Daily Mashriq


کیا مال غنیم تھا مرا شہر

کیا مال غنیم تھا مرا شہر

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پاور نے ایوان بالا کو بجلی چوری روکنے سے متعلق اپنی سفارشات بھجوا دی ہیں اور اس ضمن میں علمائے کرام کی مدد لینے اور ان مساجد کو چار سو یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کی تجویز دی ہے جن کے آئمہ کرام بجلی چوری کیخلاف فتویٰ جاری کریں گے۔ تاہم یہ تجویز سامنے آنے کے بعد عوام نے اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایک مسجد کے مہتمم نے اس کو سراہتے ہوئے مفت بجلی کو رشوت قرار دیدیا ہے، جبکہ بعض لوگوں نے تجویز کو اچھا تو قرار دیا ہے مگر یہ بھی کہا ہے کہ چوری کا مزہ لینے والوں پر علمائے دین کی نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہونیوالا۔ گویا بقول شاعر، مرد ناداں پر کلام نرم ونازک بے اثر والی بات ہوگی۔ ویسے تو ریاست مدینہ میں بجلی نہیں ہوتی تھی تاہم اس دور میں ایسی صورتحال میں کیا رویہ اختیار کیا جاتا تھا اس حوالے سے ایک بہت ہی مشہور واقعہ ضرور تاریخ کی کتب میں محفوظ چلا آرہا ہے مگر بظاہر اس واقعے کا ''پاور''سے براہ راست تعلق ہونے کے علاوہ زندگی کے دیگر حوالوں سے بھی اس کا گہرا تعلق بنتا ہے یعنی ہمیں زندگی برتتے ہوئے کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے اسی ایک واقعے سے ہم روشنی حاصل کر سکتے ہیں مگر۔۔ اور اسی مگر نے ہمیں گو مگو کی کیفیت سے دوچار کر رکھا ہے، بہرحال واقعہ مختصراً قندمکرر کے طور پر درج کیا جا رہا ہے حالانکہ یہ واقعہ اکثر وبیشتر تحریروں میں سامنے آتا رہتا ہے کہ خلیفۂ وقت بیت المال کا حساب کتاب کرتے ہوئے ایک دوست کیساتھ گفتگو بھی فرما رہے تھے اور جیسے ہی سرکاری کام ختم ہوا، چراغ کی بتی پھونک مار کر گل کر دی، دوست نے حیرت سے پوچھا، جناب ابھی تو ہم گفتگو کر رہے ہیں مگر آپ نے چراغ بجھا دیا، جواب ملا، اب تک بیت المال کا حساب کتاب ہو رہا تھا تو بیت المال ہی کے پیسوں سے دیئے میں جلنے والے تیل سے چراغ روشن رکھنے کا جواز موجود تھا مگر اب تو ہم ذاتی گفتگو کر رہے ہیں اسلئے دیا بھجا دیا۔ اب ایسے پراگندہ طبع لوگ کہاں ملیں گے جن کے سفرزیست سے یہی سبق ملتا ہے کہ

سفر میں روشنی کے کہکشاں پر

قدم ہم نے ستاروں پر رکھے ہیں

بیت المال کے دیئے کی روشنی کیلئے ''پاور'' اسی تیل سے حاصل ہوتا تھا جس پر رقم بیت المال ہی سے خرچ کی جاتی تھی کمیٹی ایک جانب بجلی چوروں کی روک تھام کیلئے کوشاں ہے مگر دوسری جانب اللہ کے گھر کو رشوت لینے کی ترغیب دے رہی ہے اس لئے جس عالم دین نے اسے رشوت قرار دیا ہے اس کی رائے بالکل درست ہے، ویسے بھی ہمارے ہاں مساجد کی رونق اللہ کے نیک بندوں کے طفیل قائم ہے، اکثر مساجد کیلئے علاقے کے مخیر حضرات خلوص نیت سے آگے آکر اخراجات کا بوجھ اُٹھاتے ہیں اور اسی کو راہ نجات سمجھتے ہیں جبکہ مساجد کی ہر قسم کی خدمت دیگر عوام بھی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق کرنے کو فخر سمجھتے ہیں جبکہ راقم نے مساجد سے ٹی وی ٹیکس وصولی کو ناجائز سمجھتے ہوئے اس کیخلاف مختلف اوقات میں کالم لکھ کر اس نامناسب اقدام کی جانب توجہ دلائی تھی اور شاید اب یہ سلسلہ رک گیا ہے۔ باقی ملک بھر میں فتویٰ حاصل کرنے کی جو تجویز ہے اس ضمن میں بھی گزارش ہے کہ ہر امام مسجد مفتی نہیں ہوتا۔ اس لئے مفتیان دین سے ایک اجتماعی فتویٰ حاصل کر کے تمام مساجد کے آئمہ کرام سے گزارش کی جاسکتی ہے کہ وہ جمعہ کے خطبات سے پہلے تقاریر میں اس حوالے سے چند کلمات ضرور کہیں لیکن بات اس سیانے کی بھی درست ہے کہ جن کو مفت کی بجلی کا چسکا پڑ چکا ہو ان پر اس قسم کی نصیحتوں کا کیا اثر ہو سکتا ہے یعنی صورتحال چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی والی ہی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جو لوگ بجلی چوری کرتے ہیں ان کی اس عادت کی وجوہات بھی معلوم کی جانی چاہئیں اور اس حوالے سے اگر بعض بجلی چوروں کے نقطۂ نظر کو دیکھا جائے تو بندہ لاجواب بھی ہو جاتا ہے۔ مثلاً ایک عمومی نظریہ تو یہ ہے کہ ملک میں بیروزگاری میں روزبروز اضافہ اس کی ایک وجہ ہے، جب بندے کا رزق ہی نہ ہو یا اس قدر تنگ دستی ہو کہ روٹی کے لالے پڑے ہوں اور دوسری جانب ہر دور میں ہر حکومت بجلی کے نرخوں میں پے درپے اضافہ ہی کرتی آئی ہے جبکہ قیمتوں میں یہ اضافہ سادہ نہیں بلکہ اپنی ذات میں ''انجمن'' بن کر غریبوں کے نشیمن پر آسمانی بجلی کی صورت گرتا رہتا ہے اور وہ یوں کہ بجلی کے بل اُٹھا کر دیکھیں تو کئی خانے ایسے موجود ہیں جن میں درج رقوم کا اصولی طور پر بجلی کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں بنتا مگر ''شریک باجہ'' کی صورت عوام کے ہوش اُڑا دیتے ہیں، ان رقوم میں بجلی قیمت اور کرایہ میٹر تو خیر درست ہیں لیکن اس کیساتھ والے خانوں میں انکم ٹیکس، الیکٹرسٹی ڈیوٹی، جنرل سیلز ٹیکس کا اندراج ہوتا ہے جن کی وجہ سے بل اس قدر بھاری ہو جاتے ہیں کہ عوام کی دوہری، تہری کمر مزید کئی گنا دب جاتی ہے، ٹی وی کیلئے بھی واپڈا عوام سے 35روپے وصول کرتی ہے جس کا اب کوئی جواز اس لئے بھی نہیں ہے کہ ٹی وی ایک کمرشل ادارہ ہے

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں