Daily Mashriq


استاد جی سلام

استاد جی سلام

کبھی آپ نے کسی باغبان کو چمن میں کام کرتے دیکھاہو تو محسو س کیا ہوگا کہ ننھے پودے بہت نازک ہوتے ہیں ۔ ان کی جڑیں بہت باریک ہوتی ہیں ۔ان ننھے پودوں کو بہت خاص اور نرم زمین میں بویا جاتا ہے ۔ کچھ عرصہ بعد یہی ننھے پودے تناور و چھتنار درخت بن جاتے ہیں جو بڑے بڑے طوفانوں اور آندھیوں کا دلیر ی سے مقابلہ کرلیتے ہیں کہ ان کی جڑیں زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں پھیل گئی ہوتی ہیں۔باغبان کا بس یہی کام ہے باقی تو زمین کی مٹی اس پودے کو سب کچھ مہیا کردیتی ہے ۔ مجھے فخر ہے کہ میں پچھلے 23برس سے ایسی ہی ایک باغبانی کے شغل سے وابستہ ہوں کہ میرے ہاتھ کے ننھے پودے زندگی کی فعالیت میں اپنا بھرپور حصہ ڈال رہے ہیں ۔ میں ایک استاد ہوں ۔ قوم کی نرسری کا میں ایک ادنیٰ مالی ہوں ۔ میںزندگی کے حوالے سے سوچتا ہوں تو ایک اطمینان ضرور ہوتا ہے کہ سانس کی کھنچتی اس ڈور کے ساتھ کچھ کرتے ضرور رہے ہیں ۔حرف کے تقدس کو اگلی نسل تک پہنچانا کیا کم ہے ۔میرا یہ دعویٰ ہے کہ حرف میں اللہ نے ایٹم جتنی طاقت رکھی ہے ۔اگر استادحرف کے ہنر سے آشنا ہوجائے تو پوری پوری نسلوں کی تقدیر بدل جائے ۔اور استاد اگر باعمل ہوجائے تو کیا کہنے ۔نبی کریم ۖ پر میری جان اور میری آل قربان کہ حضرت باعمل استاد ہی تو تھے کہ دنیا کا سب سے عظیم انقلاب لے آئے ۔جہالت کو صحابیت میں بدل کر زندگی کا ڈھنگ ہی بدل ڈالا ۔ کتاب تو حروف کا مجموعہ ہے استاد کتاب کے حرفوں کو روح عطا کردیتا ہے ۔نبی پاک ۖ نے قرآن کو اپنی سیرت پر طاری کیا اور سادہ اندا ز میں سکھلا دیا جو سکھانا چاہتے تھے ۔ ہم جیسے عاصی تو اس ذات باصفات کی ادنیٰ سی تقلید بھی نہیں کرسکتے لیکن اتنا تو کرہی سکتے ہیں سامنے بیٹھے بچوں کو اپنا بیٹا بیٹی ہی سمجھ لیں بس پھر ساری منزلیں آسان ہوجاتی ہیں ۔ آج ہی کے دن ہر سال 5اکتوبر کودنیا بھر میںتکریم استاد کا دن منایا جاتاہے ۔استاد کسی بھی سماج کا سب سے اہم عنصر کہ جس کے بغیر کوئی سماج ترقی کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ یہ استاد ہی ہوتا ہے کہ جو کچے ذہنوں کی آبیاری کرتا ہے ۔ جدید دنیا میں استاد کی تکریم کو نہ صرف سمجھا گیا بلکہ انہیں ایک ممتاز سٹیٹس بھی عطا کردیا گیا ہے ۔مشہور ڈرامہ نگار ، افسانہ نگار اور صوفی شخصیت اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ ''روم (اٹلی )میں میرا چالان ہوا۔مصروفیت کے باعث چالان کی فیس ٹائم پرادا نہ کرسکا۔کورٹ جاناپڑاجج کے سامنے پیش ہونا پڑا۔اس نے وجہ پوچھی۔میں نے کہاکہ ،پروفیسر ہو ں۔مصروف ایسا رہاکہ وقت ہی نہ ملا۔اس سے پہلے کہ میں بات پوری کرتا۔جج نے کہا "A Teacher in the Court"اور سب لوگ کھڑے ہوگئے ،جج نے مجھ سے معذرت کی اورچالان کینسل کردیا گیا۔