Daily Mashriq


وزیر اعظم سکیم کے تحت فیسوں کی عدم ادائیگی سے طلبہ کو مشکلات

وزیر اعظم سکیم کے تحت فیسوں کی عدم ادائیگی سے طلبہ کو مشکلات

ایچ ای سی کی وساطت سے وزیر اعظم کے فنڈ سے دیر' چترال' بونیر' تورغر' ملاکنڈ ڈویژن' فاٹا اور گلگت بلتستان کے ماسٹرز کے طالب علموں کی یونیورسٹی کی تعلیمی فیسوں کی ادائیگی سکیم کے تحت داخلہ لینے والوں کی فیسوں کی عدم ادائیگی کے باعث متعلقہ یونیورسٹیوں کی جانب سے ڈگریوں کے اجراء سے انکار سنگین معاملہ ہے جس سے طلبہ اور ان کے والدین کا مشوش ہونا فطری امر ہے۔ محولہ علاقوں کے طالب علموں نے اس خاص سکیم کے تحت داخلہ کیا تھا جن کے پہلے دو سمسٹرز کی فیسوں کی ادائیگی کے بعد باقی دو سمسٹرز کی فیسوں کی ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے جس کی باعث وہ تعلیم کی تکمیل کے باوجود تلاش روز گار اور حصول روز گار کے قابل نہیں ہوسکے۔ حکومت جہاں ایک طرف نوجوانوں کو روز گار کی فراہمی کے بلند و بانگ دعوے رکھتی ہے وہاں دوسری جانب عالم یہ ہے کہ وعدے کے باوجود ان کی فیسوں کی ادائیگی روک دی گئی ہے جو لوگ سکالر شپ پر بیرون ملک جاتے ہیں ان کے ساتھ بھی اسی قسم کا سلوک ہونے پر یا تو وہ واپسی پر مجبور ہوتے ہیں یا پھر تعلیم کا سلسلہ ترک کرکے باہر ملازمتیں اختیار کرتے ہیں۔ یوں ہر دو صورت میں قومی خزانے سے رقم کا ضیاع ہوتا ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا انجینئر اقبال ظفر جھگڑا کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں وفاق سے رابطہ کرکے طالب علموں کا مسئلہ حل کروائیں تاکہ متعلقہ یونیورسٹیاں ان کو ڈگریاں جاری کریں اور طالب علم حصول روز گار کی دوڑ میں شامل ہوسکیں۔

بل کی منظوری درست مگر مقاصد اور وقت غلط

مسلم لیگ (ن) کایہ دعویٰ اپنی جگہ مبنی حقیقت ہے کہ ان کی جماعت نے آمرانہ دور کی ترمیم ختم کر کے 1973ء کے آئین میں شامل اہلیت کا معیار بحال کر دیا ہے ۔ اصولی طور پر ان کا دعویٰ درست ہے لیکن اس ترمیم کیلئے وقت کا غلط استعمال ان کے دعوے کی سرا سر نفی ہے اور جس عجلت میں بل کی منظوری لی گئی اور صدر مملکت نے اس پر دستخط ثبت کر کے قانون کا درجہ دیا اس عجلت کی وجہ آمریت کی نشانی کو مٹانے کی جلد ی نہیں تھی بلکہ مسلم لیگ کی صدارت کو جلد سے جلد نواز شریف کے حوالے کرناتھا ۔ ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے اس کے حق قانون سازی پر معترض ہونے کی ضرورت نہیں لیکن ان اسباب وعلل کو بھی نظرابداز نہیں کیا جا سکتا جس تناظر میں یہ بل لایا گیا جس مقصد کیلئے اس کی منظوری لی گئی وہ سب پر عیاں ہے ۔ یہی اقدام اگر اچھے دنوں میں ہوتا اور خاص طور پر اس ضمن میں پی پی پی کی مشاورت پر بل کے خاتمے پر اتفاق کیا جاتا تو آج اس کو تنقید کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے اس استفسار میں پورا وزن ہے کہ نواز شریف کیلئے آئینی ترمیم آگئی فاٹا کے عوام کیلئے کیوں نہیں۔ قوم کے بازوئے شمشیرزن قبائل کی فرد واحد کی جتنی بھی وقعت واہمیت نہیں تو پھر اس ملک میں جمہوریت کا راگ الاپنے کی کیا ضرورت ہے ۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیئے کہ وہ راست گوئی اختیار کریں اور عوام کو وقعت دینے کی روش اپنائیں۔ حکومت اور اقتدار کیلئے ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو تضاد کا باعث ہوں اور ظاہر یہ کیا جائے کہ جمہوریت خطرے میں ہے جب تک سیاستدان اور حکمران اپنی اصلاح نہ کریں اور اپنے مفادات پر عوام کے مفادات کو مقدم نہ رکھیں تب تک ملک میں نہ تو جمہوریت کے مستحکم ہونے کی نوعیت آسکتی ہے اور نہ ہی عوام کے مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔

پی ڈی اے بارے قانون سازی

پشاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کو براہ راست وزیر اعلیٰ کے ماتحت کرنے سے اگر اس ادارے کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے اور عوامی مسائل کے حل کی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے تو یہ ایک مستحسن فیصلہ گردانا جائے گا۔ بہر حال وزیراعلیٰ کی براہ راست نگرانی اور خود مختارادارہ ہونے کی بناپر اس اقدام سے پی ڈی اے کی بہتری کی توقع خلاف حقیقت نہیں ۔ پی ڈی اے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی اب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر براہ راست ذمہ داری عائد ہوگی ۔ توقعی کی جا سکتی ہے کہ آمدہ دنوں میں شہر میں تر قیاتی کاموں کی انجام دہی ، پی ڈی اے کے زیر انتظام علاقوں میں صحت و صفائی ،نکاسی آب، سڑکوں کی حالت بہتر بنانے جیسے اقدامات ترجیحی بنیادوں پر ہوتے نظر آئیں گے اور عوام اس فیصلے کے خوشگوار اثرات محسوس کرنے لگیں گے ۔

متعلقہ خبریں