Daily Mashriq


سقوط ڈھاکہ کی باز گشت اور نواز شریف کی تنبیہہ

سقوط ڈھاکہ کی باز گشت اور نواز شریف کی تنبیہہ

پشتو کے ایک محاورے کے مطابق سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے چوتھی بار پاکستان مسلم لیگ (ن) کا بلا مقابلہ صدر منتخب ہونے کے بعد جو خطاب کیا اس کا مقصد بیٹی کہتی تم سے ہوں ، بہو سنو تم کے علاوہ بھلا کیا ہو سکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ ڈکٹیٹر کی آئین شکنی کو جائز قرار دے کر وفاداری کے حلف اٹھائے گئے ، آئین کی خلاف ورزی کرنے والے صادق بھی رہے ، امین بھی ، میاں صاحب نے متنبہ کیا کہ چال نہ بدلی تو پاکستان معاف نہیں کرے گا ، انہوں نے ایک اور اہم نکتہ بھی اٹھایا کہ ہم نے سقوط ڈھاکہ سے کچھ نہیں سیکھا ، حاکمیت عوام کی امانت ہے اس میں خیانت بند کی جائے ،بظاہر تو ا نہوں نے لیگ (ن) کے جنرل کونسل کے ارکان کو مخاطب کیا تاہم وہ اپنے الفاظ کے اندر چھپے ہوئے طنز و تشنیع کے زہر یلے تیروں سے کسی اور کو چھلنی کرنے پر تلے ہوئے تھے ، ان کے الفاظ ''ڈکٹیٹر کی آئین شکنی کو جائز قرار دے کر وفاداری کے حلف اٹھانے، آئین کی خلاف ورزی کرنے والے صادق بھی رہے اور امین بھی '' سے جو پیغام وہ جہاں تک پہنچا نا چاہتے تھے وہ یقینا بڑی صراحت سے وہاں پہنچ چکا ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ میاں صاحب ایک بار پھر لیگ (ن) کا صدر منتخب ہونے کے بعد پوری تیاری کے ساتھ لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اتر آیا ہے ، اگر چہ ابھی کھیل ختم نہیں ہوا ، کیونکہ قانون سازی کے جس عمل سے حکومت نے میاں نواز شریف کیلئے ایک بار پھر لیگ (ن) کی سربراہی حاصل کرنے کی راہ ہموار کی ہے ، اس پر مخالف سیاسی جماعتیں سخت اعتراض کررہی ہیں اور بعض نے تو اس بل کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے ، حالانکہ یہ صورتحال تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تووالی ہی لگتی ہے ، کیونکہ کسی بھی سیاسی جماعت کو اپنے اندرونی معاملات سے عہد ہ بر آہونے کا پورا پورا حق ہے ، اور لیگ (ن) نے میاں نواز شریف کو ایک بار پھر صدارت کے عہدے کیلئے منتخب کر کے کسی دوسری سیاسی جماعت کے استحقاق کو مجروح نہیں کیا ، جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے اندر بھی جس طرح کے انٹرا پارٹی انتخابات منعقد ہوئے ہیں ان کی حقیقت بھی پوری قوم پر عیاں ہے ، البتہ صرف ایک نکتہ ایسا ہے جس کی بنیاد پر اس سارے عمل کی مخالفت کی جا سکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ عدالتی فیصلے کے نتیجے میں نااہلی کے بعد اگر لیگ (ن) میاں نواز شریف کے بجائے کسی اور کو صدر منتخب کر دیتی تو ملک میں خاندانی اور وراثتی سیاست سے گلو خلاصی کی ابتداء ضرور ہو جاتی ، لیکن اس بات کا خدشہ بھی بہر حال موجود تھا کہ اس طرح لیگ (ن) بھی ماضی کی مسلم لیگ کی طرح تتر بتر ہو کر ٹکڑوں میں بٹ جاتی ۔ بہر حال اگر اس بل کو عدالت میں چیلنج کرنے کے نتیجے میں عدلیہ اسے آئین سے متصادم قرار دے کر اسے رد کردیتی ہے تو یہ ساراعمل رول بیک ہونے کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔ بہر حال ابھی تو حکومت نے سینیٹ اور بعد میں قومی اسمبلی سے بل منظور کروا کر میاں صاحب کو ایک بار پھر لیگ (ن)کا سربراہ بنوانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے ۔ بعد میں کیا ہوتا ہے اس کیلئے بقول مرزا غالب انتظارساغر کھینچ۔ 

نفس نہ انجمن آرزو سے باہر کھینچ

اگر شراب نہیں انتظار ساغر کھینچ

اب آتے ہیں ایک نہایت ہی اہم نکتے کی جانب اور وہ ہے موجودہ حالات تک پہنچنے کے تناظر میں سقوط ڈھاکہ سے بقول(میاں صاحب ہم نے کچھ نہیں سیکھا ، سقوط ڈھاکہ سے سبق نہ سیکھنے کی بات نئی نہیں بلکہ سیاسی اور صحافتی حلقے ایک عرصے سے یعنی اس سانحے کے بعد ہر ایسے موقع پر جب ہمیں سقوط ڈھاکہ یا د آجاتا ہے یہی کہتے رہتے ہیں جو میاں نواز شریف نے گزشتہ روز اپنے خطاب میں کہا ہے ، تاہم بد قسمتی سے اس سوال کا جواب کہیں سے بھی نہیں آتا ، نہ تو سیاسی حلقے اس پر غور کرنے کیلئے تیار ہیں ، نہ ہی دیگر ادارے ، اور اس کی وجوہات اگر چہ بہت زیادہ ہیں جن پر کئی لوگوں نے خامہ فرسائی کی بھی ہے اور آئندہ بھی کی جاتی رہے گی تاہم کسی بھی مسئلے کا درست حل اور اس سے عہدہ بر آہونے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے مسئلے کے حقیقی عوامل کا پتہ چلایاجائے ، جبکہ ملک دولخت ہونے کے بعد جب اس وقت کے صدر ذوالفقارعلی بھٹونے (جو بعد میں وزیر اعظم بنے ) وجوہات جاننے کیلئے محمودالرحمن کمیشن قائم کیا تو کمیشن کو تحقیقات کیلئے محدود اختیارات دیئے اور کمیشن کو پابند کیا کہ وہ سقوط ڈھاکہ کی صرف عسکری وجوہات کو تلاش کرے ، حالانکہ اصولی طور پر اس سانحے کے تمام پہلوئوں بشمول سیاسی ، اقتصادی ، سماجی وجوہات کو زیر بحث لا کر حقائق جاننا چاہتے تھے ، جبکہ بھٹو نے کمیشن کے ہاتھ پیر باندھ کر ایک نہایت ہی محدود پیمانے پر تحقیقات کرنے پر مجبور صر ف اس لئے کیا کہ اس طرح اس دور کے سیاسی رہنمائوں کے بھیانک کردار کی بھی نشاندہی ہو جاتی ، اس کے باوجود کمیشن نے جو حقائق تلاش کرنے کی تگ ودو کی ان میں سیاسی وجوہات پر نہایت محدود پیمانے پر جو روشنی پڑتی ہے ان سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا تھا اور ان کو ریکارڈ پر لانا ناگزیر تھا ، مگر جب محولہ سیاسی حلقوں کے سیاہ کارنامے کسی نہ کسی حدتک ہی سہی سامنے آگئے تھے تو خود بھٹو حکومت نے کمیشن کی رپورٹ کو عوام کے سامنے لانے کی اجازت نہیں دی اور بعد میں اس رپورٹ کے غائب ہونے کی خبریں آئیں ۔ جبکہ ایک عرصے بعد بھارت کے ایک اخبارنے اسے شائع کر کے اس کی حقیقت واضح کی ، جو ایک لمحہ فکریہ ہے ، اس رپورٹ کو محدود کرنے کا مقصد عسکری اداروں پر سارا ملبہ گرانے کی جو کوشش کی گئی وہ بھی ملک وقوم کے مفاد میں نہیں تھے ، بہرحال میاں نواز شریف کی یہ بات بہت حد تک درست ہے کہ ہمیں قومی سانحوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے جو ہم نہیں سیکھتے ۔

متعلقہ خبریں