Daily Mashriq


نہیںآئیں خود ہم بلائی گئی ہیں

نہیںآئیں خود ہم بلائی گئی ہیں

آج نومبر کے مہینے کی پانچ تاریخ کوپاکستان سمیت ساری دنیا میں سونامی بلا یا قہر خدا وندی کی نہ صرف یاد منائی جارہی ہے بلکہ اقوام متحدہ نے آج کے دن سمندر کے پاتال سے اٹھنے والے اس بھونچال اور سیلاب کی مرکب اس تباہی کے متعلق اجتماعی شعور کو بیدار کرنے کی ٹھانی ہے۔ اس دن کو عالمی سطح پر منانے کے لئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دسمبر 2015 کو ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے فیصلہ کیا تھا کہ ہر سال 5 نومبر کو عالمی سونامی بیداری کا دن منایا جائے گا تاکہ دنیا والوں کے علم میں یہ بات لائی جاسکے کہ سونامی ایک ایسے تباہ کن زلزلے اور سیلاب کے مرکب کا نام ہے جس کے زیر اثر سمندربپھر کر شہروں کے شہر خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتا ہے۔ زلزلہ کسی سلسلہ کوہ میں آتش فشاں کے پھٹنے سے آیا ہو یا جزیروں کے ٹکرانے سے پیدا ہوا ہو زمین کے اندر ہونے والی شکست وریخت یا ردو بدل کے سبب رونما ہوا ہو ایک ایسی ہیبت ناک آفت ہے جس کا نام سنتے ہی ہر کس وناکس پر خوف اور دہشت طاری ہوجاتی ہے ، دل کی دھڑکنیں بے قابو ہوجاتی ہیں اعصاب جواب دے جاتے ہیں اور اگر موت کے وقت کلمہ نصیب ہو جیسی دعا کو قبولیت مل چکی ہو تو بے اختیار الحفیظ والامان جیسے بہت سے کلمے ورد زبان ہونے لگتے ہیں۔ سونامی کسی نئی قدرتی آفت کا نام نہیں۔ تاریخ پر نظر رکھنے والے بتاتے ہیں کہ گزشتہ100 سال کے دوران 260000 سے زائد زندگیاں اس طوفان بلا خیز کا لقمہ بن چکی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق سب سے زیادہ تباہی دسمبر 2004 کے بحر اوقیانوس میں آنے والی سونامی نے مچائی. جس کے نتیجے میں 14 ممالک میں227000 لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ ماہرین ارضیات کہتے ہیں کرہ ارض پر ایک سال کے دوران کم وبیشً بارہ ہزار زلزلے آتے ہیں۔ جن میں سے بہت سے زلزلے اتنے خفیف ہوتے ہیں کہ ہمیں ان کے آنے اور آکر گزر جانے کا احساس تک نہیں ہوتا۔ ان بارہ ہزار زلزلوں میں کم وبیش ایک ہزار زلزلے ہمیں اپنے اودھم مچانے کا احساس دلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہم ایک دوسرے کی جانب آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر تکتے ہوئے کہنے لگتے زلزلہ تھا۔ اللہ نے خیر کردی, اتنا کہنے کے بعد ہم کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ استغفار پڑھتے ہیں اور پھر دوسرے ہی لمحے ہاتھوں میں الٹی چھری اٹھا کر گلے اور جیبیں کاٹنے اور ایک دوسرے کی غیبت گالم گلوچ اور اس جیسی بہت سی ساری برائیاں وہیں سے شروع کردیتے ہیں جہاں زلزے کے جھٹکے محسوس کرنے سے پہلے چھوڑی تھیں۔ رشوت مہنگائی ذخیرہ اندوزی چوری سینہ زوری بدمعاشی اللہ کتنے نام ہیں معاشرتی ناہمواریوں کے، اس لئے ہم سونامی کو اپنے سونامی ناسوروں کا خمیازہ سمجھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سال بھر میں آنے والے بارہ ہزار زلزلوں میں سے کم و بیش سو زلزلے تباہ کن قسم کے ہوتے ہیں۔ جبکہ ان میں سے ایک آدھ قیامت خیز زلزلہ بن کر ٹوٹ پڑتا ہے۔ کرہ ارض پر ایک حصہ خشکی ہے اور پانچ حصے پانی ہے ہم خشکی پر رہنے والوں کو خشکی کے زلزلوں کی آمد بری طرح محسوس ہوتی ہے لیکن ہم زیر آب آنے والے زلزلوں سے صرف اس وقت آگاہ ہوتے ہیں جب یہ سمندر کی خاموشیوں اور اس کی لہروں کو تہس نہس کرتے ہوئے سونامی بن کر تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ سمندر کی لہریں بے قابو ہو کر سینکڑوں فٹ اونچی اچھلتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ساحل سمندر کو پھلانگ کر قصبوں دیہاتوں اور شہروں کو نگل جاتی ہیں۔ کہتے ہیں سونامی جب آتی ہے تو یہ نہیں دیکھتی کہ کون کتنے پانی میں ہے ، بس اس کا کام ہے آنا اور آکر سب کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر غرقاب کردینا ۔ بڑا شوق تھا مرزا اسداللہ خان غالب کو بحرہند میں سونامی اٹھنے کا

ہوئے مر کے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا؟

نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

اچھا ہوا جو ان کے دل کی دل ہی میں رہ گئی ورنہ آج نہ دلی ہوتی نہ کوچہ بلی ماراں اور نہ غالب پیا کی مرقد۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان آئی آئی، پی ٹی آئی اور’ تبدیلی آئی رے ‘ کا راگ الاپنے سے پہلے

غنچے اپنی آوازوں میں

بجلی کو پکارا کرتے ہیں

کے مصداق سونامی کو پکارا کرتے تھے۔ شاید عمران خان’’ سونامی سونامی‘‘ کہہ کر اس تبدیلی کو لانے کا عندیہ دے رہے تھے جس کے لئے وہ کچکول بدست اونچے محلوں والے دوست ملکوں کے دروازوں پر دستک دینے لگے ہیں اور انہیں اس سونامی کا احساس ہی نہیں رہا جو یار لوگوں نے آسیہ مسیح کی گستاخی کو کیش کرنے کے لئے برپا کئے رکھی۔ ایسے میں قدم بڑھاؤ عمران ! ہم تمہارے ساتھ ہیں کا نعرہ لگا کر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو خان صاحب کا حوصلہ بڑھانے لگے یا لیلائے وطن کے لئے بھکاری بننے والے عمران پر طنز کرنے لگے۔ ہم اس پر تبصرہ کرنا قبل از وقت سمجھتے ہیں۔ البتہ ہمیں آج کی صبح تا شام کو سونامی کے نام کرنے کے دوران زلزلہ پیما مرکز کی جانب سے جاری ہونے والی اس تنبیہہ کی فکر ہے جس میں پاکستان میں آنے والی دو سونامیوں کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔ یا اللہ خیر، بھلا وہ کیوں آنے والی ہیں ؟؟ اس سوال کا جواب ہمیں اپنے سونامی گناہوں بھرے گریباں میں جھانک کر بآسانی مل سکتا ہے ۔ اگر ہم اپنے کرتوتوں سے باز نہ آئے تو خاکم بدہن جب متوقع سونامیاں آجائیں گی تو استغفراللہ ،ہم اتنا بھی نہ پوچھ پائیں گے کہ وہ کیوں آئی ہیں۔ اور اگر پوچھ بھی بیٹھے تو وہ کہہ اٹھیں گی

تھے خفتہ پڑی ہم جگائی گئی ہیں

نہیںآئیں خود ہم بلائی گئی ہیں

متعلقہ خبریں