Daily Mashriq


تعلیمی اصلاحات، بھاری پتھر

تعلیمی اصلاحات، بھاری پتھر

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مذہبی مدارس کے تعلیمی نظام کو قومی دھارے میں لانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ حکومت طبقاتی تعلیمی نظام کا خاتمہ چاہتی ہے اور مدارس کیساتھ ساتھ دیگر تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف تعلیمی نظام قوم میں تقسیم کا باعث ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے، زندگی کے تمام شعبہ جات میں مدارس کے طلبہ کی شمولیت بھی ضروری ہے اور اس سلسلے میں مدارس کو قومی دھارے میں لانا لازم وملزوم ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ مدارس کی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا جبکہ تمام مذہبی اداروں کو دہشتگردی سے منسلک کرنا ناانصافی ہے، انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ تعلیم کے حوالے سے مدارس کو درپیش مشکلات کو خوش اسلوبی سے حل کیا جائے گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مدارس کے بچوں کا بھی پورا حق ہے کہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھ سکیں، شعبہ تعلیم میں اصلاحات کا بنیادی مقصد تفریق کا خاتمہ اور مدارس کے بچوں کو اوپر لانا ہے، مدارس کو درپیش تمام مسائل باہمی مشاورت سے حل کریں گے۔ اگرچہ وزیراعظم نے مختلف مکتبۂ فکر کے جید علمائے کرام سے ملاقات کر کے ملکی سطح پر یکساں نظام تعلیم رائج کرنے اور مدارس کو بھی اس میں شامل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اس پر اگر اس اجلاس میں موجود تمام علمائے کرام اتفاق بھی کرلیں تب بھی ایسے مسائل موجود ہیں جن کے ہوتے ہوئے یہ بھاری پتھر اُٹھانا ممکن نہ ہوگا۔ جہاں تک معروضی صورتحال کا تعلق ہے عصری تعلیم کے امتیازی اور مختلف مدارس تعلیمی نظام کو ایک طرف رکھ کر اگر دینی مدارس ہی کے معاملات کاجائزہ لیا جائے تو صرف نقطۂ نظر کا اختلاف نہیں بلکہ ایسے سنجیدہ اختلافات موجود ہیں جن پر اتفاق رائے کی کوئی صورت ممکن نظر نہیں آتی۔ اسلئے یہ معاملات برسوں کے ہیں جن پر بات کرنے اور ان میں یکسانیت لانے کو کوئی تیار ہی نہیں ہوتا۔ جو علمائے کرام وزیراعظم کی مجلس میں تشریف فرما تھے وہ علمائے کرام زیادہ سے زیادہ اختلافی امور سے صرف نظر کر کے ہر فریق کو اپنی راہ چلنے کا موقع تو دے سکتے ہیں اس سے زیادہ پر ان کی آمادگی کا امکان ہی نہیں۔ وزیراعظم عمران خان اور وزیر تعلیم کو اگر اس کا ادراک ہوتا تو اس رسمی ملاقات کے موقع پر اس موضوع کا بھی تذکرہ ملتا۔ اس موقع پر علمائے کرام نے کیا تجاویز دیں اور ان کا اس بارے مؤقف کیا تھا وہ سامنے آتا تو صورتحال خودبخود واضح ہوتی۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک رسمی ملاقات نشستن وگفتند وبرخواستند ہی تھی جس میں وزیراعظم کے اظہار خیال ہی کو سامنے لانے پر اکتفا کیا گیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے معاملات صرف مدارس میں تعلیم ہی سے نہیں جڑے ہوتے بلکہ بین الاقوامی سطح سے لیکر ملکی سیاست اور معاشرے تک پر یہ معاملات محیط ہوتے ہیں جس کیلئے اسی سطح پر ہوم ورک کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بغیر اس طرح کے معاملات ایک اجلاس کی کارروائی سے آگے نہیں بڑھتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس حکومت کے اقتدار سنبھالے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں اور ملک کے عوام تحریک انصاف کے ابتدائی سو دنوں کے ان خوابوں کی تعبیر کے منتظر ہیں جس کا ان سے نیند کی نہیں بلکہ بیداری اور شعور کی حالت میں وعدہ کیا گیا تھا۔ ہمارے تئیں مناسب یہ ہوگا کہ موجودہ حکومت پہلے عوامی مسائل میں کمی لانے کیلئے اقدامات پر توجہ دے اس کے بعد اس قسم کے معاملات سنوارنے پر توجہ دے۔ جہاں تک پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم کا سوال ہے ایسا اس وقت ہی ممکن ہوگا جب مدارس سے لیکر عصری تعلیم کے تمام اداروں کا انتظام حکومت خود سنبھال لے اور ریاست کے زیراہتمام دینی وعصری علوم کی تعلیم کا اہتمام کیا جائے۔ شعبہ تعلیم میں اصلاحات کا مقصد تفریق کا خاتمہ اور مدارس کے طالب علموں کو عصری علوم کے طلبہ کے برابر لانا اچھی سوچ کے زمرے میں ضرور آتا ہے لیکن یہ قابل غور نہیں دینی علوم مختلف فقوں پر مشتمل ہے جبکہ عصری علوم کے مختلف تعلیمی ادارے اور نظام ہیں۔ اس میں حکومت کیلئے اصلاحات ناممکن تو نہیں لیکن رائج نظام اس سکت کا حامل نہیں کہ وہ سرکاری تعلیمی اداروں، گلی محلوں کے سکولوں، اس کے بعد دو مدارج نیم اوسط اور اعلیٰ اوسط سکولوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں اور غیر ملکی نظام سے منسلک تعلیمی اداروں کو ایک ہی طرز تعلیم اختیار کرنے کا پابند بنا سکے۔ اس کی ایک محدود جھلک خیبر پختونخوا میں سرکاری ملازمین اور سرکاری اساتذہ کے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں لانے کے عمل میں بخوبی سامنے آئے گی۔ حکومت کو اگر اس حد تک کامیابی ہوئی ہے تو یہ ایک سنجیدہ پیشرفت متصور ہوگی۔ اس تجربے کی کامیابی کے بعد تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کی جو کامیاب صورت نکل آئے اس راہ پر چلنے سے مزید اصلاحات کا دروازہ کھلے گا۔ بہرحال دینی مدارس میں اصلاحات گزشتہ حکومتوں کا بھی ایجنڈا رہا ہے اور خود تحریک انصاف کی صوبائی حکومت بھی باربار اس کا عندیہ دیتی رہی ہے مگر اس ضمن میں درپیش پیچیدگیاں ہر بار اور ہر حکومت کیلئے مزاحم رہی ہیں۔ اس مرتبہ بھی اسی طرح کی صورتحال ہی متوقع ہے۔

متعلقہ خبریں