Daily Mashriq


وزیربلدیات، شجرکاری اور زرخیز اراضی کی تباہی

وزیربلدیات، شجرکاری اور زرخیز اراضی کی تباہی

میرے لئے بڑی حوصلہ افزائی اور آسانی کی بات یہ ہے کہ اس کالم کیلئے میرے قارئین کرام رواں موضوعات کے حوالے سے برقی پیغامات بھجواتے ہیں۔ اس ہفتے کا رواں موضوع شجرکاری کے حوالے سے ایک خاتون کا برقی پیغام حیات آباد فیز6 سے موصول ہوا ہے جس میں خاتون نے ایک ایسے معاملے کی نشاندہی کی ہے جس پر وزیربلدیات کو ضرور غور کرنا چاہئے۔ خاتون کے مطابق ایف9 میں مسجد ابوہریرہ کے پہلو میں اور اس کی پشت پر کافی موزوں جگہ موجود ہے ایسا لگتا ہے کہ اس اراضی پر حیات آباد کیلئے زمین کے حصول سے قبل کاشت ہوتی تھی۔ میدان کی مٹی بڑی زرخیز ہے۔ یہ جگہ پودے لگانے کیلئے ہر لحاظ سے موزوں ہے مگر پی ڈی اے حکام نے یہاں غیرقانونی پارکنگ بنایا ہوا ہے اور لوگوں سے رقم بٹور رہے ہیں۔ شنید ہے کہ پارکنگ سٹینڈ کا مالک پی ڈی اے میں ڈائریکٹر ہیں، یہ قطعہ اراضی پارکنگ ایریا نہیں اور نہ ہی اسے نیلام کے ذریعے پارکنگ کیلئے حاصل کیا گیا ہے۔ مسجد کے پہلو اور پشت پر اس میدان میں پودے لگائے جائیں اور اسے پارک میں تبدیل کیا جائے تو شجرکاری اور پارک دونوں ضروریات پوری ہوں گی۔ اسی طرح کی اراضی بنگش مارکیٹ کے پاس بھی موجود ہے، اس قطعہ زمین کو بھی غیرقانونی پارکنگ میں تبدیل کیا گیا ہے گوکہ یہ زمین قدرے بنجر ہے مگر یہاں گڑھے کھود کر اسے مناسب مٹی سے بھر کر پودے لگائے جائیں تو پودے بڑھتے بڑھتے اس سخت زمین کا مقابلہ کر پائیں گے۔ اسی طرح ایف9 کی مسجد ابوذر غفاری کے عقب میں بھی وسیع اراضی موجود ہے اس میں بھی شجرکاری ہو سکتی ہے۔ حیات آباد کے تمام فیزز کے تقریباً ہر سیکٹر میں اس قسم کے چھوٹے بڑے قطعات اراضی اور سڑکوں کے کنارے گلیوں کے دونوں جانب شجرکاری کیلئے بے پناہ جگہے موجود ہیں۔ وزیربلدیات پی ڈی اے کے اعلیٰ حکام سے ان اراضیات کے استعمال وافادیت بارے رپورٹ طلب کرے اور اگر ممکن ہو تو ایک چکر لگا کر دیکھ بھی لیں تو سرسبز حیات آباد کی اچھی ابتداء ہوسکے گی۔ بی آر ٹی کے باعث جہاں دوسرے علاقوں کا گرین بیلٹ متاثر ہوا ہے وہاں حیات آباد کا سب سے خوبصورت گرین بیلٹ اور قیمتی درخت زد میں آئے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اس کا ازالہ کرنے کیلئے موجود مواقع سے فائدہ اُٹھایا جائے۔

مواقع سے فائدہ اُٹھانے والے اتنے بے رحم ہوتے ہیں کہ اپنے مفاد کی خاطر بستیاں اُجاڑنا اور ہرے بھرے کھیتوں کو تاراج کرنے سے ذرا بھی دریغ نہیں کرتے۔ ایک طویل خط پشتون گڑھی ضلع نوشہرہ سے عباداللہ خان کا ملا ہے جس میں انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار‘ وزیراعظم عمران خان‘ چیئرمین قومی احتساب بیورو اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی توجہ گاؤں موضع پشتونگڑھی ضلع نوشہرہ میں ایک غیرضروری اور نامناسب بائی پاس لنک روڈ کی تعمیر کے منصوبے کی طرف دلائی ہے جس کی منظوری گزشتہ صوبائی حکومت کے آخری سال میں دی گئی تھی۔ 6کلو میٹر طویل اور 55فٹ چوڑی یہ مجوزہ سڑک خزم پل سے شروع ہوکر اور زرعی زرخیز زمینوں میں سے گزرتی ہوئی جی ٹی روڈ سے منسلک ہوگی جس سے ایک طرف زرعی زرخیز زمینیں ویران ہوں گی تو دوسری طرف چھوٹے زمین مالکان کی پوری جائیداد اس سڑک کی نذر ہو کر وہ اس سے محروم ہو جائیں گے اور بدلہ میں ان کو جو معاوضہ دیا جائے گا وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر بھی نہ ہوگا۔ اس طرح سے یہ ان کے روزگار چھیننے اور معاشی قتل کے بھی مترادف ہوگا کیونکہ اکثریت کا ذریعہ معاش کاشتکاری ہے اور اگر زمین ہی نہ رہی تو وہ فصل کاشت کہاں کریں گے۔ اس رابطہ سڑک کی تعمیر کی توجیہہ یہ پیش کی جا رہی ہے کہ اس سے پشتونگڑھی کی مین سڑک پر بھاری گاڑیوں کا رش کم ہو جائے گا حالانکہ اگر مین سڑک کو کشادہ کر دیا جائے تو اس پر لاگت بھی کم آئے گی اور کاشتکار اپنی زرعی زمین سے بھی محروم نہیں ہوں گے۔ ایک مناسب متبادل موجود ہونے کے باوجود سڑک زرعی اراضی سے گزارنے میں عوام کا مفاد تو نظر نہیں آتا البتہ خواص کے شاطرانہ منصوبوں کا علم نہیں۔ مجوزہ سڑک کے قریب ہی دہائیوں سے راہگیروں اور بیل گاڑیوں کے زیر استعمال ایک کچا راستہ بھی ہے جس کو صرف پختہ کرکے سڑک تعمیر ہو سکتی ہے مگر زرعی زمینوں کے بیچوں بیچ سڑک تعمیر کرنے کا ایک ہی واضح مقصد مبینہ طور پر چند افراد کے پراپرٹی بزنس کو فائدہ پہنچانا نظر آتا ہے جن کا کچھ فاصلے پر زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹی کے قیام کا ارادہ ہے اس طرح ان کی زمینوں کی قیمتیں ایک دم سے بڑھ جائیں گی۔ اگر دیکھا جائے تو ایک لحاظ سے مجوزہ سڑک تعمیر کا منصوبہ پاکستان کو سرسبز بنانے اور درخت لگاؤ مہم کے بھی منافی ہے کہ زرعی زمینوں کو روند کر تارکول کی کالی چادر بچھا دی جائے۔ آج کل حکومت درخت لگانے کی مہم زور وشور سے چلا رہی ہے لیکن یہاں اس کے برعکس زرعی زمین کو خراب کیا جا رہا ہے۔ زمین مالکان کا کہنا ہے کہ اگر زور زبردستی ان کی زمینیں چھینی گئیں تو احتجاج کریں گے۔ کیا ہمارے ملک کے آئین اور قانون میں اس کی اجازت ہے کہ راتوں رات کسی کے بھی مالکانہ حقوق غصب کرکے صرف چند لوگوں کو نوازنے کی خاطر ایک ایسا منصوبہ بنایا جائے جس کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے۔ لہٰذا چیف جسٹس آف پاکستان‘ وزیراعظم پاکستان‘ چیئرمین نیب سے درخواست ہے کہ اس منصوبے کا فی الفور نوٹس لیا جائے اور تحقیقات کروائیں کہ کس کے کہنے پر کس نے اور کس کو نوازنے کی خاطر یہ منصوبہ تیار کیا گیا۔ اس لاحاصل منصوبے کو فوراً ترک نہ کیا گیا تو عوام اس کی مزاحمت سے گریز نہیں کریں گے اور ہر ممکنہ اقدام کرنا فطری امر اور مجبوری ہوگی۔

متعلقہ خبریں