Daily Mashriq


میراث میں آئی ہے اُنہیں مسند ارشاد

میراث میں آئی ہے اُنہیں مسند ارشاد

مجھے نہیں معلوم کہ علامہ محمد اقبالؒ نے کس پس منظر یا واقعات کی روشنی میں اپنے زمانے میں یہ کہا تھا کہ اُنہیں یعنی اُن کے زمانے کے بعض لوگوں کو مسند ارشاد وراثت میں ملی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ جولوگ علامہ کے زمانے میں بعض عہدوں اور مناصب پر فائز تھے، اُن میں اُن مناصب جلیلہ کی اہلیت وصلاحیت موجود نہیںتھی لیکن موروثی بنیادوں پر کرسیوں پر براجمان ہو جاتے ۔۔۔ظاہر ہے کہ ایسے میں حالات وواقعات کار گر گوں ہو نا ایک فطر ی امر ہے ۔ مسند ارشاد کی ترکیب اگر چہ دینی ومذہبی اور دنیاوی دونوں طرح کے مناصب اعلیٰ کے لئے استعمال ہوتی ہے ، لیکن علامہ محمد اقبالؒ نے جس تناظر میں یہ فرمان پیش کیا ہے ، اس سے مراد مذہبی مسندوںپر بیٹھے ہوئے ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو اہلیت نہ رکھنے کے باوجودبڑے مذہبی و دینی اداروں اور عہدوں کی سربراہی کے حقدار صرف اس لئے ٹھہرے کہ وہ بڑے لوگوں کے ہاں جنم لے چکے تھے ۔ تحریک پاکستان میں ہمارے بزرگوں بالخصوص سر سید احمد خان ، علامہ محمد اقبالؒ، محمد علی جناحؒ اور مسلم لیگ کے دیگر سیاسی زعماء اور قائد اعظم محمد علی جناح کا ساتھ دینے والے دینی بزرگ وعلماء نے جو کردار ادا کیا اُس کا نتیجہ اُس وقت عالم اسلام کے نقشے پرسب سے بڑی اسلامی مملکت پاکستان کے وجود سعید کی صورت میں نکلا۔۔۔لیکن بعد صرف چوبیس سال کے اندر جب اُن اسلاف میں سے اکثر اس دنیا میں نہ رہے اور سیاسی مسندوں پر اُن کے نالائق جانشین آگئے ، تو پاکستان دولخت ہوا۔۔۔اور آج ستر برس گزرنے کے بعد مملکت خداداد کا بنگلہ دیش کی صور ت میں ناقابل تلافی نقصان اُٹھانے کے باوجود جو حال ہے ، اُس کے پیش نظر علامہ محمد اقبالؒ کی یہ فکرکتنی راسخ اور پتھر پرلیکر کی حیثیت رکھتی ہے ۔ آج وطن عزیز میں مقننہ انتظامیہ اور عدلیہ میں جولوگ مناصب پر بیٹھے ہیں ،اُن کے درمیان اتنی ہم آہنگی نہیں کہ وہ اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے ایک بڑا فیصلہ آنے کے پیش نظر اُس کے ممکنہ ردعمل سے نمٹنے کیلئے کم سے کم سطح پر انتظامات کر کے عوام کے جان مال اور ملکی اثاثوں کی حفاظت کو یقینی بناسکتے ۔ نتیجتاً عوام اور پاکستان کا بہت بڑا نقصان ہوا۔ اور دو تین دن کی لاقانونیت کے بعد حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان جو معاہدہ سامنے آیاہے ، یہ پہلے دن بھی ممکن تھا اگر مسند ارشاد پر اُن کے اہل لوگ موجود ہوتے ۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ عظیم اسلامی مملکت جو بہت قربانیوں ، آرزوئوں کے ساتھ اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لئے حاصل کی گئی تھی آج مذہبی جھتو کے رحم وکرم پر ہے ، مذہبی جماعتوں اور فرقوں کی اسی روش سے دشمنان دین وملک نے موقع پاتے ہوئے مولانا سمیع الحق جیسے عالم دین کو شہید کردیا ۔۔۔۔یہ تحریک یوں جذباتی انداز میں سر نہ اُٹھاتی اور ایسے لوگ اس تحریک میں شامل نہ ہوتے جن کا مقصد عوام کی جان ومال لوٹنا تھا ، تو مولانا کیوں اپنے دارالعلوم سے نکلتے اوریوں ان بے رحم ، سنگدل اور درندہ صفت بھیڑیوں کے ہتھے نہ چڑھتے ۔ ہمیں سیاستدانوں کے مقابلے میں علماء اور مذہبی رہنمائوں سے زیادہ گلہ اس لئے ہے کہ ان پر دہری ذمہ داری عائد تھی۔ ایک اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے دین و مذہب کے جاننے والے امین کی حیثیت سے اور ایک پاکستان کے ذمہ دار شہری کی حیثیت سے۔ لیکن آج یہ مایوس کن اور پریشان کن حالات دیکھتا ہوں تو آقائے نامدار کی وہ حدیث مبارکہ یاد آتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ ’’ اندیشہ ہے کہ میری امت پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ اسلام میں اس کے نام کے سوا کچھ نہیں بچے گا ۔ اور قرآن کریم میں سے اس رسم (حروف) کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔ ان کی مسجدیں آباد تو بہت ہوں گی (خوبصورتی کے لحاظ سے نمازی بھی بہت ہوں گے) لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی‘‘اس حدیث میں یہ بات آج ہمارے حال پر کتنی فٹ بیٹھتی ہے ’’اور ان کے علماء آسمان کی چھت کے نیچے کے بدترین انسان ہوں گے۔ فتنہ ان ہی کے اندر سے برآمد ہوگا ان ہی میں گھس جائے گا‘‘یعنی وہ آپس میں جنگ و جدل میں لگے رہیں گے یعنی اپنے اپنے فرقے کے لوگوں کے جذبات بھڑکاتے رہیں گے اور مسلمانوں کے اندر اختلافات کو ہوا دیں گے۔ آج ہم جن کو علماء کہتے ہیں ان کی عظیم اکثریت اس کیفیت سے دو چار ہو چکی ہے۔ جب مذہب اور دین پیشہ بن جائے تو کوئی خیر اس میں باقی نہیں رہتا۔ یہ دین و مذہب پیشہ نہیں تھا۔ اسلام میں کوئی پیشوائیت نہیں‘ اسلام میں کوئی پاپائیت نہیں‘ اسلام میں کوئی برہمن ازم نہیں‘ اسلام تو ایک کھلا دین ہے ‘ ہر شخص اس کو سیکھ سکتا ہے اور دین کے بنیادی عقائد‘ عبادات اور معاملات سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ لیکن جب دین و مذہب سے ہم نے پیشہ بنا لیا تو اس میں پیسہ داخل ہوا۔ اور پیسہ ایسی چیز ہے جس نے مذہبی فرقے بنوائے۔ پیشے کے اندر تو پیشہ ورانہ چشمکیں ہوتی ہیں۔ یہی بات علامہ نے یوں فرمائی ہے۔

پیشے میں ہے نہ شیرین و نہ فرہاد کو نام

لیکن آخر میں یہ عرض کرتا چلوں کہ دنیا علماء حق سے خالی نہیں لیکن کسی کی پیشانی پر یہ لکھا نہیں ہوتا کہ یہ عالم حق ہے اور یہ عالم سوء۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج اکثریت علماء سوء کی ہے ورنہ امت کا بیڑہ یوں غرق نہ ہوتا۔

اور علامہ محمد اقبال نے سچ فرمایا ہے

میراث میں آئی انہیں مسند ارشاد

زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن

متعلقہ خبریں