پاک افغان کشیدگی باعث تشویش امر

05 ستمبر 2018

جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کی بندش کے ناخوشگوار واقعے پر دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ مثبت امر ہے لیکن مشکل امر یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو تشویش کی بات ہے۔ گزشتہ سال ہی افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پیشکش کی تھی کہ وہ پاکستان سے جامع سیاسی مذاکرات کیلئے تیار ہے۔ پاکستان کیساتھ امن افغانستان کا قومی ایجنڈا ہے، ایک ایسا امن جس کی بنیاد سیاسی نظریہ پر ہو۔ حالیہ مہینوں میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات خاصے کشیدہ رہے ہیں۔ افغانستان کی حکومت کو اس امر کا احساس ہونا چاہئے کہ وہ پاکستان کیساتھ تعلقات میں بگاڑ لا کر خطے کے امن کو بھاڑ میں جھونک رہا ہے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی ہو تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کے معمول پر آتے ہی قیام امن اور استحکام امن کی منزل شروع ہونا عجب نہ ہوگا۔ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے وابستہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان خلش اور چپقلش کے باعث سرحد کے دونوں طرف بے چینی کی فضا طاری رہتی ہے۔ افغانستان میں بھارت کی موجودگی اور اسے خصوصی حیثیت ملنا ہی اختلاف کی وہ بنیاد ہے جس کے باعث پاکستان افغانستان کیساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانے اور اعتماد کرنے پر تیار نہیں، وگرنہ افغانستان ہمارا برادر اسلامی ہمسایہ ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جغرافیائی اتصال کے علاوہ خطے کے عوام کی بڑی تعداد ہم نسل وہم ثقافت بھی ہیں۔ افغانستان کو اپنے فیصلے آزادانہ اور اپنے قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کرنے کی ضرورت ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جلد ہی اعلیٰ سطح پر وفود کے تبادلے ہوں گے اور سفارتی ذرائع سے جلد سے جلد بات چیت کا آغاز ہوگا اور خطے کے عوام جلد ہی ایک مثبت تبدیلی دیکھ سکیں گے۔

تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک کرنے کی سنجیدہ مساعی

خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک کرنے کی مساعی اکثر وبیشتر ہوتی رہتی ہیں اسی طرح کی سنجیدہ سعی اس وقت بھی ہو رہی ہے جس میں جملہ حکام مل کر طلبہ کو نشے کی لعنت میں مبتلا ہونے سے بچانے کیلئے کوشاں ہیں۔ اس قسم کے سنجیدہ اقدامات سے ہی بہتری ممکن ہے یہ حقیقت بھی نظر انداز کرنے کی نہیں کہ خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال نہایت سنگین معاملہ بن چکا ہے۔ حیرت اور استعجاب کی بات یہ ہے کہ نوجوان لڑکیاں بھی منشیات کا استعمال کرنے لگی ہیں۔ اس طرح کے حالات میں انسداد منشیات کے ادارے، پولیس، تعلیمی اداروں کے منتظمین، اساتذہ اور والدین کو مطعون کرنا غلط نہیں لیکن اس سنگین مسئلے کو صرف ان کی ذمہ داری گردان کر بر ی الذمہ ہونے کا عمل بھی درست نہیں۔ اس مسئلے کا حل عدالتوں کے پاس بھی نہیں اس مسئلے کا حل قومی سطح پر بیداری کی لہر پیدا کر کے نوجوان نسل کو اس سے بچانے کیلئے مختلف النوع اقدامات کرنے میں ہے۔ ہمیں مل جل کر بچوں کو گھر، تعلیمی اداروں اور باہر ایسا معاشرہ دینا ہوگا جہاں یہ رجحان ہی پیدا نہ ہو۔ اس کے بعد منشیات کی مکمل روک تھام کیلئے جملہ اداروں کو اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کا سختی سے پابند بنانا ہوگا اور منشیات سپلائی کرنے کے تمام راستوں کو بند کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں میں طالب علموں کے خون کا نمونہ حاصل کرکے اس کا تجزیہ بھی تعلیمی اداروں میں نشے کے عادی افراد کی صحبت سے دوسرے طالب علموں کو بچانے کیلئے کارآمد نسخہ ہوگا۔ بڑے بڑے سکولوں میں بھی ایسا کرنے کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں۔

مزیدخبریں