Daily Mashriq


پارلیمان اپنی ذمہ داری پوری کرے

پارلیمان اپنی ذمہ داری پوری کرے

طالب علم کی دانست میں وقت آگیا ہے کہ پارلیمان ہمہ قسم کی انتہا پسندی اور نفرتوں کے بیوپار کیخلاف ازسرنو قانون سازی کرے۔ یہ جو گلی گلی بھان متی کے کنبے فتویٰ گیری اور جنونیت کو ہوا دے رہے ہیں اس سے معاملات مزید بگڑیں گے۔ ہم اسے بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ حالیہ انتخابات سے قبل کی انتخابی مہم کے دوران خود تحریک انصاف کے امیدواروں بلکہ جماعت کی سطح پر بھی محض میاں نواز شریف سے نفرت میں انتہا پسندی کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ اب پچھلے دو دن سے سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کا چہرہ سمجھنے جانے والے بعض خواتین وحضرات اقتصادی مشاورتی کونسل کے ارکان کے مذہبی حوالوں کو زیر بحث لاتے ہوئے نامناسب زبان برت رہے ہیں۔ صد افسوس کہ سندھ اسمبلی کی سابق ڈپٹی سپیکر سیدہ شہلا رضا نے صرف عمران خان سے نفرت میں ایک ایسی ٹویٹ کر دی جس پر بہت لے دے ہوئی، چند گھنٹوں بعد ان کا نیا مؤقف سامنے آیا۔ ’’جس اکاؤنٹ سے پہلی ٹویٹ ہوئی وہ جعلی ہے‘‘۔ ایک سوال ان سے ہے۔ جس اکاؤنٹ کو انہوں نے 3ستمبر کو جعلی قرار دیا یہ لگ بھگ دوسال سے ایکٹو ہے۔ ان دو سالوں کے دوران انہوں نے کارروائی کیوں نہ کی؟۔

ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اجتہار ریاست کا کام تھا نہ ہے۔ مسلم مکاتب فکر کے اندر اجتہار کا اپنا اپنا طریقہ کار ہے۔ لازم یہ ہے کہ یہ مکاتب فکر ایک دوسرے کے اجتہار کا احترام تو کریں مگر ریاست کو مجبور نہ کریں کہ وہ کسی مسلک کے اجتہار کو اپنا بیانیہ بنالے۔ ہمارے سماج کا بنیادی المیہ یہ ہے کہ دولے شاہ کے چوہوں کے ہاتھ کلہاڑا آگیا ہے اب وہ اپنی اپنی فہم کو دوسرے کی توہین یا خون سے سچ ثابت کرنے کی دوڑ میں جتے ہوئے ہیں۔ سال بھر قبل سے ان سطور میں تواتر کیساتھ عرض کرتا آرہا ہوں کہ مسلکی انتہا پسندی اور دیگر مذاہب کیلئے عدم احترام کا رویہ ہمیں بربادیوں کے سوا کچھ نہیں دے گا۔ ہم سے طالب علموں کیلئے ریاستی دستور اہم ترین دستاویزات ہے۔ اپنی ضرورتوں کے مطابق دستوری ترامیم دنیا کے ہر ملک میں ہوتی ہیں مگر کوئی دستور اپنے شہریوں کے سیاسی، سماجی، معاشی اور مذہبی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرتا بلکہ اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ شہریوں سے ہر ہر معاملے میں مساوی برتاؤ ہو۔ تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کو مذہبی ریاست بنانے اور مذہبی ریاست کے طور پر پیش کرنے میں وہ عناصر پیش پیش ہیں جن کے بزرگوں نے اپنے اپنے دینی فہم کی روشنی میں تقسیم ہند کی مخالفت کی تھی۔ اعتزاز احسن پر مولانا فضل الرحمن نے اتوار دو ستمبر کو جو تنقید کی اس کا ایک ایک لفظ جناح صاحب کی 11اگست 1947ء والی تقریر کے منافی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے چند نابالغ برصغیر کے بٹوارے کے زمینی حقائق سے منہ موڑ کر اس بٹوارے کو خالص مذہبی رنگ دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ حضرات پاکستان کو خالص مذہبی ریاست بنانے کا ثواب پانے کیلئے ہر حد سے گزر جانے کو عین اسلام قرار دیتے ہیں مگر دوسرے ہی سانس میں وہی لوگ بھارت سے اپنے دستور کی سیکولر روایات کے تحفظ کا مطالبہ کرتے اور بھارتی اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کے نعرے بلند کرتے ہیں۔

کیوں نہ اس سے پوچھ لیا جائے کہ بندگان خدا! پاکستان میں جو دیگر مذاہب کے لوگ آباد ہیں ان کے سیاسی، سماجی، معاشی اور مذہبی حقوق سے انکار کن بنیادوں پر کیا جا رہا ہے؟۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک فلاحی جمہوری ریاست ہی مساوات کے ابدی اصولوں کا تحفظ کر سکتی ہے۔ کسی مذہبی ریاست میں یہ ممکن ہی نہیں کہ دوسرے مذاہب کو مساوی حیثیت حاصل ہو، صاف سیدھے انداز میں یہ کہ ریاست اور دستور ہر دو کا کام شہریوں کے مذہبی حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے۔ یہ اسی طور ممکن ہے جب پارلیمان ازسرنو قانون سازی کرے، فتویٰ سازی کے کھیل اور سیاسی مقاصد کیلئے دیگر مذہبی برادریوں کی توہین کو بھی مساوی طور پر قانون شکنی قرار دے۔ پچھلی سات دہائیوں میں جو ہوگیا سو ہوگیا۔ اچھے برے فیصلوں کا بوجھ اٹھانا ہی پڑے گا۔ فی الوقت یہ امر مدنظر رکھنا ہوگا کہ سماجی وحدت کے منافی نظریات کے پرچار اور دیگر معاملات میں عقائد کو ہتھیار بنانے پر قدغن لگائی جائے۔ اکیسویں صدی کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی انسان جبر، غلامی، اخلاقی زوال، جہالت اور استحصال کا شکار ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم ہے۔ استحصالی طبقات اپنے وسائل کی بنیاد پر انسانوں پر ظلم وستم کرتے ہیں جو معاشرے میں بگاڑ کی وجہ بنتا ہے۔ 1973 کے آئین کے مطابق شہریوں کیلئے تمام بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کو ریاست کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ آئین پاکستان ریاست کو لوگوں کی تعلیم، صحت، تحفظ، روزگار، انصاف، برابری کے حقوق، تنظیم سازی کا حق اور آزادی رائے سمیت تمام انسانی حقوق کے تحفظ کا پابندکرتا ہے۔

یہاں تحریک انصاف کے دوستوں کی خدمت میں بھی عرض کرنا ہے کہ اب آپ کی جماعت حزب اختلاف میں نہیں بلکہ برسر اقتدار ہے۔ اپوزیشن کے دنوں کی غیرذمہ دارانہ گفتگو اور انداز سیاست ہر دو سے پرہیز لازم ہے۔ پاکستان پر اس میں آباد 22کروڑ لوگوں کا نسلی ومذہبی شناختوں سے ہٹ کر مساوی حق ہے۔ یہاں سب برابر کے شہری ہیں، اچھوت کوئی بھی نہیں، احترام انسانیت سب پر واجب ہے۔ آخری بات یہ کہ مذہبی منافرتوں کا شکار ریاستوں کی ابتر حالت ہمارے سامنے ہے۔ ہمارے مسائل ہی مختلف نہیں دیگر امور بھی دوسروں سے جدا ہیں۔ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے سماج کی ضرورتوں کو کھلے دل کیساتھ سمجھیں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ سماجی، سیاسی، معاشی اور مذہبی بنیادوں پر کسی کا استحصال نہ ہو۔ عادلانہ نظام، سماجی ومعاشی مساوات اور محبتوں کو پروان چڑھا کر ہی ایک قومی جمہوری فلاحی ریاست تشکیل دی جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں