Daily Mashriq


آہ! مولانا سمیع الحق

آہ! مولانا سمیع الحق

ریڈیو پاکستان میں ملازمت کے دنوں میں جب بھی ہم ڈیوٹی کے بعد واپس آرہے ہوتے تو راستے میں پرانے ایم این اے ہا سٹل میں ہماری ملاقات مختلف سیاسی راہنما ئوںمثلاً قاضی حسین احمد، اجمل خٹک ، محمود خان اچکزئی ، افضل خان لالا ، مولانا گوہر رحمان کے علاوہ ملک کے جیدعالم اور دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم مولانا سمیع الحق سے بھی ہوتی رہتی۔ مولانا انتہائی شفقت اور محبت سے ملتے ۔ عام طور پر مولانا صاحب سے ملکی ، علاقائی ‘عالمی حالات ، اسلامی موضو عات اور دور حا ضر کے دیگر اُمور پر بات چیت ہوتی ۔مولانا سمیع الحق انتہائی پیار اور شفقت سے بات سُنتے اور دلیل کے ساتھ جواب دیتے۔مگر آج مُجھے انتہائی افسوس اور رنج و غم درد اور کرب سے کہنا پڑرہا ہے کہ نبی کا وہ وارث اور علم کا وہ درخشندہ ستارہ جو 18 دسمبر 1937 کو مولانا عبد الحق مرحوم و مغفور کے گھر اکوڑہ خٹک میں طلوع ہوا تھا ۔ علم، عقل فہم و تدبر کے اس درخشندہ ستارے کو سفاک درندوں نے2نومبر 2018کو گل کر دیا ۔مولانا سمیع الحق کو پنڈی کے بحریہ ٹائو ن کے گھر میں ظالموں نے خنجروں اور چاقوئوں کے پے درپے وار کرکے شہید کیا۔

جس وقت میں کالم لکھ رہاہوں اللہ گواہ ہے میں اپنے جذبات اور احساسا ت پر قابو نہیں رکھ پارہا۔میرے سامنے مولانا صا حب کا معصوم چہرہ ہے۔ میرا ہاتھ اور قلم میرے اعصاب اور دماغ کا ساتھ نہیں دے رہے۔بار بار کوشش کرتا ہوں کہ کچھ تحریر کروں مگر بُہت ساری کوشش کے بعد بھی کامیاب نہیں ہوتا۔میں سوچتا ہوں کہ میری اس دھرتی کو کس کی نظر لگی ہے ۔ ریا ستی معاملات کس طرح ڈیل کئے جا رہے ہیں۔ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔کس طرح مذہب اور دین کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے۔ ہم کس طرح غیروں کے ہاتھ میں چند ڈالروں کے لئے کھلونے بنے ہوئے ہیں۔

مولانا صا حب کو طالبان کا والد بھی کہا جاتا ہے کیونکہ جامع حقانیہ میں صرف پاکستان کے نہیں بلکہ افغانستان اور دنیا کے کئی ممالک سے طالب علم ،علم کی پیاس بُجھانے آتے ہیں۔مولانا صاحب دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین اور یک جہتی کو نسل کے ممبر بھی رہ چکے ہیں ۔ مولانا شہادت سے پہلے ا سلام آباد میں ناموس رسالت ﷺ کے سلسلے میں ایک احتجاج میں شرکت کرنے والے تھے مگر ظالموں نے مولانا صاحب کو موقع نہ دیا کہ وہ اس مظاہرے میں شرکت کرتے۔مولانا صاحب کے افغانستان میں طالبان کے امیر ملا عمر کے ساتھ بھی انتہائی اچھے تعلقات تھے۔

اگر ہم غور کریں تو مولانا صا حب پاکستان اور افغانستان کے معا ملات کو سلجھانے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ اور پاکستان اور افغانستان کے حالات سنوارنے کے لئے پُل کا کردا ر اداکرتے تھے ۔مولانا سمیع الحق متحدہ مجلس عمل کے بانی ممبر تھے۔ امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے جامع حقانیہ کا2013میں دورہ کیا تھا۔ اُنہوں نے امریکی سفیر سے علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر سیر حاصل گفتگو بھی کی تھی۔ اور امریکی سفیر کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ طالبان کے ساتھ نرم برتائو رکھ کر افغانستان میں حالات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اُنہوں نے سفیر کو کہا کہ طالبان کو ایک سال دیں انشاء اللہ وہ افغانستان کو ایک خو شحال اور پُر امن ملک بنا دیں گے ۔اگر امریکہ نے افغانستان چھوڑا تو ایک سال کے اندر اندر افغانستا ن ایک خو شحال اور پُر امن ملک بن جائے گا۔ اُنہوں نے امریکی سفیر سے کہا کہ جب تک آپ افغانستان میں رہیں گے تو افغانی اپنی آزادی کے لئے آپکے ساتھ لڑیں گے۔ اُنہوں نے امریکی سفیر کو مزید کہا کہ افغانیوں کی جنگ اپنی بقا اور قابض لوگوں سے آزادی کی جنگ ہے۔یہ جنگ اُس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک غیر ملکی قابض قوتیں افغانستان کی سر زمین نہیں چھوڑیں گی۔ مرحوم و مغفور سینیٹ آف پاکستان کے سال 1985 سے 1991 تک اور سال 1991 سے 1997 تک ممبر رہے ہیں۔نامو س رسالت اور آسیہ مسیح کے کیس کے بارے میں مولانا سمیع الحق نے آخری تقریر میں کہا کہ میں نے وزیر اعظم عمران خان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ کسی کے دبائو میں نہ آئیں اور اللہ اور رسولؐکا جو حکم ہے وہ پورا کریں۔مولانا سمیع الحق ایک معتدل عالم اور انسان تھے اور وہ صبر سے کام لینے کا درس دیتے تھے۔

پاکستان میں شر پسند عنا صر اس قسم کے علمائے کرام کو شہید کرکے وطن عزیز میں امن کی فضا خراب کرنا چاہتے ہیں ۔ مولانا سمیع الحق کے فر زند نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ مولانا کی شہادت دراصل ناموس رسالت اور آسیہ مسیح کے کیس سے لوگوں کی توجہ ہٹانا ہے۔حکومت کو چاہئے کہ وہ اسلامی قوانین کو نہ چھیڑیں اور کوشش کریں کہ پاکستان کے عوام کی فلاح و بہبو د کے لئے کام کریں ۔ کیونکہ اسلام جیسا دین اور قرآن جیسی کتاب کی نظیر نہیں ملتی۔ساتھ ہی وہ بڑے بڑے علمائے کرام کو تحفظ بھی فراہم کرے۔کیونکہ علماء انبیاء کے وارث ہیں۔ سب کچھ ہوجائے گا مگر مولانا صا حب جیسے جید عالم کی شہادت سے پیدا ہونے والا خلا صدیوں تک پر نہیں ہوسکے گا۔ مولانا سمیع الحق ہمیشہ ہمیشہ ہمارے دل میں رہیں گے۔ آپکی دینی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

متعلقہ خبریں