Daily Mashriq


بی آرٹی کو ٹیڑھی کھیر بنا دیا گیا

بی آرٹی کو ٹیڑھی کھیر بنا دیا گیا

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے پہلے دور حکومت کے سب سے بڑے منصوبے کی منصوبے کے مطابق عدم تکمیل نہ صرف عوام سے کئے گئے وعدے کی عدم تکمیل تھی بلکہ اس منصوبے سے عوام کی مشکلات اور کاروبار کی تباہی کے باعث عوامی سطح پر سابق حکومت کیخلاف جذبات کا باعث بھی بنے۔ یہ الگ بات کہ عوام نے اس کے باوجود اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پی ٹی آئی پر پہلے سے زیادہ اعتماد کا مظاہرہ کیا۔ گزشتہ دور حکومت میں اس کی تکمیل کیلئے منصوبہ بندی غیرحقیقی ثابت ہوچکی ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں اس منصوبے کے افتتاح کیلئے پہلے مارچ اور پھر چودہ اپریل کی تاریخ دیدی گئی جو مذاق بن کر رہ گئی۔ بہرحال جو ہوا سو ہوا کے مصداق گزشتہ دور حکومت میں اس منصوبے کیلئے، ٹھوس منصوبہ بندی کا نہ ہونا، دوران تعمیر نقائض اور مشکلات کا سامنے آنا اور سب سے بڑھ کر ڈیزائن میں تبدیلی اور منصوبے کی توسیع کے باعث اس کی لاگت میں اضافہ اورنظرثانی شدہ پی سی ون کی منظوری میں تاخیر جیسے معاملات آڑے آئے۔ اگر ان تمام حقیقتوں کو مدنظر رکھا جائے تو گزشتہ حکومت تاخیر کے باوجود بھی موردالزام نہیں ٹھہرتی اسلئے کہ بڑی تگ ودو کی گئی اور بہت حد تک کام کی تکمیل کی طرف تیزی سے قدم بڑھے۔ گزشتہ حکومت کی مدت تکمیل کے بعد نگران دور میں اس منصوبے پر کام کی رفتار اور منصوبے کی تکمیل کے ضمن میں اقدامات کی توقع نہ تھی لیکن اس کے باوجود کام جاری رہا گوکہ نئی حکومت کے قیام کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا لیکن چونکہ مرکز اور صوبے میں منصوبے کے خالق جماعت کی حکومتیں ہیں اور یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ منصوبے کے بھاری کام کی بڑی حد تک تکمیل کے بعد منصوبے کی تکمیل کی ذمہ داری موجودہ حکومت کے پاس آگئی ہے۔ اس تناظر میںجائزہ لیا جائے تو بی آر ٹی میں کام اگر رکا نہیں تو اس کی رفتار بھی نظر نہیں آئی حالانکہ اب موسم کی شدت بھی نہیں کہ اس پر دن رات کام نہ کیا جا سکے مگر منصوبے پر تین شفٹوں میں تو درکنار ایک شفٹ میں بھی کام نظر نہیں آتا۔ سیدھی سی حقیقت یہ ہے کہ بس سٹیشنوں کی تعمیر اور جنگلے لگانے کا کام نگران دور سے جاری ہے مگر اب بھی دیکھا جائے تو جنگلے لگانے کے عمل کی تکمیل نہیں ہوئی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بس سٹاپ بنانے کیلئے لوہے کا فریم ہی گزشتہ دو ماہ کے دوران نصب کرنے میں کامیابی نہیں ہو سکی ہے۔ ستونوں پر بھاری گارڈر رکھنے کا عمل بھی سست ہے۔ گلبہار چوک پر گزشتہ تین ماہ سے زائد عرصے سے جاری کام کے نتیجہ خیز ہونے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ ڈبگری گارڈن میں بس ڈپو اور حیات آباد میں بس ڈپو کی تعمیر اور اسی طرح چمکنی میں بھی انتظامات کی کیفیت سست روی کا شکار ہے۔ خاص طور پر ڈبگری گارڈن کے مین کمپلیکس کی تعمیر کا کام تو ابھی ابتدائی تیاریوں کی حالت میں ہے، اس سب کے علاوہ بھی کام کی رفتار غیرمعمولی طور پر سست ہے۔ نظرثانی شدہ پی سی ون کی منظوری اور فنڈز کا حصول جیسے قانونی اور دفتری کام سے نہ تو عوام کو واقفیت ہے نہ اس کی اہمیت اور مشکلات کو سمجھتے ہیں۔ یہ سب حکومت اور سرکاری مشینری کا کام ہے، عوام کو کوریڈور کی تکمیل اور بسوں کے رواں دواں ہونے کا شدت سے انتظار ہے۔ سکولوں، کالجوں اور جامعات کی تعطیلات کے اختتام پر صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک کے نظام پر دباؤ بہت بڑھ گیا ہے۔ ٹریفک جام اب روز کا معمول بن گیا ہے جو ٹریفک وارڈنز مشکل حالات میں متحرک دکھائی دیتے تھے افسوسناک حد تک اب وہ خاموش تماشائی دکھائی دے رہے ہیں۔ سردی کی آمد کے باعث سرد مقامات سے لوگوں کی پشاور آمد اور دن چھوٹے ہونے کے باعث ایک وقت میں لوگوں کا اکھٹے نکلنا اورگھروں کو واپسی کے باعث ٹریفک کے نظام پر مزید دباؤ آنا ہے لیکن اس سے قبل سڑکوں کو کھولنے اور بی آر ٹی کے بھاری کاموں کی تکمیل کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ ہمارے رپورٹر کی خبر میں بی آر ٹی کے اعلیٰ افسران کی آمد وروانگی، استعفوں اور اختلافات کی جو حقیقت آشکار کی گئی ہے اس سے انکار کی گنجائش نہیں۔خیبر پختونخوا حکومت کے واحد میگا پراجیکٹ پشاور میٹرو بس منصوبے کی تکمیل کیلئے ایک بھی اعلیٰ آفسر زیادہ وقت تک اپنے عہدے پر برقرار نہ رہ سکا، اندرونی اختلافات، افسران کی گروپ بندی اور اختیارات کی جنگ کے باعث سیکرٹری ٹرانسپورٹ اور ٹرانس پشاور کمپنی کے اعلیٰ افسران مسلسل تبدیل کئے گئے یاان کو مستعفی ہونا پڑا ۔ پشاور میٹرو بس منصوبے کے ابتداء ہی میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ کے عہدے پر تین افسران مسلسل تبدیل کئے گئے ایک ایسے وقت میں جبکہ بی آر ٹی کی تکمیل کیلئے دن رات ایک کرنے کی ضرورت تھی لیکن اُلٹے بانس بریلی کو سیکرٹری ٹرانسپورٹ کے عہدے پر تعینات اور میٹروبس منصوبے کے اہم معاملات سے وابستہ سینئر افسر کو اچانک تبدیل کرکے ان کی خدمات پنجاب حکومت کے حوالے کر دی گئیں۔ پشاور میٹروبس منصوبے کے دس ماہ کے دوران اعلیٰ عہدوں پر ایک درجن سے زیادہ تبادلوں اور استعفو ں کی وجہ سے منصوبے پر منفی اثرات بھی مرتب ہوتے رہے اورکام سست روی کا شکارہوتا رہا۔ چین سے گاڑیوں کی خریداری کیلئے روانگی کے عین موقع پر سینئر افسر کا تبادلہ اسلئے ناقابل فہم نہیں کہ اس کے پس پردہ ضرور کوئی مفاد یا سازش پوشیدہ ہے۔ علاوہ ازیں کوئی حکمت ہے تو حکومت کو اس سے عوام کو آگاہ کرنا چاہئے۔ اس منصوبے میں جس طرح اعلیٰ افسران کی پریڈ لگی رہی اس سے انتظامی سقم کیساتھ ساتھ کشاکشی اور سازشوں کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان اس منصوبے کے بارے میں پرعزم ضررو ہیں لیکن معروضی حقائق اس امر پر دال ہیں کہ اس منصوبے کا افتتاح رواں سال ممکن نہیں اور نجانے مزید کتنا عرصہ پشاور کے عوام کو امتحان کے دن گزارنے پڑیں گے۔

متعلقہ خبریں