی ذمہ داری تبدیل کرنے سے کچھ تبدیل ہوگا۔ چنانچہ مسئلہ 18ویں ترمیم نہیں ہے۔ اس لیے توجہ کا مرکز ٹیکس اصلاحات ہونی چاہئیں نہ کہ18ویں ترمیم۔ (بشکریہ ڈان)

متعلقہ خبریں