Daily Mashriq


چلتے ہو تو چین کو چلیئے

چلتے ہو تو چین کو چلیئے

ہم نے بہت عرصہ پہلے ایک کتاب پڑھی تھی چلتے ہو تو چین کو چلئیے اس میں چین کے حوالے سے مزے مزے کی باتیںتھیں اگر پاکستانی وفد کے کسی رکن سے ہوٹل کے کمرے میں بلیڈ بھی رہ جاتا تو اگلے دن وہ بلیڈ بذریعہ ڈاک ان تک پہنچا دیا جاتا۔ عمارت کی تعمیر میں اتوار کے دن ڈاکٹر پروفیسر مل کر حصہ لیتے عام مزدوروں کی طرح سخت محنت کرتے ہم نے وہ باتیں پڑھ کر دل خوش کر لیا تھا کیونکہ ہم جانتے ہیں جو لاہور سے آگے کبھی نہیں گیا وہ چین کیاجائے گا۔ اب بھی جب کوئی دوست دیار غیر کی یاترا کرکے واپس آتا ہے تو ہم بڑے خشو ع و خضوع سے اس سے نہ صرف ملاقات کرتے ہیں بلکہ اس پر سوالات کی بوچھاڑ بھی کردیتے ہیں اگر ہم نہیں جاسکتے تو کیا ہوا گھر بیٹھے معلومات حاصل کرنے پر تو کوئی پابندی نہیں ہے! دو چار دن پہلے ہمارے بہت ہی پیارے دل کے قریب مہربان ڈاکٹر فریداللہ اور ڈاکٹر روح الامین چین سے واپس لوٹے تو ہم نے اپنے ذوق تجسس کی تسکین کے لیے ان سے ملاقات کا ڈول ڈالا۔ ڈاکٹر صاحبان نے چین کی یونیورسٹیوں کے حوالے سے بڑی مفید باتیں بتائیں ان کے نظام تعلیم ، نظم و ضبط ، محنت ،تعلیم سے سچی محبت پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چین کی مشہور و معروف یونیورسٹیاں دنیا میں top fifties میں تو ہیں لیکن اب وہ رات دن اس کوشش میں ہیں کہ top ten میں اپنی جگہ بنالیں !پروفیسر حضرات کی تنخواہیں بھی زبردست ہیں لیکن ساتھ ہی وہ ٹارگٹ بھی دیتے ہیںوہاں کارکردگی دیکھی جاتی ہے ان کازیادہ زور مٹیریل سائنسز پر ہے سوشل سائنسز پر فی الحال ان کی توجہ کم ہے۔ بھارتی شہریوں کے مقابلے میں پاکستانی شہریوں کو ترجیح دیتے ہیں ہمیں اپنا دوست سمجھتے ہیں!ہم نے درمیان میں دخل در معقولات کرتے ہوئے ان سے درخواست کی کہ جناب یہ پڑھے لکھے لوگوں کی باتیں ہیں پڑھے لکھے لوگوں کی رسائی اس قسم کی تعلیمی معلومات تک ہوتی ہے ہمارے کالم تو دکاندار بھی پڑھتے ہیں ان میں درج باتیں تو زیادہ ترحجام، نانبائی کی دکان اور جنرل سٹوروں پر زیر بحث آتی ہیںہمیں ایسی باتیں بتائیں جن کا تعلق چین کی عام زندگی سے ہو ہمیں عام آدمی کے رویے کے حوالے سے بتائیں وہاں لوگ کس قسم کی زندگی گزارتے ہیں ان کی عادات کیا ہیں اور چین کے کلچر کے بارے میں بتائیے؟تاکہ ہماری موٹی عقل میں بھی کچھ اضافہ ہو ہم بھی اپنے مہربان پڑوسی سے کچھ سیکھ سکیںہم پاک چین دوستی کے نعرے تو بہت لگاتے ہیںاس پر کچھ عمل بھی ہونا چاہیے اس دوستی سے ہمیں کچھ فائدہ بھی اٹھاناچاہیے! صاحبو! ڈاکٹر صاحبان کی باتیں سن کر ہم حیران و پریشان رہ گئے لوگ بڑے شائستہ اور ملنسار ہیں لڑائی جھگڑا نہ ہونے کے برابر ہے ٹریفک کا نظام شاندار ہے کوئی ٹریفک کے قوانین توڑنے کے بارے میں سوچتا بھی نہیں بڑے شہروں کی بات اور ہے لیکن ہم نے آپریشنل یا ٹریفک پولیس کہیں نہیں دیکھی کینٹ ایریا میں بھی فوجی نظر نہیں آتا دکانوں پر سیلزمین نہیں ہیں وہاں یہ فرائض خواتین سرانجام دیتی ہیںچین کی حکومت ورکنگ ویزا غیر ملکیوں کو نہیں دیتی وہ چونکہ افرادی قوت میں خودکفیل ہیں اس لیے انہوں نے اپنے سارے کام خود سنبھال رکھے ہیں وہ خود انتھک محنت کرنے کے عادی ہیںچین کے بازاروں میں تجاوزات کا تصور بھی محال ہے وہ ایک انچ زمین بھی بے کار نہیں چھوڑتے ہائی وے پر تیار درخت ایک گھنٹے میں لگادیتے ہیں وہ درخت آہستہ آہستہ زمین میں اپنی جڑیں مضبوط کرلیتے ہیںہم نے وہاں کسی دفتر میں نائب قاصد نہیں دیکھا ہمارے دفاتر میں تو دن بھر چپراسی چائے قہوے کے لیے دوڑتے بھاگتے نظر آتے ہیں یہاں کام پر توجہ کم اور مہمان پر زیادہ ہوتی ہے چاہے دفتر کا کام رکا رہے! وہاں مہمان کے لیے چائے کا روگ نہیں پالا جاتا ساری توجہ کام پر ہے چین میں پرائیویٹ کلینک نہ ہونے کے برابر ہیں مریضوں کی تعداد بہت کم ہے اس کی سب سے بڑی وجہ ان کا لائف سٹائل ہے کم کھاتے ہیں ٹھنڈا پانی نہیں پیتے وہاں کا سب سے زیادہ مقبول مشروب گرم پانی ہے(ہم کولڈ ڈرنک پر جان دیتے ہیںجس کی وجہ سے طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں)رات کو جلدی سوتے ہیں اور صبح سویرے اٹھنے کے عادی ہیںہر جگہ قطار بنانے کے عادی ہیں بڑے صبر و تحمل سے اپنی باری کا انتظار کرتے ہیںاشیاء کی قیمتیں درج ہیں ہماری طرح خرید و فروخت کرتے وقت مول تول بھائو تائو نہیں ہوتا بس ہر جگہ ایک بات ایک دام کا اصول قائم ہے صبح سویرے مارکیٹیں کھل جاتی ہیں اور ساڑھے چھ بجے شام بند ہوجاتی ہیںوہ اس طرح اپنی توانائی بچاتے ہیں سارے کام سورج کی روشنی میں کرتے ہیں (کیا بات ہے ہماری ! بڑے بڑے شہروں کے بازار ساری ساری رات آباد رہتے ہیں توانائی کا ایسا زیاں کہیں دیکھنے میں نہیں آتا اور پھر اوپر سے لوڈ شیڈنگ کی برکات ! واہ جی واہ ! لگے رہو منا بھائی !) دفاتر میں بھرتیاں میرٹ پر ہوتی ہیں ۔وہ باتیں کرتے رہے اور ہم سنتے رہے ہمارے پاس کہنے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔

متعلقہ خبریں