Daily Mashriq


سقوط مشرقی پاکستان سے حاصل ہونے والا سبق

سقوط مشرقی پاکستان سے حاصل ہونے والا سبق

ایک ایسے قانون کے سہارے ن لیگ کادوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد جسے سندھ ہائی کورٹ میں آئین کی روح سے متصادم ہونے کو بنیاد بنا کر چیلنج کیا جا چکا ہے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے جو زبان استعمال کی ہے وہ کسی بھی شائستہ آدمی کے لیے ناقابلِ سماعت ہونی چاہیے۔ میاں نواز شریف کے سامعین اسلام آباد کے کنونشن ہال میں سینکڑوں لوگ تھے جن کے بارے میں کہا گیا کہ یہ ن لیگ کی جنرل کونسل کے ارکان تھے۔ ن لیگ کے چیئرمین راجا ظفر الحق سے پوچھا جا سکتا ہے کہ آیا ان افراد کے ناموں کی فہرست ن لیگ کے دفتر میں ہے؟ راجا صاحب یا ن لیگ کے جنرل سیکرٹری کیا ان کے فہرست پیش نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے عدلیہ سے محاذ آرائی کا رویہ برقرار رکھا ہے جس کا پاکستان کے صائب الرائے لوگوں کو نوٹس لینا چاہیے کہ اداروں کی بے توقیری کے ذریعے وہ ملک کو کس طرف لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہایک بات میاں صاحب بار بار دہرا رہے ہیں کہ سقوط مشرقی پاکستان سے سبق لینا چاہیے۔ وہ اس سبق کے بارے میں اگرچہ کھل کر بات نہیں کرتے تاہم چند دن پہلے انہوں نے کہاتھا کہ (1970ء کے انتخابات کے بعد) عوام کے حق حکمرانی کو تسلیم نہیں کیاگیا جس کی بنا پر سانحہ مشرقی پاکستان برپا ہوگیااور مجھے ڈر ہے کہ کوئی اور حادثہ رونما نہ ہو جائے۔ اس سے یہ ظاہر ہے کہ وہ 1970ء کے عام انتخابات میں عوامی لیگ کی بالادستی کا ذکر کر رہے ہیں ۔ سقوط مشرقی پاکستان سے جو حقیقی سبق حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ حکمرانوں کو سارے ملک کی ترقی کا یکساں بندوبست کرنا چاہیے۔ پسماندہ علاقوں کو کم پسماندہ علاقوں کے برابر لانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ غربت اور محرومی کی اس صورت حال نے مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان بطور خاص پنجابیوں کے لیے ایک نفرت پیدا کی۔ آج بھی اگر ہم پنجاب کے مقابلے میں جھوٹے صوبوں اور جنوبی پنجاب میں ترقیاتی کاموں کاجائزہ لیں تو ہمیں کم و بیش یہی صورت حال نظر آ ئے گی جو آج وسطی پنجاب اور چھوٹے صوبوں کی ترقی کے حوالے سے نظر آتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان ایک ہزار میل بھارتی علاقہ حائل تھاجو مشرقی پاکستان کے احساس عدم تحفظ کو دو چند کرتا تھا۔آج پنجاب اور وفاق میں ن لیگ کی حکومت ہے اسے سقوط مشرقی پاکستان کی طرف لے جانے والی وجوہ کو مدِنظر رکھتے ہوئے ن لیگ کو اپنے کردار پر نظر ڈالنی چاہیے۔ 

لیکن میاں صاحب سقوط مشرقی پاکستان سے حاصل ہونے والے اس سبق کا ذکر نہیں کررہے۔

میاں نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ اگر 1970ء کے انتخابات کے نتیجے میں زیادہ ووٹ لینے والی پارٹی کی بالادستی تسلیم کر لی جاتی تو سقوط مشرقی پاکستان کاسانحہ رونمانہ ہواہوتا۔ آج تقریباًنصف صدی گزر جانے کے بعد ان کی بات نہایت سادہ اورآسان لگتی ہے کہ جمہوریت میں اکثریت کاحق حکمرانی تسلیم کیا جاتا ہے۔ لیکن 1970ء کے انتخابات محض حق حکمرانی کے لیے نہیں تھے بلکہ اس اسمبلی کو ملک کا آئین بھی بنانا تھا۔ جمہوریت میں حق حکمرانی پانچ یا چار سال بعد بدل سکتاہے لیکن آئین آئندہ نسلوں کے لیے بنایا جاتا ہے۔ عوامی لیگ کو 300کے ایوان میں 161ووٹ کی سادہ اکثریت حاصل تھی اور وہ صرف مشرقی پاکستان کی حد تک محدود تھی۔ مغربی پاکستان میں عوامی لیگ کامحض ایک رکن منتخب ہواتھا ۔ عوامی لیگ نے جس چھ نکاتی ایجنڈے پر انتخاب میں فتح حاصل کی تھی ۔ مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں میں ان چھ نکات کو مقبولیت حاصل نہیں تھی۔ مغربی پاکستان میں اکثریتی ووٹ لینے والی پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹوشہید نے ڈھاکہ جا کر عوامی لیگ کے مجیب الرحمان سے مذاکرات کیے اور انہیں پانچ نکات تک تسلیم کرنے کا یقین دلایا لیکن مجیب الرحمان راضی نہ ہوئے بعد کے حالات تاریخ کا حصہ ہیں۔ تو کیا میاں صاحب اس حق میں ہیں کہ عوامی لیگ کے چھ نکاتی ایجنڈے کو باقی چاروں صوبے بھی تسلیم کر لیتے ۔ کیا ا س وقت کی مسلم لیگ نے جس کے واحد امیدوار نورالامین مشرقی پاکستان میں منتخب ہوئے تھے عوامی لیگ کے چھ نکات کو تسلیم کرتی تھی؟ (آج کی ن لیگ اپنے آپ کو قائد اعظم کی آل انڈیا مسلم لیگ کی وارث کہتی ہے) اگر اس وقت مسلم لیگ کو چھ نکاتی ایجنڈا منظور نہ تھا تو آج کی ن لیگ کی جنرل کونسل نے کب چھ نکاتی ایجنڈے کو قبول کرنے کا اعلان کیا۔ اگر ن لیگ مجیب الرحمان کے چھ نکاتی ایجنڈے کو تسلیم کرتی تو کیا آج ن لیگ اس چھ نکاتی ایجنڈے کو پاکستان میں نافذ کرنے کا پروگرام رکھتی ہے۔ اگر اس وقت عوامی لیگ کے چھ نکاتی ایجنڈ ے کو تسلیم کر لیا جاتا تو آج آپ کہاں ہوتے؟

آج میاں صاحب پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی بھٹو شہیدکو پاکستان کاوزیر اعظم کہتے ہیں لیکن یہ بھٹو شہید ہی تھے جنہوں نے مجیب الرحمان کے چھ نکات کو تسلیم نہیں کیاتھا۔ اگر میاں صاحب کو عوامی لیگ کے ووٹوں کی بالادستی اتنی ہی عزیز ہے تو آج بھی ان کے نزدیک بھٹو شہید میاں صاحب کے نزدیک جمہوریت کے مخالف ہونے چاہیں ۔ آج میاں صاحب کو چھ نکاتی ایجنڈے کے حق میں سیاست کرنی چاہیے۔ لیکن وہ سقوط مشرقی پاکستان کے سانحے کی تاریخ کو توڑمروڑ کر اپنی حکمرانی کی حمایت میں دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک صوبے میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کے اکثریتی استبداد کو تسلیم نہیں کیا کہ جمہوریت کا مطلب محض اکثریت کی مطلق العنانی نہیں بلکہ ہرشہری کے حقوق 'اس کی امنگوں' آرزوؤں کا تحفظ ہوتا ہے۔ آج ن لیگ کو جو اکثریتی ووٹ حاصل ہوا ہے وہ میاں صاحب کو سیاہ وسفید کا مالک اور آئین و قانون سے بالاتر نہیں بناتا۔ یہ اکثریت ملک کے آئین و قانون کے تحت کام کرنے کی پابند ہے۔ اس لیے میاں صاحب کو عدالتوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے آئین کے مقتضیات کو سامنے رکھنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں