Daily Mashriq


انتخابی بل اور ختم نبوت

انتخابی بل اور ختم نبوت

جب سے مولانامُفتی محمود ،مولانا مو دودی دوسرے علمائے کرام اور ملک کے پہلے مُنتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی کا وشوں سے قادیانیوں کو غیر مُسلم قرار دینے کا اعلان کیا گیا تھا اُس وقت سے پو ری دنیا اور پاکستان کے قادیانی اس کو شش میںہیں کہ قادیانیوں سے متعلق جو قانون ذوالفقارعلی بھٹو کے دور میں منظور ہوا ہے اس کو کسی طریقے سے ختم کیا جائے تاکہ ایک دفعہ پھر وطن عزیز میں قادیانی پو رے زور کے ساتھ اسلام کی شکل میں اپنی مکروہ سر گر میوں کو دوبارہ جا ری رکھ سکیں۔اگر ہم حالات اور واقعات کا مطالعہ کریں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پو ری دنیا میں اسلام ٢٢ فی صد شرح سے انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے جبکہ دنیا میں دوسرے مذاہب جس میں بُدھ مت، ہندو ازم، یہو دیت اور عیسا ئیت شامل ہیں اسلام کے مقابلے میں گھٹ رہے ہیں۔ یو رپ اور دوسرے مغربی ممالک کے مختلف شعبوں سے وابستہ افراد تیزی سے حلقہ بگوش اسلام ہو رہے ہیں۔وہ عیسائیوں ، ہندئوں ، یہودیوں کو اسلام قبول کرنے سے نہ توروک سکتے ہیں اور نہ کم کر سکتے ہیںکیونکہ اسلام ایک ایسا عالمگیر استد لالی ، شعوری اور عقلی دین ہے کہ ساڑھے چودہ سو سال بعد بھی ، جبکہ سائنس اور ٹیکنالوجی انتہائی عروج پر ہے اس دور میں بھی کوئی قُر آن مجید فُرقان حمید کے ایک نُقطے کو نہ تو نعوذ باللہ غلط ثا بت کر سکا اور نہ اس میں اسے خامی نظر آئی بلکہ جوں جوں سائنس ٹیکنالوجی اور عصری علوم ترقی کرتے جارہے ہیں اسلام مزیدپھیلتا جارہا ہے۔ کیونکہ کئی چیزیں اسلام میں مو جو د ہیں مگر ہمارے ہاں سائنس اور ٹیکنالوجی کا معیار اور سٹینڈرڈ اس مقام تک نہیں پہنچا جو ان کو عقل اور استدلال کے پیمانے سے ماپ سکیںاور یہی وجہ ہے کہ اسلام کی مقبولیت ، اس کے عقلی اور استد لالی انداز سے یہودی ، ہندو ، عیسائی ، بُدھ مت کے پیروکار پریشان ہیںاور وہ قادیانیت کی شکل میں اسلام کا حلیہ بگا ڑنے کے لئے جو سازش کر رہے ہیںوہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔وہ قادیانی یا احمدی کی شکل میں ایک ایسا فتنہ برپا کرنا چاہتے ہیں کہ مختلف مذاہب کے لوگ جو اسلام کو قبول کرنا چاہتے ہیں وہ اسلام کے بجائے قادیانیت میں داخل ہوں۔لہٰذا قادیانیت کو اسلام کی شکل میں پیش کرکے اسلام میں دا خل ہونے والوں کو اسلام کی شکل میں قادیانیت میں داخل کیا جاتا ہے۔اگر ہم مزید مطالعہ کریں تو یہودی، عیسائی، قادیانی مسلمانوں کے حب رسول ۖ اور مسلمانوں کے جذبہ جہاد سے بہت پریشان ہیں اور قادیانیت کی پہلی سیڑھی حُب رسول ۖ اور جہاد فی سبیل اللہ کو مسلمانوں کے دلوں سے ختم کرنا ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سارے قانون سازوں، ماسوائے جماعت اسلامی ، جمعیت علماء اسلام (س) عوامی مسلم لیگ کے علاوہ تقریباً ساری سیاسی پا رٹیوں جس کی قیا دت مسلم لیگ کر رہا ہے اُنہوں نے قومی ، صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کے عہدوں کے لئے تقریباً ختم کر دی۔ پاکستان مسلم لیگ کی حکومت نے جو نیا بل منظور کیا ہے اسی میں بہت تبدیلی کی گئی ہے۔ اس مقصد کیلئے پرانا پروفارما ملا حظہ کریں۔

The Candidate Solmnly Swear that i belive in the absolute and unqualified finality of the prophethood of Muhammad (PBUH) the last of the prophets that I am not in the follower of any who close to be a prophet.

اب جو ترامیم کی گئی ہیں اس کی انگریزی ملاحظہ ہو۔

I.. (nominated candidate) here by declare that I have contested to the nomination and that I fullfill the qualification specified in article 62 of the constitution and I am not subject to any of the disqualification specified in the article 63 of the constitution for being elected as a member of the National assembly, senate and provincial assembly.

یہاں ملا حظہ ہو

believe in the absolute unqualified finality of the prophethood of Muhammad (PBUH) the last of the prophet that I am not the follower of any one who claims to be prophet in any sense of the word.

اگر ہم مندرجہ بالا دونوں شقوں پر نظر ڈالیں شق تو مو جود ہے مگر نئی ترمیم میں حلف( یعنی قسم کھاکر جو اقرار کیا گیا ہے)اس کو ختم کیا گیا ہے کیونکہ اگر قسم کھاکر حلفیہ بیان دیں اور بعد میں اس حلف کیخلاف کیاجائے تو بندہ نا اہل ہوجاتاہے اور سزا ہو سکتی ہے مگر موجودہ سادہ ترمیمی بیان کی حیثیت نہیں، نہ ہی سادہ بیان پر کوئی سزا ہو سکتی ہے۔ اسلئے عدالتوں میں گواہوں سے سادہ بیان نہیں بلکہ حلفیہ یا قسم لی جاتی ہے۔حالیہ ترمیم کا مقصد قا دیانیوں کو خوش کرنا اور ان کو امور مملکت میں کلیدی عہدے دلانا اور ان کے ذریعے اپنی بادشاہت بچانا ہے۔ اس ترمیم کو سادہ نہ سمجھا جائے بلکہ یہ ایک بہت بڑی چال ہے۔

متعلقہ خبریں