اس روز میں اس قوم کی ترقی کا راز جان گیا''یہ بات ہمارے سماج میں شاید عجیب سی لگے کیونکہ ہمارے ہاں وی آئی پی کلچر ہماری ذہنیتوں میں اتنا سرایت کرچکا ہے کہ کچھ خواص ہی قابل قدر و احترام سمجھے جاتے ہیں اور جو قابل قدر ہونے چاہئیں انہیں وہ تکریم نہیں ملتی ۔ ہم چونکہ ایک غلیظ قسم کے مادہ پرست معاشرے میں رہتے ہیں کہ جہاں جھوٹ ، اقرباپروری ، کرپشن ، ظلم ، جبر واستحصال کی روانی و فراوانی ہے ۔ ایسے سماج میں عزت کے معیار تبدیل ہوجاتے ہیں ۔ بڑی گاڑی ، بڑا اثر ورسوخ ، سیاسی طاقت ، بڑا عہدہ ہی قابل احترام سمجھا جاتا ہے چاہے وہ سب ظلم و زیادتی اور چوری سے ہی کیوں نہ کمایا گیا ہو۔ کمال کی بات ہے کہ اس سسٹم کو پروموٹ کرنے والے ہم مڈل کلاس ہی ہیں اور سب سے زیادہ متاثر بھی ہم ہی ہوتے ہیں ۔ آپ کسی شادی کسی غمی میں بیٹھے ہوں اور کوئی وی آئی پی اپنی پراڈو میں اترے تو سب بڑے چھوٹے اس سے ہاتھ ملانا قابل فخر سمجھیں گے لیکن اسی وقت کوئی عالم فاضل شخص وہاں اپنی سائیکل یا موٹر سائیکل پر آجاتے تو دو ایک لوگ بادل نخواستہ اس سے مصافحہ کریں گے ۔ یہ ٹیسٹ ہے ہمارے سماج کا تو استاد کواس کی حقیقی تکریم نہ ملنے کا گلہ کیوں کیا جائے ۔ اب یہ تو اس استاد کی مرضی تھی کہ وہ استاد بنا سو جو عزت ملے اسی پر قناعت کرلے ۔ ہمارے ہاں وہ مراعات بھی نہیں جو باہر کے سماج میں استاد کو ملتی ہیں بس '' استاد جی سلام'' ہی ایک اضافی یا بونس لگژری ہے کہ جس پر استاد خوش ہوجاتا ہے ۔مگر یہاں تو دو جماعت پاس سیاسی نمائندہ اپنے اخباری بیان میں کہتا ہے کہ ''استاد اپنا قبلہ درست کرلیں ''یا ''استادوںکاقبلہ درست کرنا ہمیں آتا ہے ''اب جس سماج میں ایک نیم خواندہ شخص کہ جسے اور کچھ نہ ملا تو سیاست دان بن گیا وہ ایک پڑھے لکھے طبقے کے قبلے کو مشکوک سمجھے تو وہاں کسی سلام ٹیچر ڈے کی مناسبت سے کوئی اچھی بات کیسے سنی جاسکتی ہے ۔کوئی اسی سے پوچھے کہ تنخواہ تو ہر ملازم لے لیتا ہے مگر استاد کو تو معمار قوم کہا جاتا ہے اسے بس تنخوا ہ ہی دینی ہے یا اس کے کام کی نسبت کچھ اور مراعات بھی دینی ہیں ۔چلو مراعات بھی نہ دو مگر قبلہ درست کرنے والی بات کرکے ان کا دل تو نہ دکھاؤ۔ورنہ جتنی تنخوا ان کو دی جاتی ہے اتنے پیسے تو چھولے کلول کی ریڑھی لگا کر بھی کمائے جاسکتے ہیں ۔سلام ٹیچر ڈے کی مناسبت سے بات یاد آئی کہ سابق وزیر اعظم شوکت عزیزنے یونیورسٹی اور کالج اساتذہ کے لیے اپ گریڈیشن کا اعلان کیا تھا ۔ یونیورسٹی کے استاد کو یہ انعام مل گیا لیکن کالج والے شہداء پیکج کی طرح اب تک اس اعزاز سے محروم ہیں ۔ ہم نے یاد دلادیا یہ ہمارا فرض تھا ۔آج بہت سے شاگرد مجھے ایس ایم ایس کریں گے اور کہیں گے ''سلام استاد جی '' بلاشبہ اس سے بڑا دن میرے لیے نہیں ہوتا۔۔

متعلقہ خبریں