Daily Mashriq


مر گئے پیاس سے دریا کے کنارے بچے

مر گئے پیاس سے دریا کے کنارے بچے

آج پاکستان سمیت ساری دنیا میں اساتذہ کرام کا دن منایا جارہا ہے۔ یہ دن اقوام عالم کی اقوام متحدہ میں منظور کی جانے والی قرارداد کی تعمیل میں ہر سال 5اکتوبر کو منایا جاتا ہے لیکن حق راستی تو یہی ہے کہ درس وتدریس کے پیغمبرانہ پیشہ سے وابستہ اساتذہ کرام کیلئے سال بھر کا دن اور ہر دن کا ہر گھنٹہ، منٹ اور سیکنڈ بھی اگر ان کے نام کر دیا جائے تو شاید تب بھی ان کی حق ادائی نہ ہو سکے۔ ہماری دینی تعلیمات میں علم کا حصول ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض قرار دیا گیا ہے۔ دین فطرت نے مہد سے لحد تک علم کے حصول کی تلقین کی ہے۔ گویا حصول تعلیم وہ فرض ہے جس کیلئے عمر زمانہ یا وقت کی کوئی قید نہیں اور نہ ہی اس دولت کو حاصل کرنے کیلئے کسی خاص مقام یا لوکیشن کی حدبندی کی گئی ہے۔ شاید اسی لئے حصول علم کیلئے چین تک جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دیوار چین اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ان دنوں چین کی سرحد عبور کرنا یا دیوار چین کے اس پار جانا اتنا آسان نہیں تھا تبھی تو حصول علم کیلئے ہر حد وبند کو عبور کرنے کی ہدایت کی گئی۔ خلاصۂ کلام یہ کہ حصول علم کا فریضہ ادا کرنے کیلئے زمان ومکان کی کوئی پابندی نہیں۔ بس اتنا کرنا ہے کہ اپنے آپ کو ہر قیمت پر زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہے۔ جس کیلئے ہمیں قدم قدم پہ جس رہنماء یا خضر راہ کی ضرورت پڑتی ہے عرف عام کے علاوہ اصطلاحی لفظوں میں اسے ہی استاد یا ٹیچر کہا جاتا ہے۔ زندگی کی ان بھول بھلیوں میں سیدھی راہ پر چل کر منزل کو پا لینا اتنا آسان نہیں۔ وہ لوگ بڑے بدقسمت ہوتے ہیں جن کو نہ صرف حصول علم کیلئے بلکہ زندگی کی دیگر معمولات کو احسن طریقے سے بجا لانے کیلئے کوئی مشعل بدست رہنماء یا استاد نہیں ملتا اور یوں اللہ نہ کرے وہ زندگی کی شاہراہوں پر بھٹک بھٹک کر گمراہ ہو جاتے ہیں۔ اسے ہم عہدحاضر کا بہت بڑا المیہ کہیں یا اپنی اجتماعی بدقسمتی کا نام دیں کہ آج ہمارے معاشرے کا وہ قیمتی اثاثہ جسے ہم نوجوان طبقہ کے نام سے یاد کرتے ہیں شدید بے راہ روی کا شکار ہے۔ اس کی بڑی وجہ ان اقدار سے دوری ہے جن میں اساتذہ اکرام کو روحانی باپ سمجھا جاتا تھا۔ بچے کا والد یا والدہ جب اپنے جگر گوشے کو حصول علم کیلئے کسی اُستاد کے ہاں زانوئے تلمذ تہہ کروانے کی غرض سے لاتے تو دو ٹوک الفاظ میں یہ جملہ دہراتے کہ ''یہ بچہ میرا نہیں، اگر اس کی ہڈیاں میری ہیں تو گوشت آپ کا''۔ یہ کیا کہہ رہا ہے میرا ابو! یہ یا اس سے ملتی جلتی کوئی بات شاگرد بننے والے بچے کی زبان تو زبان اس کے ذہن کے نہاں خانے میں بھی نہ گونجتی، اس کی عمر کا بیشتر حصہ استاد کی جوتیاں سیدھی کرنے میں گزر جاتا جس کے بدلے میں استاد شاگرد کو علم وعرفان کے نادر ونایاب موتی ودیعت کرنے میں کوئی کسر روا نہ رکھتا۔ وہ جو کہنے والے پتھر پر لکیر کھینچ کر کہہ گئے ہیں کہ باادب بامراد بے ادب بے مراد، اساتذہ کرام سے وہی شاگرد اکتساب فیض کے اہل ہوتے ہیں جو ان کا احترام کرنے کا ہنر جانتے ہیں

ادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا

وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں

یہ بات چکبست برج نرائن نے کی ہے لیکن اس کی اس بات کی نسبت سے ہم اسے استاد مانتے ہیں اور اس کا احترام کرنا ہم پر واجب ہو جاتا ہے۔ پیران پیر حضور غوث الاعظم دستگیر ایک یہودی کے احترام میں محض اس لئے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ اس نے انہیں یہ بتایا تھا کہ ''کتا کب بالغ ہوتاہے''۔ علمیت اور تعقل بھرے اس جملے نے ایک یہودی کو حضور کے استاد کا درجہ دے دیا جو شاگردوں کیلئے درس عظیم ہے۔ ہمارے استاد ہمارا مستقبل سنوارتے ہیں۔ ہمیں خدا اور اس کے رسولۖ سے ملواتے ہیں، ہمارے ذہن وشعور کے ظلمت کدوں میں علم وعرفان کی شمعیں روشن کرتے ہیں۔

رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے

استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے

لیکن آج کے دن ہم نے دیکھنا ہے کہ ہمارے اساتذہ کرام کس حال میں زندگی کے شب وروز گزار رہے ہیں۔ آج ہمیں افسوس کیساتھ یہ بات دہرانی پڑ رہی ہے کہ وہ دن لدھ گئے جب شاگرد استادوں کی جوتیاں سیدھی کرتے نہیں تھکتے تھے اور استاد شاگردوں پر اپنا تن من دھن نثار کر دیتے تھے۔ آج اگر شاگردوں کے رویئے میں تبدیلی آچکی ہے تو اساتذہ بھی بڑھتی مہنگائی اور محدود ذریعہ آمدن کے شکوے کرتے نہیں تھکتے۔ پہلے جان ودل کے عوض شاگرد زیور تعلیم سے آراستہ ہوتے لیکن آج لمبے لمبے بلوں کے عوض جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے۔ منڈی میں ملنے لگا ہے یہ سودا کوڑیوں کے مول۔ پہلے اسکول اور مدرسے تھے اب اونچی اونچی دکانیں کھل گئی ہیں اور ان دکانوں سے سودا وہی خرید سکتا ہے جن کے بس میں ہے بکاؤ مال خریدنے کی سکت۔ جب صورتحال یہ ہو تو کہاں سے لاؤ گے وہ ادب، وہ احترام اور وہ سعادت مندی جو جنس نایاب بن کر رہ گئی ہے اس منڈی میں۔ حصول علم زرداروں کی میراث بن چکا ہے۔ غریب کا بچہ تو موٹر سائیکلوں کی ورکشاپ کے مالک کو استاد کہتا ہے۔ لاری کا ڈرائیور اس کا استاد ہے کہ وہ اس کا کیلنڈر ہے۔ وہ حلوائی کو اپنا استاد کہتا ہے کہ اس کے ہاں کڑاہیاں مانجھنے لگتا ہے۔ نانبائی کے پیڑے بنانے لگتا ہے یا کسی جیب کترے کی خدمات حاصل کر کے اسے استاد کہنے لگتا ہے۔ آج عالمی سطح پر اساتذہ کرام کا دن منایا جا رہا ہے اور ہم بیدل حیدری کی آواز میں آواز ملا کر کہہ رہے ہیں

ہوگیا چرخ ستم گر کا کلیجہ ٹھنڈا

مر گئے پیاس سے دریا کے کنارے بچے

متعلقہ خبریں