پاکپتن واقعہ اور چند حقائق

05 ستمبر 2018

گزشتہ دنوں پاکپتن میں مانیکا فیملی کیساتھ ایک واقعہ پیش آیا‘ جسے سوشل میڈیا‘ الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں خوب اچھالا گیا کیونکہ اس واقعہ کے ذریعے کارسرکار میں مداخلت کی خاتون اول بشریٰ بی بی اور وزیراعظم عمران خان کیساتھ کڑیاں ملانے کی کوشش کی گئی تھی جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں تھا۔ میڈیا میں اس واقعے سے متعلق دو طرح کی آراء سامنے آئی ہیں‘ ایک رائے کے مطابق قصوروار مانیکا فیملی اور اس کی پشت پناہی کرنے والے سرکاری وغیرسرکاری افراد ہیں جبکہ دوسری رائے کے مطابق ڈی پی او رضوان عمر گوندل قصوروار ہیں۔ سپریم کورٹ کی طرف سے اس واقعے کے ازخود نوٹس لینے کے بعد ایڈیشنل آئی جی ابوبکر خدا بخش کی جانب کی گئی تحقیقاتی رپورٹ بھی سامنے آ چکی ہے جس میں واضح طور پر کسی ایک فریق کو قصوروار نہیں ٹھہرایا گیا ہے بلکہ ایک لحاظ سے معاملہ سلجھنے کے بجائے اُلجھ گیا ہے۔ تاہم ایک بات جو اس سارے منظرنامے میں متفقہ ہے کہ پولیس کے معاملات میں سیاسی مداخلت کی گئی ہے لیکن یہ مداخلت عمران خان یا بشریٰ بی بی کی طرف سے نہیں کی گئی جیسا کہ عام تاثر قائم کیا جا رہا ہے۔

مانیکا فیملی سے متعلق میڈیا پر گردش کرنے والے واقعے کا پس منظر جانے بغیر حقائق تک پہنچنا بہت مشکل ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ 23اور24اگست کی درمیانی شب پیش آنے والے واقعے سے پہلے 5اگست کو بھی ایک واقعہ پیش آچکا ہے، وہ واقعہ یہ تھا کہ خاور فرید مانیکا کی صاحبزادی مبشرہ اور صاحبزادہ ابراہیم مانیکا عقیدت کے تحت بابا فرید کے مزار پر برہنہ پا جا رہے تھے، جنہیں ایلیٹ فورس کی چار گاڑیوں نے محض شک کی بنیاد پر روکا اور بازپرس کی۔ خاور مانیکا کے بچوں نے اپنے والد یعنی خاور فرید مانیکا کو اس واقعہ سے متعلق آگاہ کیا‘ بات آئی گئی ہو گئی لیکن بابا فرید دربار پر پیش آنیوالا یہ واقعہ اثر چھوڑ گیا کہ مانیکا فیملی کیخلاف آخر کون سازش کر رہا ہے؟

خاور فرید مانیکا اور بشریٰ بی بی کے مابین ازدواجی رشتہ ختم ہونے کے بعد حالات کشیدہ ہیں اس لئے خاور فرید مانیکا کا ذہن اس طرف بھی گیا کہ کہیں بشریٰ بی بی ان پر دباؤ نہ ڈال رہی ہوں۔ جب 23 اور 24اگست کی شب خاور مانیکا اپنی نئی دلہن کیساتھ بابا فرید دربار سے واپس پیر غنی جا رہے تھے تو راستے میں انہیں ایلیٹ فورس کے اہلکاروں نے روکا جسے انہوں نے نظرانداز کر دیا اور چلتے رہے۔ ایلیٹ فورس کے اہلکاروں نے ان کا تعاقب کرتے ہوئے انہیں روک لیا۔ خاور مانیکا گاڑی سے باہر آئے اور پولیس اہلکاروںکو اپنا تعارف کرایا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مانیکا فیملی کی تذلیل کی جا رہی ہے، تمہارا ڈی پی او کہاں ہے؟ پولیس اہلکاروں نے ڈی پی او رضوان عمر گوندل سے خاور مانیکا کی بات کرائی، ڈی پی او نے سکیورٹی اداروں کی جانب سے مانیکا فیملی کو درپیش سکیورٹی خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کی حفاظت کیلئے اقدامات ہیں، ڈی پی او سے بات کے بعد پولیس اہلکاروں نے ان کا راستہ تو چھوڑ دیا لیکن خاور مانیکا کو پولیس کا اس طرح کا رویہ پسند نہ آیا اور انہوں نے ڈی پی او کو کہا کہ اب اس مسئلے کو میں خود دیکھ لوں گا۔ یاد رہے کہ یہاں تک معاملہ کنٹرول میں تھا‘ اس کے بعد کہانی میں نیا موڑ آتا ہے اور ڈی پی او رضوان عمر گوندل کو رات کے کسی پہر عہدے سے برطرف کر کے ڈی پی او سے او ایس ڈی بنا دیا جاتا ہے‘ اس کیخلاف رضوان عمر گوندل کی جانب سے ردِعمل آتا ہے‘ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور احسن جمیل گجرکا نام لیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ احسن جمیل گجر خاتون اول کی دوست فرح کے شوہر ہیں۔ جب بات سوشل میڈیا پر آتی ہے اور یہ تاثر قائم کیا جاتا ہے کہ ایک فرض شناس اعلیٰ پولیس افسر کو سیاسی دباؤ پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے تو عوام کی جانب سے شدید ردِعمل آتا ہے اور ایک مفروضہ گھڑ لیا جاتا ہے کہ خاتون اول نے اپنے سابقہ شوہر کو بچانے کیلئے ڈی پی او رضوان گوندل کو برطرف کرایا۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خاور مانیکا اپنے خلاف کی جانے والی سازش کا ذمہ دار خاتون اول کو ٹھہرا رہے ہیں‘ یہ بھی حقیقت ہے کہ خاور مانیکا کے بھائی ن لیگ کی طرف سے اُمیدوار تھے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکپتن والے واقعے کیساتھ عمران خان یا خاتون اول کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگرچہ احسن جمیل گجر جوکہ خاور مانیکا فیملی کے مشترکہ دوست ہیں انہوں نے بھی ا س معاملے کو اپنے تئیں سلجھانے کی کوشش کی ہے لیکن وزیراعلیٰ ہاؤس سے ڈی پی او کو فون جانا اور احسن جمیل کی مداخلت نے اس واقعے کو یہ رنگ دیدیا کہ ایک غیرسرکاری اثر ورسوخ والا شخص سرکاری معاملات میں مداخلت کا مرتکب ہو رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اب تک ان تمام حالات سے اپنے آپ کو لاتعلق رکھنے کی کوشش کی جو خوش آئند عمل ہے۔ اب جبکہ چیف جسٹس نے اس واقعہ کا ازخود نوٹس لے لیا ہے تو چند روز میں اس معاملے کی اصل حقیقت عوام کے سامنے آجائے گی لیکن شواہد موجود ہیں کہ ڈی پی او کو برطرف کرنے میں سیاسی مداخلت بھی ہوئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم کو اس سیاسی مداخلت کا نوٹس لینا چاہئے اور ذمہ داران کیخلاف اپنے طور پر تادیبی کارروائی بھی عمل میں لانی چاہئے کیونکہ جب تک پولیس سیاسی مداخلت سے پاک نہیں ہوگی ایک نئے پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔

مزیدخبریں