Daily Mashriq


جو اس شور سے میر روتا رہے گا

جو اس شور سے میر روتا رہے گا

ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا۔ اسداللہ خان غالب نے اپنے شعر کے اس مصرعہ میں اگر اتنی بڑی بات کر دی ہے تو اس کے کچھ نہ کچھ محرکات ضرور ہوںگے، غالب جان گئے تھے کہ انہوں نے جو دکھ اور مصیبتیں اٹھائی ہیں، اس کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے ان کے وجود زیست کا ہونا، اس کا اس دنیائے آب وگل میں آنا، اگر ان کی زندگی کا یہ بانس نہ ہوتا تو کبھی بھی دردبھری بنسریا نہ بجتی، اگر اماں حوا کو شیطان نہ ورغلاتا اور بابا آدم جی اپنی سجنی کی فرمائش پر شجر ممنوعہ کا پھل نہ کھاتے تو شاید وہ جنت سے نکال باہر نہ کئے جاتے اور

مگس کو باغ میں جانے نہ دیجیو

کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا

کے مصداق نہ وہ ڈوبتے اور نہ انہیں اپنے ہونے کا شکوہ یا شکایت کرنے کی ضرورت پڑتی، سارا قصور اس ہونے کا ہے۔ ہمارے ہونے یا اس دنیا میں آنے کے بہت سے منفی اور مثبت پہلو ہیں، ہمیں اس عالم رنگ وبو میں بھیجنے والا ہم سے اپنی بندگی کی توقع کرتے ہوئے مولانا روم علیہ رحمت کی زبان میں ہم سے مخاطب ہوتا ہے کہ

زندگی آمد برائے بندگی

زندگی بے بندگی شرمندگی

یعنی کہ ہمیں زندگی محض اس لئے عطا ہوئی کہ ہم ہمہ وقت مالک کن فیکون کی عبادت میں مصروف رہیں اور یوں اس کی بھرپور خوشنودی حاصل کرکے اس دارالمکافات سے رخصت ہوں جبکہ دوسری طرف پیر رومی کے مرید دانائے راز مولانا روم کے اس سچ سے پردہ اُٹھاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کیلئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

بات تو اقبال نے بھی دل کو بھانے والی کہی اور اللہ کی خوشنودی کے حصول یا اس کی بندگی کو خدمت خلق سے مشروط کر دیا، بندگان خدا کی خبرگیری اور ان کے دکھ سکھ میں کام آنے کی شرط لگا دی، لوگ کہتے ہیں کہ پتھر ہوتا ہے و ہ انسان جو کسی کے کام نہیں آتا، ہم یہاں آئے ہیں ایک دوسرے کے درد بانٹنے، جب ہی تو مغرب کے دانشوروں نے ہمیں سماجی جانور کہہ کر پکارا، ہم اگر مل جل کر ایک دوسرے کا دکھ درد نہ بانٹیں تو بیکار ہے ہماری یہ زندگی،

ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے

آتے ہیں جو کام دوسروں کے

اور سچ پوچھیں تو وہ لوگ کتنے برے ہوتے ہیں جو زندگی کا مقصد ہی بھول کر، چوری چکاری، دوسروں کے حق مارنا، اختیار اور اقتدار سے ناجائز فائدہ اٹھانا اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتے ہیں، جب اقتدار ہاتھ میں آتا ہے تو منی لانڈرنگ کرکے ملک اور قوم کی دھن دولت بیرون ملک منتقل کر دیتے ہیں، یہ ناعاقبت اندیش لوگ ملک اور قوم کے مجرم ہونے کے علاوہ اللہ کے قہر وغضب کو بھی پکارنے لگتے ہیں اور جب ان عقل کے اندھوں کے سر پر ان کے کرتوتوں کی بجلی کڑکنے لگتی ہے تو یہ مجھے کیوں نکالا اور مجھے کیوں اندر کیا کی رٹ لگانا شروع کر دیتے ہیں، کاش ان کو اس بات کا علم ہوتا کہ ان کے کئے کی سزا بے چارے غریب عوام بھگت رہے ہیں، قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے بہت سے لوگ ایک وقت کی روٹی کیلئے ترستے رہتے ہیں، گھونٹ پانی پینے کیلئے نت نیا کنواں کھودتے ہیں اور پھر بھی پیاسے کے پیاسے رہ کر جیتے جی مر جاتے ہیں، وہ بھیک نہیں مانگتے جینے کا حق مانگتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے آج یعنی 5ستمبر کا دن ان ہی لوگوں کیلئے مخصوص کرکے اسے عالمی چیریٹی ڈے کا نام دیا ہے، صد شکر کہ کچھ تو اندیشہ ہے قاضیان عالم کو اس عالم رنگ وبو میں جی جی کر مرنے والے نسل بنی آدم کے غریبوں، مسکینوں، ناداروں اور بے کسوں کا، لیکن یہاں میں آپ کو بتاتا چلوں کہ آج سے چودہ سو انتالیس سال پہلے ہمارے دین اسلام کی تعلیمات میں غریبوں اور مسکینوں کی دستگیری کا بڑے واضح الفاظ میں حکم دیا ہے، صدقہ، خیرات، فطرانہ، زکوٰۃ کتنے عنوان سے پکارا ہے غرباء ومساکین کی امداد کرنے کے اس نیک عمل کو اور کتنا کتنا نصاب مقرر کیا ہے، ہم جانتے ہیں ایسا کرنے سے غربت جیسی قبیحہ معاشرتی ناہمواری کو ختم نہیں کیا جاسکتا، دینی تعلیم کی روشنی میں ہم نے غربت مارے معاشرے کو کلہاڑیاں بنا کر دینی ہیں، ان کو برسر روزگار بنانا ہے، ہم کو سال کے 365دن میں صرف ایک روز کیلئے چیریٹی ڈے منانے کا حکم نہیں ہمیں تو ساری زندگی غریبوں، مسکینوں، بے کسوں اور بے سہاروںکی دستگیری کرنی ہے۔

سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی

سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی

لگے رہیں سال کے تین سو پینسٹھ دنوں میںصرف ایک دن چیریٹی ڈے کے عنوان سے دھواں دھار تقریں کرنے میں اور لگے رہیں چیریٹی شو منا کر غریبوں اور مفلوک الحال لوگوں کی مجبوریوں کوکیش کرنے میں، ہم نے تو بس دیرا دینا تھا اس پیغام بلاغت نظام کو جو موجود ہے کلام مجید فرقان حمید میں جس میں صاحب ثروت لوگوں کو کہا گیا ہے کہ اگر تمہاری ہمسائیگی میں کوئی فرد ایک رات بھی بھوکا سویا تو اس کے جواب دہ تم ہوگے۔ آج ورلڈ چیریٹی ڈے ہے، نہ رہ سکیں گے ہم چپ آج کے دن، جی بھر کر روئیں گے غربت مارے لوگوں کے نصیبوں کو اور میرتقی میر جی کہتے رہ جائیں گے

جو اس شور سے میر روتا رہے گا

تو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا

متعلقہ خبریں