Daily Mashriq


بجلی چوری کی روک تھام یوں نہیں یوں

بجلی چوری کی روک تھام یوں نہیں یوں

پاکستان کے ایوان بالا کی سٹینڈنگ کمیٹی نے ملک بھر میں بجلی کی چوری روکنے کیلئے علمائے کرام کی مدد لینے اور ان مساجد کو چار سو یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کی تجویز دی ہے جن کے آئمہ کرام بجلی چوری کیخلاف فتویٰ جاری کریں گے۔ اس بارے دوسری رائے نہیں کہ پاکستانی معاشرے میں مساجد اور علمائے کرام کا ہمیشہ سے اہم کردار رہا ہے اور جو بات منبر پر کی جاتی ہے لوگ اسے نہ صرف غور سے سنتے ہیں بلکہ کچھ لوگ ان پر عمل بھی کرتے ہیں۔ یقینا دیگر چوریوں کی طرح بجلی کا بل ادا نہ کرنا یا غیرقانونی طریقے سے کنکشن لینا بھی ایک چوری ہے اور جس طرح اسلام میں چور کی سزا ہے وہی سزا بجلی چور کی بھی ہے۔ لیکن کمیٹی کی طرف سے چار سو یونٹ مفت بجلی دینے کی جو تجویز دی گئی ہے اس سے لالچ یا رشوت کی بو آتی ہے لہٰذا اس طرح نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس سے لوگ علمائے کرام پر بھی سوالات اُٹھائیں گے۔ مساجد کو مفت بجلی کی فراہمی کا حکومت فیصلہ کرتی ہے تو یہ نہایت احسن ہوگا اور ایسا ہونا بھی چاہئے مگر جہاں مساجد کے بلوں میں ٹی وی فیس کی بھی وصولی ہو رہی ہو وہاں مساجد کو مفت بجلی کی فراہمی کی تجویز یا امکان مذاق ہی کے زمرے میں آئے گا۔ جہاں تک بجلی چوری کے فتویٰ کا تعلق ہے علمائے کرام نے کبھی بھی بجلی چوروں کو مباح تو درکنار اس کی کبھی گنجائش ہی کے قائل نہیں رہے ہیں۔ اس ضمن میں جب بھی علماء سے رجوع کیا گیا بجلی چوری کو صریح حرام قرار دیا جاتا رہا ہے۔ روزنامہ مشرق کے دینی ایڈیشن میں مفتی سبحان اللہ جان متعدد سوالوں کے جواب میں قطعی طور پر اسے حرام اور ناجائز قرار دیتے رہے ہیں۔ بہرحال بجلی چوری کے حرام قرار دینے بارے علمائے کرام کو کسی رشوت یا ترغیب کی ضرورت نہیں البتہ اگر علمائے کرام کو اس ضمن میں خدمات کی ادائیگی کے عوض کوئی منفعت دی جائے تو اس کی بہتر صورت یہ ہوسکتی ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں بجلی چوری والے علاقوں کے علماء کی خدمات حاصل کریں کہ وہ گھر گھر جا کر لوگوں کو چوری کی بجلی حاصل کرنے کی بجائے جائز اور قانونی طریقے سے بجلی حاصل کرنے اور بل دینے کی ترغیب دیں۔ جن علاقوں میں بعض وجوہات کی بناء پر اب یہ ممکن نہیں علمائے کرام ان علاقوں میں باآسانی بجلی چوری کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

معاشرتی انحطاط کے تکلیف دہ مظاہر

امریکہ میں میاں بیوی کے جھگڑے پر پشاور میں نوجوان کا قتل اور سہیلی کو فیس بک پر بدنام کرنے والی خاتون کی گرفتاری دو ایسے واقعات ہیں جس سے خیبرپختونخوا کے روایتی قدامت پسند معاشرے کے بکھرنے کا احساس ہوتا ہے۔ سڑکوں اور شاپنک مالز پر اس معاشرے کی ایک اور نوعیت کی تبدیلی بھی کسی سے پوشیدہ نہیں بطور مسلمان اور بطور پاکستانی اس صورتحال پر ذہنی وقلبی تکلیف کا احساس فطری امر ہے لیکن اس سے زیادہ بزرگوں اساتذہ اور علمائے کرام کے دلوں سے بھی احساس زیاں جاتا رہا۔ ذرائع ابلاغ بھی معاشرے کی رہنمائی میں کلیدی کردار کے حامل ہوتے ہیں مگر یہاں تو گنگاہی الٹی بہنے لگی اور اس قسم کی صورتحال اور حالات کو تجارتی نوعیت مل رہی ہے جس کے باعث اس بگاڑ کی روک تھام کی جگہ ذرائع ابلاغ اس بگاڑ کے فروغ میں کردار ادا کررہے ہیں۔ اس قسم کی صورتحال میں محولہ قسم کے واقعات کا ہونا انہونی نہیں بلکہ عین متوقع ہیں ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہمارا معاشرہ کس طرف جارہا ہے ہماری معاشرتی اقدار کی سمت کیوں انحطاط اور خرابی کی طرف تیزی سے رواں ہے۔ کیا اس کی وجہ یہ نہیں کہ ہم من حیث المجموع مادیت پرستی کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔ ہماری سوچ ہماری جدوجہد اور زندگی کا محور سوائے حلال وحرام خواہ جس طریقے سے بھی کھانا ہی بن کر رہ گیا ہے۔ اس دوڑ میں ہم اپنے خاندان تو کجا اپنے آپ کو اپنی ذات تک کو بھولتے جارہے ہیں۔ اس ماحول میں جہاں عدم برداشت کا عنصر معاشرے میں سرایت کر گیا ہے وہاں جہاں ایک طرف لاتعلقی کی کیفیت بڑھ رہی ہے اس کے ساتھ ساتھ ایسے واقعات بھی پیش آرہے ہیں جس میں کسی کی زندگی سے کھیلنا راور کسی کی عزت کے جنازے نکالنے کا احساس تک باقی نہیں رہتا ۔ ایک خاتون کی اپنی ہی سہلی کو بدنام کرنے کا باعث کرنے کا اقدام خاص طور پر قابل مذمت امر ہے۔ یہ معاشرتی انحطاط کی ایک اور منفی سمت ہے جو معاشرے کے لئے ناسور بنتا جارہا ہے ۔سوشل میڈیا پر صحت مند تنقیداور بحث و مباحثہ دلیل اور تہذیب کے دائرے میں اپنی بات کہنا اور دوسرے کی سننا تو مثبت امر ہے لیکن اس میڈیم کو جس انداز سے اپنایا جارہا ہے اس سے خوف آنے لگتا ہے ۔ جہاں من الحیث المجموع ان معاملات پر غور کی ضرورت ہے وہاں خاص طور پر اپنے بچوں کو اس لدل سے بچانے کیلئے سعی سے غافل نہیںہونا چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں