Daily Mashriq


ن لیگی سابق صوبائی وزیر کی ''پھلجھڑی''

ن لیگی سابق صوبائی وزیر کی ''پھلجھڑی''

احتساب عدالت کے باہر جب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے سابق ن لیگی صوبائی وزیر رانا مشہود کی ''سیاسی پھلجھڑی'' (ان کے بیان کو'' پھلجھڑی'' کا نام پنجاب اسمبلی میں ن لیگ کے قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز شریف نے دیا ہے) بارے میں سوال کیا گیا تو وہ ٹال گئے۔ پہلے انہوں نے بزبان غالب جواب دیا ''غالب ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفان کیے ہوئے''۔ سوال دہرایا گیا تو انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے صدر میاں شہباز شریف پہلے ہی اس کا نوٹس لے چکے ہیں اس سوا ل پر کہ آیا یہ بیان ن لیگی کی پالیسی پر مبنی تھا۔ انہوں نے کہا کہ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ کیا صحافی بہتر جانتے ہیں کہ رانا مشہود کا بیان ن لیگ کی پارٹی پالیسی کے مطابق تھا یا نہیں؟ یہ سوال اپنی جگہ لیکن میاں صاحب نے اپنے تبصرے کو ن لیگ کے موجودہ صدر میاں شہباز شریف کے نوٹس تک محدود رکھا اور تہیہ طوفان کا محض ذکر کیا۔ سابق صوبائی وزیر رانا مشہود کا بیان سارا دن ٹی وی نشریات میں شامل رہا جس میں انہوں نے مختصراً یہ کہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سے ن لیگ کے معاملات طے پاگئے ہیں۔ معاملات درست کرنے میں میاں شہباز شریف کا اہم کردار ہے جو اسٹیبلشمنٹ کیلئے قابل قبول سمجھتے جاتے ہیں۔یہ بیان چونکا دینے والا تھا لیکن میڈیا نے یہ غور کیے بغیر کہ رانا مشہود کی سطح کے لیگی سیاستدان اور سابق وزیر کا اداروں کے بارے میں ایسا بیان دینے کے حوالے سے سیاسی وزن کتنا ہے ' یہ بیا ن نشر کردیا ' یہ بہت چھوٹے منہ سے بہت بڑی بات تھی۔ اس پر فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے سخت برہمی کااظہار کیا اور کہا کہ ایسے بیانات ملک کے استحکام کے تقاضوں کے منافی ہیں۔ ن لیگ کے صدر میاں شہباز شریف نے اس بیان کا سختی سے نوٹس لیا اور رانا مشہود کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ ترجمان ن لیگ سابق وفاقی مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ رانا مشہود کی ذاتی رائے ہوگی۔ مسلم لیگ ن کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ رانا مشہود نے بھی پسپائی اختیار کرلی اور کہا کہ ان کا بیان سیاق و سباق سے الگ کرکے پیش کیا گیا ہے۔ ن لیگ کے قائد میاں نواز شریف کا ردعمل بطورقائد بیان ہوچکا ہے۔ جب پنجاب میں ن لیگ کے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی توجہ اس بیان کی طرف دلائی گئی تو انہوں نے کہا کہ سیاست میں ایسی پھلجھڑیاں چلتی ہی رہتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا پھلجھڑی چلی اور ختم ہوگئی۔ پھلجھڑی کس نے بنائی تھی اور کیوں چلائی تھی۔ کیا صرف اس لئے کہ جل کر بجھ جائے اور جو چکا چوند اس نے پیدا کی وہ اتنی معمولی تھی کہ اس پر پاک فوج کے ترجمان نے بھی ردعمل دینا مناسب سمجھا' ن لیگ کی مرکزی ترجمان نے بھی اس سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور صدر ن لیگ نے رانا مشہود کی پارٹی رکنیت معطل کر دی اور تین رکنی کمیٹی اس معاملے کا جائزہ لینے کے لئے بٹھا دی۔ یہاں یہ سوال اہم ہے کہ یہ جو تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے اس کے سامنے سوال کیا ہوںگے۔اس سارے معاملے کو ایک اور زاویئے سے دیکھا جاناچاہے جس میں کم از کم دوباتیں اہم ہیں۔ ایک سابق صوبائی وزیر رانا مشہود کا سیاسی قد کاٹھ اور دوسرے اس بیان کے جاری کرنے کا وقت' اگر رانا مشہود ن لیگ کی مشہور کچن کابینہ کے رکن ہوتے یا پارٹی کے پالیسی سازوں میں ان کا شمار ہوتا یا وہ ن لیگ کی پالسیوں کی وضاحت کرنے والوں میں سے ایک ہوتے تو ان کا بیان فوری طور پر بین الاقوامی میڈیا کی نظروں میں کھب جاتا اور اس بات کے ثبوت کے طورپر پیش کیا جاتا کہ پاکستان میں حکومتیں بنانے اور گرانے کی کارروائی اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے۔ لیکن اس کیلئے رانا مشہود نے اپنا انتخاب کیا 'انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو احساس ہوگیا ہے کہ جنہیں انہوں نے گھوڑے سمجھا تھا وہ خچر نکلے۔ یعنی توقعات کے برعکس انتخابات کے ذریعے آنے والی موجودہ حکومت ڈیلیور نہیں کرپائی ہے۔ رانا مشہود کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کو شہباز شریف کے وزیراعظم نہ بننے کا افسوس ہے ۔ یہ بیان واضح طور پر کہتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ہی پاکستان میں حکومتیں بنانے والوں کا انتخاب کرتی ہے۔ انہوں نے کہا اسٹیبلشمنٹ بھی ہمارے ہی لوگ ہیں اور ان سے ن لیگ کے معاملات طے ہوگئے ہیں۔ اس کے بعد رانا مشہود نے کہا ہے کہ دو ماہ میں پنجاب میں ن لیگ کی حکومت بننے والی ہے۔ دو ماہ کا وقت قابل غور ہے اس ماہ کے وسط میں ضمنی انتخابات ہونے والے ہیں اس کے بعد ان کے نتائج کا اعلان ہوگا اور منتخب نمائندے حلف اٹھائیں گے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہونی چاہیے کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت کے پاس بھاری اکثریت نہیں ہے۔ پنجاب کے ضمنی انتخابات میں تمام نشستوں پر اگر ن لیگی امیدوار کامیاب ہو جائیں تو ن لیگ پی ٹی آئی کی حکومت کو چیلنج کرسکتی ہے۔ اس پس منظر کے ساتھ رانا مشہود کے بیان کا مقصد ضمنی انتخابات میں ن لیگ کے امیدواروں کو حوصلہ دینا تھا اور ان حلقوں کے عوام کو یقین دینا تھا کہ اگر ان حلقوں سے تمام ن لیگی امیدوار جیت جاتے ہیں تو حکومت ن لیگ کی بن جائے گی اور یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ان جیتنے والے امیدواروں کو وزارتیں بھی ملیں گی۔ رانا مشہود کا سیاسی قدکاٹھ صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کو جتاناہے اور انہی کو انہوں نے مخاطب کیا ہے تاکہ وہ اپنے ووٹروں کو یقین دلاسکیں کہ کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کے ن لیگ کے ساتھ معاملات طے پاچکے ہیںلہٰذا ان کے ن لیگی امیدواروں کی جیت یقینی ہے۔ رانا مشہود کا بیان خالی از علت نہیں تھا۔ پاک فوج کے ترجمان نے بجا طورپر اس کا نوٹس لیا ہے لیکن ن لیگ کے صدر نے اگرچہ اس بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ رانا مشہود کی رکنیت معطل کی ہے اور تین رکنی کمیٹی معاملات کا جائزہ لینے پر مامور کی ہے تاہم یہ پھلجھڑی تو دن بھر چلتی رہی اور تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ نہ جانے کب آئے گی۔ اس بیان کو پھلجھڑی کہنا بھی اس کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش ہے یہ معاملات بچوں کا کھیل نہیں ہوتے۔

متعلقہ خبریں