Daily Mashriq


میرے وطن کی سیاست کا حال!

میرے وطن کی سیاست کا حال!

ویسے تو تقریباً1960ء کے عشرے کے بعد پاکستان کے عوام ہر صبح اُٹھتے ہی دعا کرتے کہ وطن عزیز میں رات خیروعافیت سے گزری اور کوئی انہونی نہ ہوئی ہو۔۔ لیکن 1970ء کے عشرے کے بعد آج تک ہمارے ملک میں روزانہ کوئی نہ کوئی ایسا مسئلہ چل رہا ہوتا ہے جس سے محب وطن عوام اپنے معاش ومعاشرے کے دکھوں اور غموں کے علاوہ ہلکان ہوتے جاتے ہیں۔ 1971ء میں وطن عزیز کے دولخت ہونے کا سانحے اور المئے کے زخم ابھی ہرے ہی تھے کہ خدا خدا کر کے وجود میں آنیوالی پہلی باقاعدہ جمہوری حکومت کیخلاف پی این اے کا اتحاد بنا اور پی این اے نے انتخابی نتائج کو دھاندلی کی وجہ سے قبول نہ کرتے ہوئے تحریک چلائی جس کے نتیجے میں جمہوریت کی بساط لپٹنے کے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو تختہ دار تک پہنچ گئے۔ پاکستان کی سیاست میں آج تک اس المناک واقعے کی گونج سنائی دیتی رہتی ہے۔ آج بھی سیاستدانوں کے اذہان وقلوب اور سیاسی پالیسیوں پر اس کے اثرات پڑتے رہتے ہیں اور محافل ومجالس میں ان واقعات کا ذکر بھی ہوتا رہتا ہے اور 1971ء سے 1988ء کے دور پر بیسیوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں جن میں 7ہماری تاریخ کے ان مشکل ابواب وحالات کے اسباب ووجوہات کا تحقیقی انداز میں چشم دید روایات کیساتھ جائزہ بھی پیش کیا جا چکا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس سے ایک ذرہ برابر بھی عبرت اور سبق حاصل نہیں کیا گیا۔ پیپلرپارٹی اور ضیاء الحق اور ان کے ساتھیوں کے درمیان جو دشمنی پیدا ہوئی اس سے پاکستان کو شدید نقصان پہنچنے کے علاوہ بعد میں ضیاء الحق کے جانشین کے طور پر سامنے آنے والی سیاسی پارٹی مسلم لیگ (ن) کے درمیان جو تلخ واقعات رونما ہوئے اور عوام وسیاست پر اس کے جو ناخوشگوار اثرات مرتب ہوئے، وطن عزیز آج تک اس سے نکلنے کی جدوجہد کے باوجود نکل نہیں سکا یا ان بڑی دو سیاسی جماعتوں کے درمیان کشمکش کے نتیجے میں جنرل پرویز مشرف کا مارشل لاء آیا تھا۔ ان کے درمیان دشمنی کی حد تک سیاسی اختلافات نے ملک کو دو واضح دھاروں میں اس طرح تقسیم کیا کہ وطن عزیز کے ہر شعبے یہاں تک کہ سرکاری ملازمین تک دو واضح حصوں میں بٹ کر رہ گئے۔ اس چیز نے ملک میں ہر شعبے کو سیاست زدہ کر لیا جس کے نتیجے میں سرکاری ملازمین بالخصوص اعلیٰ بیوروکریسی بھی وزراء کی آشیرباد کے حصول کو اپنے محکمانہ کام ومہارت کی جگہ ترجیح دینے لگے جس سے ملکی ترقی کا پہیہ جام سا ہونے لگا۔ وطن عزیز کے دو ادارے جو ریونیو پیدا کرنے کے علاوہ ملک کی نیک نامی اور ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے تھے سیاسی جماعتوں کے سربراہوں اور بڑے بڑے رہنماؤں کے چہیتوں اور نیلی آنکھوں والوں سے اہلیت وصلاحیت کے فقدان کے باوجود بھر گئے۔ ہر سیاسی جماعت جب اقتدار میں آتی، اُس نے ہر شعبے میں کلیدی عہدوں پر اپنوں کو لانے کی ہر ممکن کوشش کی یہاں تک کہ بعض اوقات ایسے کاموں میں اُن کی عزت سادات بھی جاتی محسوس ہونے لگی۔

اس دور میں پی آئی اے جیسے شاندار قومی ادارے کا بیڑہ غرق ہوگیا۔ سٹیل مل اور ریلوے جو کبھی کماؤ پوت شمار ہوتے تھے، سفید ہاتھی بن گئے۔ اوگرا جیسے اہم ادارے کا چیئرمین اس دور میں میٹرک پاس تھا۔ اس اہم اور اعلیٰ عہدے پر اس کو فائز کرنے والی شخصیت سے جب پوچھا گیا کہ اس قسم کے کام کرنے پر خوف خدا محسوس نہیں ہوتا تو جواب دیا کہ کیا کریں، دوستیاں نبھانا پڑتی ہیں۔ اگرچہ اندر سے خلش ہمیں بھی ہوتی ہے لیکن بعد میں استغفراللہ کر لیتے ہیں۔ گزشتہ حکومت نے پی ٹی وی میں چیئرمین سے لیکر ایم ڈی تک اپنے چہیتے ہونے کے سبب جتنی بڑی تنخواہوں اور مراعات سے نوازا اس نے پی ٹی وی کا معاشی لحاظ سے یہ حال کیا کہ وقت پر تنخواہیں دینا مشکل ہوگیا تھا۔ لاہور میں بڑی بڑی کمپنیوں کے چیئرمین کی کرسیوں پر لاکھوں میں تنخواہ اور مراعات پر چیف جسٹس حیران ہو کر رہ گیا اور ندامت میں پوچھا کہ آخر ان لوگوں میں سُرخاب کے کون سے پر لگے ہیں کہ پانچوں انگلیاں گھی میں اور سرکڑاہی میں ہیں۔اور اب تحریک انصاف کی باری ہے جنہوں نے کئی بار جلسوں میں علی الاعلان کہا تھا کہ سب کچھ میرٹ پر ہوگا۔ اگرچہ ابھی مہلت دینے کا حق بنتا ہے لیکن شروعات زیادہ پرکشش نہیں۔ دوستیاں نبھانا شاید یہاں بھی شروع ہوگیا ہے، لوگ زلفی بخاری اور ان کی بہن کا نام کڑی تنقید کیساتھ لیتے ہیں۔۔ لہٰذا احتیاط لازم ہے کہ لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں لیکن مجھے محسوس یہ ہو رہا ہے کہ ایسی غضب ناک اپوزیشن شاید ہی اس سے پہلے کبھی پاکستان میں گزری ہو۔ چھوٹی بڑی اپوزیشن جماعتیں اپنے مفادات کے تحت تقسیم ہوکر بھی شاید پھر سنبھل رہی ہیں اور ضمنی انتخابات نے اُن کو مجبور بھی کر دیا ہے۔ تحریک انصاف نے بڑے بڑے رہنماؤں کو پارلیمنٹ سے باہر کر کے اپنے لئے بہت بڑا طوفان لاکھڑا کیا ہے اسلئے سب یک زبان ہو کر بھینسوں، گاڑیوں اور وعدوں کا مسلسل راگ الاپ رہے ہیں اور اب تازہ چیز سی پیک کی چیئرمین شپ ہے۔ اس کے علاوہ سی پیک کے حوالے سے کڑی تنقید جاری ہے۔ اس پر مستزاد فواد چودھری فواد اور فیاض الحسن چوہان کی شعلہ بیانیاں ہیں اور حکومت کی بعض خواہ مخواہ کی نادانیاں ہیں۔ لہٰذا جیسے عوام کو باربار ماضی کے اُن واقعات کی یاد آنے لگتی ہے جب وطن عزیز کے سیاستدان ایک دوسرے کے جانی دشمن لگ رہے تھے لیکن سُنا ہے کہ یہ سیاست ہے (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں