Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

امام بیہقی کی ''شعب الایمان'' میں حضرت حسن سے منقول ہے کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا: اے پیارے بیٹے! میں نے چٹان، لوہے اور ہر بھاری چیز کو اُٹھایا، لیکن میں نے پڑوسی سے زیادہ ثقیل کسی چیز کو نہیں پایا اور میں نے تمام کڑوی اور تلخ چیزوں کا ذائقہ چکھ لیا، لیکن فقر وتنگدستی سے تلخ کوئی چیز نہیں پائی۔ اے بیٹے! جاہل شخص کو ہرگز اپنا قصد اور نمائندہ مت بنا اور اگر نمائندگی کیلئے کوئی قابل اور عقل مند شخص نہ ملے تو خود اپنا قاصد بن جا۔

بیٹے! جھوٹ سے خود کو محفوظ رکھ، کیونکہ یہ چڑیا کے گوشت کی مانند نہایت مرغوب ہے۔ تھوڑا سا جھوٹ بھی انسان کو جلا دیتا ہے۔

اے بیٹے! جنازوں میں شرکت کیا کر اور شادی کی تقریبات میں شرکت سے پرہیز کر، کیونکہ جنازوں کی شرکت تجھے آخرت کی یاد دلائے گی اور شادیوں میں شرکت دنیا کی خواہشات کو جنم دے گی۔ آسودہ شکم ہوتے ہوئے دوبارہ شکم سیر ہو کر مت کھا، کیونکہ اس صورت میں کتوں کو ڈال دینا خود کھانے سے بہتر ہے۔ بیٹے! نہ اتنا شیریں بن کہ لوگ تجھے نگل جائیں اور نہ اتنا کڑوا ہو کہ تھوک دیا جائے۔میں (مؤلف علامہ دمیری) نے حضرت حسن کے بعض مجموعوں میں دیکھا ہے کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا: بیٹے! واضح رہے کہ تیرے دربار میں یا تو تجھ سے محبت کرنے والا آئے گا یا تجھ سے ڈرنے والا۔ پس جو خائف ہے، اس کو قریب بٹھا اور اس کے چہرے پر نظر رکھو اور اس کے پیچھے سے اشارہ سے خود کو بچا اور جو تجھے چاہنے والا ہے اس سے خلوص دل اور خندہ پیشانی سے ملو اور اس کے سوال سے پہلے اس پر نوازش کرو، اس لئے کہ اگر تو اس کو سوال کا موقع دے گا تو وہ تجھ سے چہرے کی معصومیت کی وجہ سے دوگنا حاصل کرے گا جو تو اس کو دے گا چنانچہ اس کے متعلق یہ شعر کہا گیا ہے۔ترجمہ: جب تو نے بغیر سوال کے مجھے عطا کر دیا تو تو نے مجھے دے دیا اور مجھ سے لے بھی گیا۔

(حیات الحیوان، جلد دوم)

عقبہ بن نافع اپنے ایک سفر میں ایک لق ودق صحرا سے گزر رہے تھے، سفر بہت طویل تھا اور رستہ بھی اجنبی، پھرتے پھرتے ایک مقام پر پہنچے، جہاں لشکر کا پانی ختم ہو گیا، دور دور تک پانی کا نام ونشان تک نہ تھا، اس پریشانی کی حالت میں حضرت عقبہ بن نافع نے دو رکعت نماز پڑھ کر طویل دعا کی، خدا کی شان دیکھیں کہ اسی وقت عقبہ کے گھوڑے نے اپنے سم سے زمین کو کریدنا شروع کیا، جب تھوڑی دیر گزری تو ایک بڑا پتھر نظر آیا۔ تمام مجاہدین نے پتھر اُٹھایا تو اس کے نیچے سے ایک خوشگوار اور ٹھنڈے پانی کا چشمہ نکل آیا۔ سب لوگ بہت خوش ہوئے اور خوب سیر ہو کر پانی پیا اور اپنے مشکیزے بھی پانی سے بھر دیئے۔ پھر اس جگہ کا نام ماء الفرس یعنی گھوڑے کا (پانی کا چشمہ) ہو گیا اور لوگ اس جگہ کو اسی نام سے یاد کرنے لگے۔

(ناقابل فراموش تاریخ کے سچے واقعات، ص101)

متعلقہ خبریں