Daily Mashriq

ترکی نے ابوبکر البغدادی کی بہن کو گرفتار کرلیا

ترکی نے ابوبکر البغدادی کی بہن کو گرفتار کرلیا

ترکی نے کالعدم عسکریت پسند گروہ دولت اسلامیہ (داعش) کے ہلاک ہونے والے سربراہ ابوبکر البغدادی کی بہن کو شمالی شام سے گرفتار کرلیا۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سینئر ترک عہدیدار نے بتایا کہ ترکی نے پیر کے روز شمالی شام کے شہر آزاز میں ابوبکر البغدادی کی بہن کو گرفتار کرلیا۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں ابوبکر البغدادی کی بہن، ان کے شوہر اور بہو شامل ہیں جن سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

عہدیدار نے سرحد کے قریب واقع ترکی کے زیر کنٹرول شامی شہر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 65 سالہ راسمیہ کو عازاز کے قریب ایک چھاپے میں حراست میں لیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ راسمیہ کے ہمراہ 5 بچے بھی تھے۔

عہدیدار نے بتایا ’ہمیں امید ہے کہ داعش کے اندرونی کاموں پر ابوبکر بغدادی کی بہن سے اہم معلومات حاصل کی جا سکے گی‘۔

آزاد ذرائع سے ابوبکرالبغدادی کی بہن کی گرفتاری کے بارے میں تصدیق نہیں ہوسکی۔

واضح رہے کہ 27 اکتوبر کو امریکا نے ابوبکر البغدادی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور تین دن بعد حملے کی ویڈیو بھی جاری کی۔

بعدازاں داعش کی جانب سے ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی اور ساتھ ہی تنظیم کے نئے سربراہ ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کا اعلان کردیا گیا۔

داعش کی جانب سے جاری آڈیو بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ اے وفادار کمانڈر ہم آپ کی موت پر افسردہ ہیں‘۔

واضح رہے کہ ابو بکر البغدادی نے 2014 سے داعش کی قیادت کی تھی اور وہ دنیا کے سب سے مطلوب شخص تھے۔

ابوبکرالبغدادی کی بہن کی گرفتاری سے متعلق ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے کمیونیکشن ڈائریکٹر فرحتین التون نے کہا کہ خاتون کی گرفتاری ترکی کے داعش کے خلاف لڑنے کے عزم کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ابوبکر البغدادی کی بہن کی گرفتاری ہماری انسداد دہشت گردی کارروائیوں کی کامیابی کی ایک اور مثال ہے‘۔

فرحتین التون نے داعش کے لیے ایک اور نام استعمال کرتے ہوئے لکھا ’داؤش کے خلاف ہمارے عزم پر شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے ترکی کے خلاف بہت بڑا پراپیگنڈا کیا جارہا ہے‘۔

ان کا کہناتھا کہ ’انسداد دہشت گردی کے خلاف ہماری اور ہمارے شراکت داروں کے ساتھ مضبوط تعاون پر کبھی بھی شک نہیں کیا جا سکتا‘۔

علاوہ ازیں امریکی ٹی وی سی این این نے رپورٹ کیا تھا شدت پسند تنظیم داعش نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ داعش کے ترجمان اور ابوبکر البغدادی کے جانشین سینئر ترین رہنما محمد العدنانی ہلاک ہوچکے ہیں۔

کالعدم تنظیم کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ’48 سالہ ابوبکر البغدادی کی موت کے بعد تنظیم کی قانون ساز اور مشاورتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا‘۔

7 منٹ پر مشتمل آڈیو پیغام میں کہا گیا تھا کہ شیخ ابوبکر البغدادی کی موت کے فوراً بعد داعش کی شوریٰ کونسل طلب کی گئی اور عمائدین نے متوفی کے متبادل پر اتفاق کیا تھا۔

واضح رہے کہ ابوابراہیم الہاشمی القریشی کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں، تاہم ماضی میں متعدد مرتبہ جب ابوبکر البغدادی کے قتل کی اطلاع سامنے آئی تھی تو ان کا ممکنہ جانشین کے طور پر ذکر کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں