Daily Mashriq


میسا پانی وگ گیا تے انت کسے نہ پایا

میسا پانی وگ گیا تے انت کسے نہ پایا

پاک فوج کے ترجمان کا فرمانا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء رانا مشہود کا بیان بے بنیاد اور افسوسناک ہے۔ فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر آصف غفور نے رانا مشہود کے اس بیان کہ مسلم لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں کے شہود پذیر ہونے کے ردعمل میںکہا کہ ایسے غیرذمہ دار روئیے ملکی استحکام کیلئے نقصان دہ ہیں، فوجی ترجمان کی بات درست ہے کیونکہ ایسے بیانات سے عدم سیاسی استحکام بھی پیدا ہوتا ہے جبکہ سیاسی استحکام ملک کی ترقی، خوشحالی ہی کا ضامن نہیں بلکہ ملک کے استحکام کا بھی ضمانت دار ہوتا ہے، مشرقی پاکستان کا سقوط اسی عدم سیاسی استحکام کا نتیجہ ہے، آج ملک جس موڑ پر پہنچا ہے وہ بھی اسی سیاسی عدم استحکام ہی کی بدولت ہے کہ ملک میں جمہوری معاشرہ پنپنے نہ دیا گیا، باربار مارشل لا نے ملک کو سیاسی عدم استحکام کا شکار کیا چنانچہ پاکستان گوناگوں مسائل کا شکار ہو کر رہ گیا۔جہاں تک رانا مشہود کے بیان کی مشہوری کی بات ہے تو اچنبھے کی بات ہے، پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں اب تو عالمی سطح پر یہ ہی گمان کیا جا رہا ہے کہ ملکی سیاست میں اس کا اہم ترین کردار رہا ہے اور ہے، اسی آڑ میں پی پی کے رہنماء بلاول بھٹو نے عمران خان کو ELECTED (منتخب) کی بجائے SELECTED (نامزد) کردہ وزیراعظم کہا بہرحال ا س بات میں کیا صداقت ہے تاہم اپوزیشن لیڈر ایسی بات کیا کرتے ہیں یہ ان کے سیاسی جھول ہیں مگر جو بات رانا مشہود نے کی وہ اس لئے قابل قبول نہ تھی کیونکہ ایسے معاملات کو منظرعام پر نہیںلایا جاتا اور وقت سے پہلے تو لایا ہی نہیں جاتا، تاہم ایک بات ہے کہ رانا نے اسٹیبلشمنٹ کا نام اپنے ہونٹوں سے ادا نہیں کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی اداروں سے بات ہوئی ہے اور آئندہ دو ماہ پنجاب حکومت کیلئے اہم ہیں۔ توقع ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت پنجاب میں بن جائے گی مگر نہ تو انہوں نے اداروں کی نشاندہی کی اور نہ اس بارے میں کوئی تفصیل بیان کی۔سودے بازی کی سیاست پاکستان کی قدیم روایات میں سے ہے، اس بناء پر کہا جاتا ہے کہ عوام شراکت داری کے اقتدار میں مایوسی کا شکار محسوس کئے جاتے ہیں، میاں نواز شریف کا بھی عوام کو یہ تاثر ہے کہ وہ عوام کے ووٹ کا تقدس چاہتے ہیں اور اسی کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اگر رانا مشہود کی بات کو سچ مان لیا جائے تو میاں صاحب عوام سے کئے وعدے سے بغاوت کے مرتکب قرار پاتے ہیں، علاوہ ازیں اس قسم کی ڈیل کا وقت سے پہلے ہی منکشف ہوجانا خود مسلم لیگ کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ رانا مشہود جو ذمہ دارانہ عوامی عہدے پر فائز رہ چکے ہیں ان سے ایسی غیرذمہ دارانہ بات کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔ جس کی وضاحت انہی کو کرنا ہے۔جہاں تک اپوزیشن کے کردار کا تعلق ہے تو پاکستان کی سیاست میں یہ سیاہ پہلو نمایاں ہے کہ حزب اقتدار جس کی بنیادی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ ملک اور عوام کے مفاد کی حفاظت یعنی وہ ایک احتسابی قوت کا کردار ادا کرے اور حکومت وقت کو صرف اپنے مفادات کیلئے قدم اُٹھانے سے باز رکھے مگر بدقسمتی یہ رہی کہ پاکستان میں مجموعی طور پر حزب اختلاف کا کردار مخالفت برائے مخالفت ہی رہا اور حکومت کو مفلوج کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کی گئیں۔ حکومتوں کو گرانے میں کردار ادا کیا جیسا کہ 2013ء کے انتخابات کے فوری بعد تحریک انصاف نے مسلم لیگ ن کیخلاف دھرنا تحریک چلائی اور اسٹریٹ پاور کی ہلہ گلہ مچائی رکھی۔ عمران خان نے سابقہ سارا دور سڑکوں پر احتجاج کرنے میں گزار دیا، اگر وہ اس کی بجائے پارلیمنٹ کا فورم استعمال کرتے تو ان کی سیاست کے مثبت نتائج برآمد ہوتے چنانچہ انہوں نے کشیدہ احتجاجی سیاست کی تو آج بھی ویسی ہی کشیدگی سیاست میں نظر آرہی ہے، رانا مشہود کو معلوم ہونا چاہئے کہ حزب اختلاف کا کردار حکومت کو ناکام بنانا یا گرانا نہیں ہوا کرتا، محترمہ بینظیر بھٹو کے پہلے دور میں بھی یہ الزام لگایا گیا تھا کہ حزب اختلاف نے اسٹیبلشمنٹ سے ملکر محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کو گرانے کی سعی کی تھی، حالانکہ یہ بات پوری طرح اب تک ثابت نہ ہو سکی مگر اس الزام میں دو عمدہ افسروں جن میں ایک بریگیڈئر امتیاز اور دوسرے افسر میجر عامر کو ملازمت سے فارغ کر دیا گیا جبکہ یہ دونوں اپنے اداروں کا بہترین اثاثہ تھے۔ اسی طرح پی ٹی آئی کی دھرنا تحریک سے پہلے کچھ ایسی خبریں آئیں تھیں جن کو لندن پلان کا نام دیا گیا تھا، اس لندن پلان سے پہلے بھی ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور میں ایک لندن پلان کی خبر اس دور کی حکومت کی جانب سے خوب اُچھالی گئی تھی مگر وہ فراڈ خبر نکلی تھی لیکن دھرنا تحریک سے پہلے جس لندن پلان کا ذکر کھلا اس میںکہا گیا تھا کہ لند ن میںپاکستان سے چودھری شجاعت اور کینیڈا سے طاہرالقادری کو بلا کر عمران خان سے ملاقات کرائی گئی جس میں طے پایا کہ نواز شریف کی حکومت کو گرانے کیلئے تحریک چلائی جائے گی اور کسی ایمپائر کی بھرپور معاونت بھی میسر ہوگی، لندن کی اس ملاقات کے بارے میں عمران خان اور تحریک انصاف کے رہنماؤں نے متعدد بار تردید کی بلکہ اس لندن پلان میں شریک ہر لیڈر نے انکار کیا مگر گزشتہ دنوں طاہرالقادری کی عوامی تحریک کے مرکزی لیڈر علی نواز گنڈاپور جن کو طاہرالقادری کا دائیں بازو قرار دیا جاتا ہے انہوں نے اس لندن پلان کی تصدیق بھی کی اور بتایا کہ دھرنا تحریک اسی لندن پلان کا حصہ تھی، علاوہ ازیں انہوں نے کئی دوسرے انکشافات کئے ہیں جس پر پوری قوم ششدر رہ گئی ہے، اس بارے میں جن کو لندن پلان کا حصہ بیان کیا گیا ہے۔

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں