Daily Mashriq

صبح اٹھنے کے بعد کی جانے والی عام غلطیاں جو صحت متاثر کریں

صبح اٹھنے کے بعد کی جانے والی عام غلطیاں جو صحت متاثر کریں

صبح کا معمول آپ کے پورے دن کا تعین کرتا ہے اور چند معمولی غلطیاں بھی مختصر یا طویل المعیاد بنیادوں پر کافی بھاری ثابت ہوسکتی ہیں۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ چند چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کو اپنا کر آپ اپنے صبح کے معمولات کو درست کرکے جسمانی وزن، توانائی اور تناﺅ وغیرہ بھی بہتر بناسکتے ہیں۔

ایسی ہی غلطیاں جانیں جو اکثر افراد صبح کرتے ہیں۔

اٹھنے کا ایک وقت نہ ہونا

کیا آپ کو لگتا ہے کہ بستر پر اضافی 15 منٹ پورے دن کے لیے جسمانی توانائی فراہم کرنے میں مدد دے سکتا ہے؟ ایسا بالکل نہیں، آپ کے جسم کو زیادہ آرام اس وقت ملتا ہے جب روزانہ ایک ہی وقت پر بستر پر سونے کے لیے لیٹے اور جاگنا عادت بنائی جائے۔

اندھیرا رکھنا

صبح کے وقت اکثر افراد کو کمرے میں روشنی پسند نہیں ہوتی اور پردے کے ذریعے اندھیرا رکھنا پسند کرتے ہیں، مگر ایسا مت کریں، دن کی روشنی جسم کو گھڑی طے کرنے میں مدد دیتی ہے، جس سے اچھی نیند میں مدد ملتی ہے جبکہ انفیکشن اور ورم سے لڑنا آسان ہوجاتا ہے۔ سورج کی روشنی سے جسم کو وٹامن ڈی بھی ملتا ہے، سوچنے میں شفافیت آتی ہے اور زندگی میں خوشی کا احساس بھی بڑھتا ہے۔

دیر تک سونا

کئی بار بہت دیر تک سونا بہت اچھا لگتا ہے خصوصاً جب آپ کے پاس وقت ہو اور رات کی نیند پوری نہ ہوئی ہو، مگر طویل المعیاد بنیادوں پر نیند کا معیار بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سونے کے اوقات طے شدہ ہوں، یعنی ایک ہی وقت سونا اور جاگنا، چاہے رات گئے کو ہی سونا پڑا ہو۔

اٹھتے ہی بستر سے کھڑے ہوجانا

جب آپ لیٹے ہوتے ہیں اور پھر کھڑے ہوتے ہیں تو کشش ثقل خون کو ٹانگوں کی جانب بھیجتی ہے جس سے بلڈپریشر تیزی سے گرتا ہے اور کچھ دیر کے لیے سر چکرا سکتا ہے۔ تو آرام سے اٹھیں اور بستر کے کنارے کچھ دیر بیٹھ کر جسم کو تیار ہونے میں مدد دیں، اگر ماضی میں اکثر سر چکرانے کا سامنا ہوچکا ہے تو یہ ایک آسان سی احتیاط کسی سنگین چوٹ سے بچاسکتی ہے۔

ورزش سے دوری

ورزش کو معمول بنانا نیند، وزن، دل اور مزاج کے لیے مددگار ہوتا ہے، صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے ورزش کرنا اس حوالے سے زیادہ فائدہ مند ہوسکتا ہے، کیونکہ اس سے دن بھر کے لیے غذائی کیلوریز اور وزن کو کنٹرول میں رکھنا آسان ہوسکتا ہے۔

کیفین سے گریز

اگر آپ صبح اٹھتے ہی چائے یا کافی پینے کے عادی ہیں تو اس مشروب کو چھوڑنا ذہن میں دھندلے پن کا باعث بن سکتا ہے، سوچنے اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکل کے ساتھ تھکاوٹ، شدید سردرد، دل متلانے او رفلو جیسی علامات کا بھی سامنا ہوسکتا ہے، اگر آپ صبح اٹھتے ہی کیفین کی عادت سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں تو اس طرح کے اثرات سے بچنے کے لیے یہ کام بتدریج کریں۔

دانتوں کو بھول جانا

ہر رات دانتوں کی سطح پر پلاک جمنے لگتا ہے اور اگر صبح اٹھ کر برش نہیں کریں، تو وہ سخت ہوکر ٹارٹر کی شکل اختیار کرسکتا ہے جو پھر ڈینٹسٹ ہی نکال سکتے ہیں۔اگر پلاک اور ٹارٹر طویل عرصے سے ہوں تو اس سے مسوڑوں کی سوجن یا خون نکلنے جیسے مسال کا بھی سامنا ہوسکتا ہے، کیویٹیز، سانس میں بو اور دیگر امراض بھی سامنے آسکتے ہیں۔

چائے یا کافی پیتے ہی برش کرنا

کافی یا چائے میں ایسڈ ہوتا ہے اور کسی بھی ایسڈ غذا یا مشروب کے بعد برش کرنے سے گریز کرنا چاہیے، یہ ایسڈ دانتوں کی سطح کو کمزور کرتا ہے اور فوراً برش کی بجائے یا تو پہلے کرلیں یا پھر 30 سے 60 منٹ تک انتظار کریں۔

ڈیوائسز کا استعمال

اگر آپ مسلسل ڈیجیٹل ڈیوائسز، ای میل اور سوشل میڈیا چیک کرنے کے عادی ہیں تو اس سے ذہنی تناﺅ اور بے چینی کا سامنا ہوسکتا ہے، صبح اٹھتے ہی ای میل چیک کرنے پر کسی کام کا دباﺅ زیادہ بڑھ سکتا ہے، صبح اٹھنے کے بعد کچھ دیر تک ڈیوائسز سے دور رہیں۔

بغیر کسی منصوبہ بندی کے دن کا آغاز

اگر آپ دن کے آغاز میں پورے دن کی مصروفیات کے بارے میں سوچے بغیر حرکت میں آتے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ مقصد کے حصول میں مشکل کا سامنا ہو، کام ہو، گھروالے یا طرز زندگی، یہ ضروری ہے کہ ان کے اہم پہلوﺅں کا تعین کریں اور روزانہ کے کاموں کا تعین کریں، ترجیحات بنا کر ایک فہرست تیار کریں اور دن کے آخر میں اپنی پیشرفت کا جائزہ لیں۔

روزمرہ کے مسائل میں گم ہوجانا

جب ایک بار روزمرہ کے مسائل سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کرلیں تو اپنی زندگی کے اچھے لمحات پر شکرگزار ہوں، ایسے افراد زیادہ خوش، صحت مند اور اپنے تعلقات سے زیادہ مطمئن ہوتے ہیں۔

ناشتے سے منہ موڑ لینا

جو لوگ ناشتہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں وہ زیادہ بہتر سوچتے ہیں اور جسمانی چربی کا کم سامنا ہوتا ہے ، خاص طور پر یہ عادت ذیابیطس ٹائپ ٹو اور امراض قلب کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے، ایسے افراد ورزش کو بھی معمول بناتے ہیں اور صحت بخش غذا کا استعمال کرتے ہیں، تو صحت بخش ناشتے سے لطف اندوز ہوں، یہ دن کے پرلطف آغاز کا آسان ترین طریقہ ہے۔

بہت زیادہ میٹھا

دن کا آغاز بہت زیادہ میٹھا کھا کر کرنے سے بلڈشوگر لیول تیزی سے اوپر نیچے ہوتا ہے جس سے تھکاوٹ، چڑچڑاہٹ اور بھوک زیادہ لگتی ہے، اس کے مقابلے میں انڈے میں موجود پروٹین اور پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس میں زیادہ فائبر اور غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں، دلیہ، اجناس، پھل وغیرہ ہضم ہونے میں زیادہ وقت لیتے ہیں، جس سے دن بھر کے لیے جسمانی توانائی برقرار رکھنا آسان ہوجاتا ہے۔

متعلقہ خبریں